لیسکو کی کارروائی , ایک ماہ کا بل ادا نہ کرنے پر ہزاروں میٹر اتار لئے

لیسکو کی کارروائی , ایک ماہ کا بل ادا نہ کرنے پر ہزاروں میٹر اتار لئے

’’پراسرار‘‘طور پر نئی پالیسی نافذ کی گئی، پیشگی اطلاع کے بغیر کنکشن کاٹ دئیے ،کرپشن چھپانے کیلئے اقدام کیا :صارفین وزارت کی ہدایات پر ایک ماہ کی عدم ادائیگی پر میٹر کاٹنے کی مہم تیز کر دی :لیسکوافسران ،ایسی کسی پالیسی کا علم نہیں:وزارت توانائی

لاہور(صبغت اﷲچودھری)لیسکو سمیت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے زیرو منتھ پالیسی کے تحت ایک ماہ کی عدم ادائیگی پر صارفین کے بجلی کنکشن منقطع کرنا شروع کر دئیے ، صوبائی دارالحکومت کے آپریشنل سرکلز میں گزشتہ روز بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا جس میں لیسکو کا فیلڈ سٹاف خاموشی کیساتھ صرف ایک ماہ کا بل ادا نہ کرنیوالے ہزاروں صارفین کے بجلی میٹر لے اڑا جبکہ بجلی کٹوانے والے صارفین کئی گھنٹوں تک کارروائی سے لا علم رہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ لیسکو سمیت بجلی کی دیگر ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے کسی پیشگی اطلاع، بل پر بھیجے گئے نوٹس یا ایس ایم ایس کے بغیر عدم ادائیگی کے حوالے سے ’’پراسرار ‘‘ طور پر نئی ریکوری پالیسی نافذ کر دی ہے ، جس کے تحت لیسکو کی تمام سب ڈویژنوں میں گھریلو صارفین کے بجلی میٹر اتارے جا رہے ہیں۔ قبل ازیں دو مہینے کا بل ادا نہ کرنے پر صارف کو کنکشن منقطع کرنے کا نوٹس بھجوایا جاتا تھا جس کے بعد بھی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں بجلی کا کنکشن منقطع ہوتا تھا، اس صورتحال میں بیشتر صارفین دو ماہ کا بل اکٹھا ادا کرنے کے عادی ہو چکے تھے ، تاہم لیسکو کی نئی زیر ومنتھ پالیسی لاگو ہونے کے بعد ہزارو ں صارفین لا علمی میں بجلی میٹر کٹوا بیٹھے ہیں۔ لیسکو کے اعلیٰ افسروں نے ’’دنیا‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی وزارت توانائی کی جانب سے تمام ڈسکوز کو ریکوری بہتر بنانے کے حوالے سے سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں، جس کے تحت ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے دو ماہ کے بجائے ایک ماہ کی عدم ادائیگی پر ہی میٹر کاٹنے کی مہم تیز کر دی ہے ۔ اس حوالے سے وزارت توانائی کے ذرائع نے تصدیق کی کہ شعبہ توانائی کے زیر گردش قرضے حد سے تجاوز کر گئے ہیں جبکہ بڑھتے ہوئے لائن لاسز اور کم ریکوری کے باعث وزارت پر دباؤ ہے لہٰذا صارفین کیلئے دو ماہ تک بل ادا نہ کرنے کی رعایت ختم کر دی گئی ہے ۔ اس حوالے سے میٹر کٹوانے والے صارفین میں شدید برہمی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔ نمائندہ دنیا سے گفتگو کرتے ہوئے صارفین کا کہنا تھا لیسکو کاعملہ و افسر ملی بھگت سے بجلی چوری میں ملوث ہیں اور کرپشن چھپانے کیلئے سارا مدعا اس مرتبہ بھی صارفین پر ڈال دیا گیا ہے ، بل ڈسٹری بیوٹرز وقت پر گھروں میں بل نہیں پھینکتے اور ہر مہینے بجلی کے بل آخری تاریخ سے دو دن پہلے موصول ہوتے ہیں اور بعض اوقات ان ایام میں ہفتہ وار تعطیل بھی ہوتی ہے ، اب عملہ بغیر بتائے میٹراتار کر لے گیا ہے ، یہ صارفین کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اس قسم کی پالیسی کے نفاذ سے قبل کم از کم صارف کوآگاہ کیا جانا ضروری تھا۔اس حوالے سے وزارت توانائی کے ترجمان ظفر یاب خان کا کہنا تھا وزارت نے ایسی کوئی پالیسی وضع نہیں کی، لیسکو نے آپریشن کی سطح پر از خود لاگو کر دی ہو تو اس کا علم نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں