کرپشن کے 150 میگا کرپشن سکینڈلز: نواز شریف اور زرداری کا نام نھی شامل، سپریم کورٹ کا نیب کی رپورٹ پر عدم اطمینان
وزیراعظم ، وزیراعلیٰ پنجاب پر رائیونڈ رہائشگاہ تک ساڑھے 12کروڑ روپے سے سڑک بنوانے کا الزام ،50کیسز مالیاتی، 50اراضی ،50اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق
اسلام آباد(سپیشل رپورٹر)قومی احتساب بیورو (نیب)نے اختیارات کے ناجائز استعمال،مالیاتی سکینڈل اور قیمتی اراضی کی خریدو فروخت میں گھپلوں سے متعلق کھربوں روپے مالیت کے 150 میگا کرپشن سکینڈلز کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے جس کے مطابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سمیت چار سابق وزرائے اعظم کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق ماضی میں شروع کی جانے والی تفتیش مختلف مراحل میں ہے ۔ فہرست میں وزیراعظم نواز شریف کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف،وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار، سابق صدر آصف علی زرداری ، مسلم لیگ (ق)کے صدر چودھری شجاعت حسین ،سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ، ہارون اختر خان، آفتاب شیرپاؤ، جہانگیر صدیقی ،نواب اسلم رئیسانی، ایم سی بی کے مالک میاں محمد منشا ، ایازخان نیا زی ،فردوس عاشق اعوان ،تین سابق چیئرمین ایف بی آر عبدللہ یوسف،سلمان صدیق ،علی ارشد حکیم ،سابق چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ آصف ہاشمی ، سینیٹر سحر کامران ،حسین حقانی ،سابق وزیر خزانہ شوکت ترین ،سابق آئی جی کے پی کے ملک نوید،سابق چیئرمین اوگرا توقیر صادق، سندھ کے چیف سیکرٹری محمد صدیق میمن سمیت دیگر کے نام شامل ہیں ۔نیب کی خراب کارکردگی ،بے ضابطگیوں اور ایم سی بی کی نجکاری سے متعلق کیس میں نیب نے 34صفحات پرمشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا ئی گئی ہے ۔رپورٹ میں بد عنوانی کے 150میگا سکینڈلز کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔پہلے درجے میں50مالی میگا سکینڈلز ،دوسرے درجے میں50زمینوں کے میگا سکینڈلز اور تیسرے درجے میں اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق50میگا سکینڈلز کی تفصیلات درج کی گئی ہیں ۔ مالی بے ضابطگیوں میں 22کیسز میں انکوائری (تحقیقات) ، 13 انویسٹی گیشن (تفتیش) ،15کیسز میں ریفرنس دائر کیے گئے ہیں۔اراضی سکینڈل میں 29 انکوائری کے مرحلے میں، 13 انویسٹی گیشن، 8 میں ریفرنس دائر کیے گئے ۔اختیارات کے ناجائز استعمال میں 20 انکوائری، 15 انویسٹی گیشن، 15 میں ریفرنس دائر کیے گئے ہیں۔ فہرست میں اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والوں میں وزیر اعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے نام بھی شامل ہیں۔نواز شریف اور شہباز شریف پر رائیونڈ سے شریف فیملی ہاؤس تک اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر تے ہوئے 12کروڑ 60لاکھ روپے کی لاگت سے سڑک تعمیر کرنے کے الزام میں انکوائری کی جا رہی ہے جبکہ وزیر اعظم نواز شریف کیخلاف 1999 میں ایف آئی اے میں خلاف قواعد بھرتیوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس کیس میں سرکاری خزانے کو کتنا نقصان پہنچا اس بات کا تعین ابھی کیا جانا ہے ۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے پر انکوائری جاری ہے ،ان کے دو کروڑ 30لاکھ روپے اور تین لاکھ 48ہزار پاؤنڈ اور 12کروڑ پچاس لاکھ امریکی ڈالر مالیت کے اثاثہ جات ہیں۔ سابق صدرآصف علی زرداری کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے پر کیس زیر سماعت ہے جس میں انہوں نے 22 ارب روپے اور ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کے اثاثہ جات نامعلوم ذرائع سے بنائے ۔سابق وزیراعظم چودھری شجاعت کیخلاف نامعلوم ذرائع سے حاصل کردہ زائد آمدن پر انکوائری جاری ہے ۔چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کے خلاف 2 ارب 42 کروڑ 80لاکھ روپے کی انکوائری کی جارہی ہے ۔سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سابق چیئرمین ای او بی آئی ظفر گوندل کے خلاف 567 ملین روپے کی کرپشن کا مقدمہ زیر سماعت ہے ۔راجہ پرویز اشرف کے خلاف آر پی پی کیس میں 98کروڑ پچاس لاکھ اور 31کروڑ اسی لاکھ روپے کے ٹھیکہ جات غلط طور پر دینے پر انکوائری جاری ہے ۔سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے خلاف آمدن سے زائد 100 ملین روپے کی انکوائری جاری ہے ۔سابق وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ کے خلاف بھی آمدن سے زائد اثاثہ جات پر انکوائری جاری ہے ۔سابق سفیر حسین حقانی کیخلاف خوردبرد کی انکوائری جاری ہے ۔حسین حقانی نے یہ لائسنس بطور سیکرٹری اطلاعات تین مختلف کمپنیوں کو لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں ایف ایم ریڈیو سٹیشن کے لائسنس قواعد وضوابط سے ہٹ کر جاری کیے ۔ کیس میں رقم کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے ۔این آئی سی ایل کے سابق چیئرمین ایاز خان نیازی کے خلاف 2 ارب روپے ، سابق چیئرمین این آئی سی ایل عابد جاوید اور دیگر کے خلاف 100 ملین روپے کرپشن کی انکوائری ہو رہی ہے ۔سابق چیئرمین اوگرا توقیر صادق کیخلاف 80ارب روپے کرپشن پر مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے ۔ نیب رپورٹ میں اسحاق ڈار منی لانڈرنگ کیس ، چودھری شجاعت اثاثہ جات کیس ، سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی اوگرا بدعنوانی کیس کی تفصیلات بھی درج ہیں ۔ تاندلیانوالہ شوگر ملز کیخلاف 700ملین روپے خورد برد کی انکوائری چل رہی ہے ۔ یہ شوگر مل وزیر اعظم کے مشیر برائے ریونیو ہارون اختر خان کی ہے ۔ یونس حبیب کے خلاف 3ارب روپے کی دانستہ قرض نادہندگی جبکہ شون گروپ کیخلاف بھی قرض نادہندگی کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ جہانگیر صدیقی اور دیگر کے خلاف 2 بلین قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے کیس کی سماعت جاری ہیں۔ سندھ کے سیکرٹری بلدیات علی احمد لونڈ کیخلاف قومی خزانے کو 255ملین ، سابق سیکرٹری ہاؤسنگ ذکی اللہ کیخلاف 394 ملین کا نقصان پہنچانے کا کیس زیر تفتیش ہے اور وی آر کے تحت 300 ملین روپے وصول بھی کئے جا چکے ہیں۔ اے این پی کے سابق ایم این اے حاجی وسیم الرحمن کیخلاف کیس عدالت میں زیر سماعت ہے ، افضل خالق المعروف ڈ بل شاہ کیخلاف لوگوں سے رقوم لے کر ہڑپ کرنے کے کیس میں7.753 بلین روپے غبن کئے گئے ،کیس عدالت میں زیر سماعت ہے ۔ سلک بینک فراڈ کیس میں شیخ محمد افضل کیخلاف435 ملین کا فراڈ کرنے پر عدالت میں کیس زیر سماعت ہے ۔ ورکرز ویلفیئر فنڈ سندھ سے قومی خزانے کو 224 ملین کا نقصان پہنچانے پر سابق سیکرٹری لیبر سندھ نصیر حیات کیخلاف تحقیقات جاری ہیں۔ اوجی ڈی سی ایل ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی میں 600 ملین روپے کا فراڈ کیا گیا۔ بلوچستان کے سابق وزرا عبدالغفور لہڑی، اسفند یار کاکڑٹیکسٹائل مل کے مالک مرشد حنیف کیخلاف 524 ملین بینک قرضہ واپس نہ کرنے پر انکوائری جاری ہے ۔ سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے خصوصی معاون سید معصوم شاہ کیخلاف 300 ملین قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر انکوائری جاری ہے ۔ نیشنل بینک گلگت کے ریجنل چیف محمد عارف کیخلاف قومی خزانے کو 330 ملین کا نقصان پہنچانے ،پیسکو کے حکام کیخلاف قومی خزانے کو 1.884 ملین کی غیر قانونی خریداری کے کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔ پاکستان پوسٹل سروسز کے سابق سیکرٹری راجہ اکرام الحق اور سابق ایم ڈی اعجاز علی خان کیخلاف100 ملین کا فراڈ کرنے کے کیس کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔ ڈی ایچ اے ویلی کی انتظامیہ کیخلاف ایک لاکھ 31 ہزار کنال اراضی کی غیرقانونی خریدو فروخت کی تحقیقات جاری ہیں ۔ سی ڈی اے کے افسران کیخلاف E-11 میں ترقیاتی کاموں کیلئے 1.2 بلین کے ٹھیکوں میں خورد برد کی تحقیقات جاری ہیں۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ہاؤسنگ سوسائٹی اور 5 دیگر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کیخلاف بھی انکوائری کی جا رہی ہے ۔ سندھ کے چیف سیکرٹری محمد صدیق میمن کیخلاف سرکاری زمین جعلی ناموں پر الاٹ کرنے کے کیس کی تحقیقات جاری ہے جس سے قومی خزانے کو 400 ملین کا نقصان پہنچا ۔متروکہ وقف املاک کے سابق چیئرمین آصف ہاشمی کیخلاف قومی خزانے کو 300 ملین کا نقصان پہنچانے پر تحقیقات جاری ہیں۔ مسلم لیگ (ن)کے سابق رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان، افتخار احمد خان اور خدا بخش کیخلاف نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کی زمینوں کی خریداری میں 6بلین روپے کے فراڈ کیس کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ریفرنس عدالت میں بھجوا دیا گیا جس کی سماعت 10 جولائی کو ہو گی۔ فہرست میں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل سعید الظفر کا نام بھی شامل ہے جنھوں نے ریلوے کے چیئرمین کی حیثیت سے رائل پام گالف کلب کی تعمیر کے لیے 103 ایکڑ سرکاری اراضی الاٹ کی تھی۔ رپورٹ میں بیورو کریٹس کے خلاف تفتیش کا بھی ذکر ہے ۔ ان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سابق چیئرمین عبداللہ یوسف، ارشد حکیم اور سلمان صدیق کے علاوہ پانی و بجلی کے سابق سیکرٹری شاہد رفیع اور اسماعیل قریشی شامل ہیں۔ بلوچستان کے وزیر سپورٹس شاہنواز مری کیخلاف بھی اختیارات کے ناجائز استعمال کی تحقیقات جاری ہیں۔ رینٹل پاور کیس میں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، سابق وزیر خزانہ شوکت ترین، سابق سیکرٹری شاہد رفیع، اسماعیل قریشی، منور بصیر اور فضل احمد خان کیخلاف بھی تحقیقات جاری ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر سحر کامران کیخلاف پاکستان انٹرنیشنل سکول جدہ کی پرنسپل کے طو رپر فنڈز میں خورد برد کرنے کے کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔ سابق آئی جی خیبر پختونخوا نوید ملک کیخلاف اسلحہ خریداری کیس میں قومی خزانے کو 2.031 بلین نقصان پہنچانے کے کیس کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ اس کیس میں 400 ملین کی ریکوری بھی کی جا چکی ہے اور کیس کی عدالت میں سماعت جاری ہے ۔ ریلوے کے سابق جنرل منیجر سعید اختر کیخلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی خزانے میں خورد برد کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے ۔ اوگرا کے مشہور 80 ارب روپے کے میگا کرپشن سکینڈل کی تحقیقات مکمل کر کے ریفرنس عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے جس میں سابق چیئرمین توقیر صادق کے علاوہ منصور مظفر سابق ممبر گیس میر کمال فرید بجارانی مری ممبر فنانس، جواد جمیل سابق سٹاف افسر چیئرمین اوگرا اور دیگر حکام کیخلاف بھی اسی کیس میں ریفرنس عدالت میں زیر سماعت ہے ۔ سابق صدر آصف علی زرداری کیخلاف بھی کیس عدالت میں زیر سماعت ہے ۔ پیپکو کے سابق ایم ڈی طاہر بشارت چیمہ کیخلاف بھی تحقیقات مکمل کر کے کیس عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے ۔ ظفر اقبال گوندل سابق چیئرمین ای او بی آئی اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کیخلاف غیر قانونی بھرتیوں اور اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے قومی خزانے کو 567 ملین کا نقصان پہنچانے کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے ۔ سابق ایم ڈی پی پی ٹی ڈی سی میر شاہ جہان کھیتران کے قومی خزانے کو 22 ملین کا نقصان پہنچانے کا کیس بھی عدالت میں زیرسماعت ہے ۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کے سابق سیکرٹری طارق اعوان کیخلاف517 ملین کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے ۔ سپریم کورٹ نے نیب کی رپورٹ پرعدم اطمینان کا اظہار کیا اور پیر تک دوبارہ مزید تفصیلات طلب کی ہیں۔ ایم سی بی نجکاری کیس سے متعلق نیب حکام نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کی تحقیقات کیلئے مزید وقت دیا جائے جس پر جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ ایم سی بی کی تحقیقات 2002 سے کی گئی تھیں، اب مزید مہلت کیوں مانگی جا رہی ہے کیا پہلے والی انکوائری غلط ہے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ نیب کی رپورٹس نامکمل ہیں ۔ عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک کیلئے ملتوی کر دی ۔