سیاسی ترجیحات بدلنے کی ضرورت
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا سیاسی جماعتوں کو اختلافات بھلا کر عوام کی معاشی مشکلات اور ملکی مسائل کی جانب توجہ دینے کا مشورہ صائب ہے۔ گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے اس حوالے سے جو کچھ کہا وہ ملکی حالات کی صحیح ترجمانی اورعوامی مسائل کی درست نشاندہی کرتا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ عوام کی معاشی حالت شدید تشویش کا شکار ہے‘ اور اس پر مستزاد وہ سیاسی تناؤ جو سماجی سطح پر اور ملک کی سائبر سپیس میں انتشار کا سبب بن رہا ہے۔ اگرچہ عالمی اور علاقائی صورتحال بھی اضطراب کا باعث ہے مگر یہ آشوب داخلی ہیجان کے ساتھ مل کر تلخیوں کو انتہائی نقطے تک پہنچاتا ہے۔ ایسے حالات میں صرف ضروری نہیں بلکہ ناگزیر ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت بروئے کار آئے اور سیاسی بحران میں کمی کیلئے پہل کرے تاکہ ملک کے اصل مسائل سیاسی توجہات کا محور بن سکیں۔ بلاول بھٹو کا یہ نکتہ حقیقت پسندانہ ہے کہ ہم بہت سی لڑائیاں ایک ساتھ نہیں لڑ سکتے؛ چنانچہ ہمیں ترجیحات کا تعین کرنا ہو گا کہ فی الحقیقت کن محاذوں پر پہلے توجہ دینی چاہیے۔

اس پہلو سے سوچا جائے تو ملکی معیشت اور قومی سلامتی یقینا سرفہرست آنے والے امور ہیں‘ لہٰذا کیوں نہ دیگر بکھیڑوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے معیشت اور امن وسلامتی کے مسائل کو پہلی ترجیح بنایا جائے‘ اور اس کیلئے جو لوازمات درکار ہیں وہ پورے کیے جائیں۔ عوامی سطح پر تشویش کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ دکھی دلوں کیساتھ دیکھتے ہیں کہ ملک کی سیاسی قیادت اُنکے حقیقی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے باہم دست وگریباں ہے۔ پارلیمان کا اجلاس ہو یا کوئی اور فورم سیاسی قیادت ملکی معیشت اور عوامی وملکی فلاح وبہبود کے موضوعات کے بجائے ایک دوسرے کے لتے لینے میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ جمہوری نظام میں حزبِ اختلاف نے حکومتی کارکردگی کا احتساب کرنا ہوتا ہے‘ مگر ہمارے ہاں حزبِ اختلاف نے اپنی ساری توجہات کو ایک دو ذاتی سیاسی نوعیت کے مسائل تک محدود کررکھا ہے۔ عوام کی زندگی کس حال میں گزرتی ہے حزبِ اختلاف کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ حزبِ اختلاف کی سیاسی ترجیحات اپنی جگہ مگر اسے عوام اور ملک کے حقیقی مسائل اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی ہونا چاہیے۔ بلاول بھٹو کا انتخابی اصلاحات کیلئے پی ٹی آئی کو کمیٹی میں شامل ہونے کا مشورہ بھی اسی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج پر اعتراضات کرتی رہی ہیں اور ہر انتخاب کے بعد دھاندلی کے الزامات سیاسی ماحول کو کشیدہ کر تے ہیں۔
اگر حکومت اور اپوزیشن کو انتخابی عمل پر تحفظات ہیں تو ان مسائل کا حل سڑکوں پر احتجاج میں نہیں مذاکرات اور ادارہ جاتی اصلاحات میں تلاش کیا جانا چاہیے اور اس کیلئے اصلاحاتی کمیٹی میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی یقینی بنانا ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کو بھی چاہیے کہ اپنے تحفظات کے باوجود اس عمل کا حصہ بنے اور انتخابی نظام کی بہتری کیلئے قابلِ عمل تجاویز پیش کرے۔ سیاسی جماعتوں کو ایسی اصلاحات متعارف کرانی چاہئیں جن سے انتخابی نظام کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات کا ازالہ کیا جا سکے۔ انتخابی اصلاحات میں سیاسی جماعتوں کا اتفاقِ رائے وسیع تر سیاسی مفاہمت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں خاص طور پر حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان عدم اعتماد سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے ۔ اگر انتخابی اصلاحات کے مقصد سے یہ جماعتیں مل بیٹھیں تو دیگر معاملات میں بھی پیش رفت کی امید کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کو معیشت کی بحالی‘ قومی اتفاقِ رائے اور جمہوری استحکام کی ضرورت ہے۔ تمام جماعتوں کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ان قومی مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی لڑائیوں سے نکل کر عوام کی زندگی آسان بنانے کو قومی سیاست کا بنیادی مقصد بنایا جائے۔