اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

قرضوں کا بوجھ

ورلڈ بینک کی ’ گلوبل ڈیٹ رپورٹ 2026ء ‘کے مطابق گزشتہ دس سال میں پاکستان کا بیرونی قرضہ تقریباً دو گنا ہو کر 135 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ 2015ء میں بیرونی قرضہ 68.7ارب ڈالر تھا جو 2025ء میں بڑھ کر 135.1ارب ڈالر تک پہنچ چکا۔ اس وقت قومی خزانے کا تقریباً نصف قرضوں اور انکے سود کی ادائیگیوں میں خرچ ہو رہا ہے اورپرانے قرضے اتارنے کیلئے نئے قرض لیے جارہے ہیں۔ قرضوں میں غیر معمولی اضافے کے باوجود معیشت کے حجم میں کوئی نمایاں ترقی نظر نہیں آتی؛چنانچہ قرض اتارنے کیلئے مزید قرض لینے کی حاجت بڑھتی چلی جاتی اور عوامی ترقی کے منصوبوں پر خرچ کرنے کے بجائے قومی سرمائے کا غالب حصہ انہی قرضوں کی نذر ہو جاتا ہے ۔ملکی معیشت کو قرضوں میں کمی کی مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

یہ درست ہے کہ معیشت میں ابھی وہ دم خم نہیں کہ ہر سال کی قومی ضروریات اور ادائیگیوں کابوجھ اٹھا سکے ؛مگر کچھ ایسا ضرور کیا جاسکتا ہے جو قرضوں کے رجحان کو کم کرنے میں مدد کر سکے۔ اس سلسلے میں پہلا اور بنیادی قدم قومی سطح پر بچت کی مؤثر حکمت عملی پر شفاف عملدرآمد ہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں انفرادی اور قومی سطح پر معاشی تنگدستی کے باوجود اسراف کا رجحان ہے۔ حکومتیں دعوے تو بہت کرتی ہیں مگر کسی مؤثر اور نتیجہ خیز بچت کی پالیسی کا ابھی انتظار ہے۔جب تک یہ رویے نہیں بدلتے اور قومی پیداوار میں اضافے کے اقدامات نہیں کیے جاتے قرضوں کے گھن چکر سے چھٹکارا کیونکر ممکن ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں