پاکستان نے 9بھارتی جاسوس پکڑے 7کوچھوڑدیا،2جیل میں مرے
پاکستان اور بھارت کی جانب سے ایک دوسرے کے سفارت کاروں کی ایک دوسرے کے خلاف جاسوسی کے الزام میں ملک بدری گاہے
اسلام آباد(سید ظفر ہاشمی/نمائندہ خصوصی )پاکستان اور بھارت کی جانب سے ایک دوسرے کے سفارت کاروں کی ایک دوسرے کے خلاف جاسوسی کے الزام میں ملک بدری گاہے بگاہے سننے کو ملتی رہتی تھیں یہ واقعات اب تک اتنی بڑی تعداد میں رونما ہوئے کہ انھیں معمول کی کارروائی سمجھاجانے لگا، لیکن 3مارچ 2016ء کو بھارتی بحریہ کے ایک حاضر سروس افسر کل بھوشن یادیو کی بطور جاسوس بلوچستان سے گرفتاری ایک بڑی خبر کے طور پر سامنے آئی ، کلبھوشن کوگزشتہ روز یہاں موت کی سزا سنائی گئی ، وہ اس سے قبل بھی بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لئے جاسوسی کی غرض سے پاکستان کے کئی دورے کر چکا تھا، تاہم ’’را‘‘کے ایجنٹوں کی جانب سے پاکستان میں جاسوسی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس کے علاوہ بھی ’’را‘‘کے کئی جاسوس پاکستان میں کارروائیاں سرانجام دیتے رہے ہیں جن میں سے اکثر کو عدالتوں کی جانب سے سزائے موت سمیت مختلف سزائیں سنائی گئیں،دنیا کو حاصل ہونے والے دستاویزی ریکارڈ کے مطابق اس سے قبل یہاں گرفتار کئے جانے والے ’’را‘‘کے اہلکاروں میں روہندرا کو شک، سرجیت سنگھ، رام راج، گربکش رام اور سربجیت سنگھ کے علاوہ بعض دیگر شامل ہیں دستاویزی ریکارڈ کے مطابق روہندرا کوشک نے 1975 میں ’’را‘‘میں شمولیت اختیار کی، یہ شخص نبی احمد کے نام سے پاکستان میں داخل ہوا، اس نے یہاں پہلے اردو سیکھی اور اس کے بعد آرمی جوائن کر لی، 1983ء میں اس کا بھانڈا پھوٹ گیا، 1985 میں اسے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی لیکن بعد ازاں اس کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا اور 2001ء میں یہ قید کے دوران ہی مر گیا، سرجیت سنگھ کو 1980ء میں جاسوسی کے الزام میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا اور تقریباً 30سال بعد اسے جون 2012ء میں بھارت کے حوالے کر دیاگیا، اس نے بھارت واپس پہنچ کر کھلم کھلا اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ ’’را‘‘کا ایجنٹ تھا اور ’’را‘‘نے اسے جاسوسی کے لئے پاکستان بھجوایا تھا، تیسرے جاسوس رام راج ستمبر 2004ء میں جاسوسی کے لئے پاکستان آیا، لیکن اگلے ہی روز پکڑا گیا، دو سال تک اس پر کیس چلا اور اسے 6سال قید کی سزا سنائی گئی، چوتھے جاسوس گربکش رام کو سکیورٹی فورسز کی جانب سے 1988ء میں گرفتار کیاگیا، اسے 2006ء میں دیگر 18بھارتی قیدیوں کے ساتھ رہا کر کے بھارت کے حوالے کر دیا گیا ایک اور جاسوس سربجیت سنگھ کو خفیہ اداروں کی جانب سے 1990 میں ضلع قصور سے گرفتار کیا گیا، اس نے 30اگست 1990 کو لاہور اور فیصل آباد میں بم دھماکے کئے جس میں 10بے گناہ اورمعصوم شہری جاں بحق اور 66 زخمی ہوئے ، اس کو عدالت کی جانب سے 1991ء میں موت کی سزا سنائی گئی،2مئی 2013ء کو اس کا جیل ہی میں انتقال ہوگیا، رام پرکاش نامی جاسوس 1994ء میں اہم مقامات کی فوٹوگرافی کے لئے پاکستان میں داخل ہوا، اس کو 13 جون 1997 کو بھارت واپس جاتے ہوئے سیالکوٹ سے گرفتار کیاگیا، 1998 ء میں اسے عدالت کی جانب سے 10سال قید کی سزا سنائی گئی، دوران تفتیش اس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے اس عرصے میں 75 مرتبہ بارڈر کراس کیا اسے 7جولائی 2008 ء کو بھارت کے حوالے کر دیا گیا، ایک اور جاسوس سورام سنگھ جاسوسی کی غرض سے 1994ء میں پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش میں سرحد پرہی رینجرز کے ہاتھ لگ گیا، اس سے چار ماہ تک تحقیقات کی جاتی رہی جن کے نتیجے میں اس نے یہاں 13سال سے زائد عرصے تک جیل کاٹی، اسے 1988 میں بھارت کے حوالے کر دیا گیا، بلور سنگھ 1971ء میں ‘‘را’’ کے ایجنٹ کی حیثیت سے پاکستان آیا اور 1974ء میں گرفتار کر لیا گیا، اسے عدالت سے 12 سال کی سزا ہوئی جس کے بعد 1986ء میں اسے بھارت کے حوالے کر دیاگیا، ڈینیل نامی جاسوس 1993ء میں بارڈر کراس کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا جسے قید کی سزا مکمل کرنے کے بعد 1997ء میں بھارت روانہ کر دیاگیا۔