حکومت میں تحقیقات کی قابلیت ہی نہیں،چیئرمین پیمرا نے حقائق چھپائے،الیکشن کمیشن کی رپورٹ غیر تسلی بخش،حکومتی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی مسترد:فیض آباد دھرنے کا ماسٹر مائنڈ کون تھا؟:چیف جسٹس
اسلام آباد(سپیشل رپورٹر)سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے حوالے سے وفاقی حکومت کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی مسترد ،الیکشن کمیشن اور پیمرا کی عملدرآمد رپورٹ کو غیرتسلی بخش قرار دے دیا جبکہ اپنے آرڈر میں لکھا کہ چیئرمین پیمرا نے جان بوجھ کر عدالت کو گمراہ کیا اور حقائق چھپائے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا حکومت میں تحقیقات کی قابلیت ہی نہیں ،ہم جاننا چاہتے ہیں فیض آباد دھرنے کا ماسٹر مائنڈ کون تھا ؟بظاہر نظر یہ ہی آ رہا ہے کہ ریاست کسی نئے سانحے کا انتظار کر رہی ہے ،فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے میں تاریخی پسِ منظر بیان کرنے کا واحد مقصد اپنی غلطیوں کو آئندہ نہ دہرانا تھا لیکن شاید ہماری حکومت ایسا نہیں چاہتی ،بدقسمتی سے ملک میں بات چیت کرنے کا ماحول ہی نہیں ہے ،نفرت ہے بس نفرت ،لوگ دین کو استعمال کرتے ہیں،ہم کسی ادارے کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے ،ہر ادارہ اپنا کام کرے ،پیمرا اپنا اور الیکشن کمیشن اپنا کام کرے ، الیکشن کمیشن کا اپنا آئینی اختیار استعمال کرنا آئینی تقاضا ہے ،الیکشن آنے والے ہیں ،الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریوں کا خیال رکھے اور تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے ۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف وزارت دفاع،انٹیلی جنس بیورو( آئی بی )،الیکشن کمیشن، متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم )،تحریک انصاف (پی ٹی آئی )کی نظرثانی درخواستیں واپس لینے پر خارج کردیں،جبکہ شیخ رشید احمد کو نوٹس جاری کردیا ،عدالت نے اعجازالحق کی درخواست منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ میں شامل اعجازالحق سے متعلق پیراگراف کو ان کے خلاف استعمال نہ کیا جائے ،عدالت نے قرار دیا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک لبیک پاکستان کے بارے میں سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کو مائنڈ استعمال کیے بغیر قبول کیا ،عدالت نے انکوائری کمیشن کیلئے اٹارنی جنرل کو2ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 15نومبر تک ملتوی کردی اور قرار دیا کہ امید کرتے ہیں کہ واضح قواعد وشرائط کے ساتھ انکوائری کمیشن قائم کیا جائے گا اورکمیشن فیصلے کے خلاف متعدد اداروں کی طرف سے ایک ساتھ متعدد نظر ثانی درخواستیں دائر ہونے کا معاملہ بھی دیکھے گا ۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا سابق چیئرمین پیمراابصار عالم نے اپنے بیان میں وزارت دفاع کے ملازم پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، اٹارنی جنرل صاحب کیا آپ ان الزامات کے بعد بھی نظرثانی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں؟اٹارنی جنرل منصور عثمان نے کہا کہ ابصار عالم کے لگائے الزامات دیکھے ہیں، 19اکتوبرکو وفاقی حکومت نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی ہے ،26 اکتوبر کو کمیٹی کا اجلاس ہو چکا ہے ،کمیٹی تمام پہلوئوں کا جائزہ لیکر رپورٹ دے گی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا اب ریاستی امور آئین کے مطابق چلائے جا رہے ہیں؟ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کس قانون کے تحت بنی؟ چیف جسٹس نے کہا کمیٹی بناکر صرف رپورٹس آتی رہیں گی، ہونا کچھ نہیں ہے ،حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے ، پورے ملک کو ایک جماعت نے یرغمال بنائے رکھا، بیرون ملک سے ایک شخص امپورٹ کرکے ملک کو یرغمال بنایا گیا اور وہ واپس لوٹ گیا، حکومت میں تحقیقات کرنے کی قابلیت ہی نہیں ہے ، بچوں سے پوچھیں تو وہ بھی آپ سے بہتر جواب دے سکتے ہیں،کمیٹی کے ٹی او آرز سے تو لگتا ہے آپ نے سب کو بری کر دیا ، دھرنا کیس میں عدالت نے پوری ہسٹری دے دی، ہم نے پوچھا تھا دھرنے کا ذمہ دار کون تھا،حکومت نے کمیٹی کا ایک بھی ٹی او آر درست نہیں بنایا، حکومت چاہتی ہے سب کو ذمہ دار ٹھہرا کر کسی کیخلاف کارروائی نہ ہو، اربوں کا نقصان ہوا مگر حکومت کو پرواہ ہی نہیں، کمیٹی کی رپورٹ کا کیا ہوگا؟ کیا کمیٹی کی رپورٹ کابینہ میں پیش ہوگی؟ کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش ہوگی تاکہ کارروائی ہوسکے ؟انہوں نے کہا کہ ہم کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ نہیں لیں گے ، عدالت آپ کا کام کیوں کرے ؟ فیض آباد دھرنا فیصلے پرعملدرآمد کرانا حکومت کا کام ہے ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کمیٹی کا حصہ ہیں، وہ کیا کام کریں گے ؟ کتنے پل گرائے گئے ؟کتنا نقصان ہوا؟ یہ سب کون دیکھے گا؟حکومتی کمیٹی کے ٹی او آرز سے تو سب بری ہو جائیں گے ، معذرت کے ساتھ لیکن یہ کمیٹی قابل قبول نہیں ہے ، عدالت اس فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سے خوش نہیں ہے ، حکومت کی بنائی گئی کمیٹی غیرقانونی ہے ،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے ، ایک کاغذ کے ٹکڑے سے ملک نہیں چلایا جاسکتا، ہمیں بتائیں کون سے رولزآف بزنس اورکس قانون کے تحت کمیٹی بنائی گئی، جس طرح حکومت معاملات چلانا چاہ رہی ہے ایسے نہیں ہوگا، عدالت یہ قراردے گی کہ حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں کچھ نہیں کیا، ہم جاننا چاہتے ہیں فیض آباد دھرنے کا ماسٹرمائنڈ کون تھا؟ 6 فروری 2019 سے آج تک فیصلے پرعملدرآمد نہیں ہوا، اس طرح تو یہاں ہر کوئی کہے گا میں جو بھی کروں مجھ کو کوئی پوچھ نہیں سکتا، حکومت سیدھا سیدھا کہہ دے کہ ہم کام نہیں کریں گے ۔
اٹارنی جنرل نے کہا پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت کمیشن بنائیں گے ، جیسے عدالت حکم کرے گی اس پر عمل ہو گا، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا حکومتی کمیشن کی تحقیقات شفاف ہونی چاہئیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ ماضی سے سیکھ کر حکومت ایسا اقدام کرے کہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں، جب قانون ہاتھ میں لینے والوں کو سزا ملے گی تو لوگ سبق لیں گے ، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آئین کی بالادستی کسی بھی قیمت پر یقینی بنانا ہوگی، آپ کے پاس موقع ہے کسی ایسے شخص سے انکوائری کروائیں جو آئین کو مقدم رکھتا ہو،چیف جسٹس نے کہا کہ یہ آپ کی مرضی ہے کہ انکوائری کیلئے جس کو مرضی تعینات کریں، چیف جسٹس نے کہا کیا حکومت واقعی فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عمل کرنا چاہتی ہے ؟ کون سا قانون کہتا ہے نظرثانی دائر ہو جائے تو فیصلے پر عمل نہیں ہو گا؟ چیف جسٹس نے علا مہ طاہر القادری کا نام لیے بغیر کہا ایک صاحب باہر سے امپورٹ ہوتے ہیں اور پورا ملک مفلوج کر دیتے ہیں، کیا کوئی کینیڈا جا کر فساد کر کے واپس پاکستان آسکتا ہے ؟ کیا ہم کینیڈا میں جا کر ان کے پورے ملک کو ڈسٹرب کر سکتے ہیں؟ کیا یہ حق صرف کینیڈا سے آنے والوں کو حاصل ہے ، انہیں کون لے کر آیا تھا، کینیڈا سے سبق سیکھیں، انہوں نے ایک سکھ رہنما کے قتل پر بڑے ملک سے ٹکر لے لی، کینیڈا واپس چلے گئے تو بتائیں جس کام کے لیے آئے تھے کیا وہ حل ہو گیا؟کیا حکومت نے کینیڈین حکومت سے رابطہ کیا تھا؟ کیا لوگ کینیڈا سے یہاں آکر دھرنے دیں کوئی نہیں پوچھے گا؟ کیا پاکستانی کینیڈا جاکر اس طرح دھرنے دے سکتے ہیں؟ دوسرے ممالک تو اپنے ایک ایک شہری کی حفاظت کرتے ہیں، پاکستان میں کوئی نہیں پوچھتا، چاہے جو کرو، کبھی دبئی چلے جائو، کبھی دوسرے ملک، ہمارے لوگ ملک اور دین دونوں کو بدنام کر رہے ہیں،کسی کو اس ملک کی پرواہ نہیں ہے ، یہ ملک صرف اشرافیہ کیلئے نہیں ہے ، 70 سال سے ملک میں اشرافیہ کا قبضہ ہے ، ایک شخص کو امپورٹ کرنیکا مقصدکیا اس وقت کی حکومت کوبرطرف کرنا تھا؟ کیا دوبارہ ایک شخص کو امپورٹ کرکے مستقبل میں بھی خدمات لی جائیں گی؟ کیا کینیڈا سے آئے اس شخص نے اپنے ٹکٹ کی ادائیگی خود کی تھی؟ ممکن ہے تحقیقات سے یہ بھی تعین ہو جائے کہ پیمرا، الیکشن کمیشن اس وقت آزاد نہیں تھے ۔اسلام امن کا دین ہے ، وہ اسلام کو بھی بدنام کر رہے ہیں، وہ اسلام کی بات کر رہے تھے تو کیا سب ان سے ڈر جاتے ، ایک مسلمان کو ڈرنا نہیں چاہیے ، فساد فی الارض کی گنجائش نہیں ہے ۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ اس معاملے کو ہینڈل کرنے کے اہل ہی نہیں ہیں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ایک لینڈ مارک فیصلہ تھا، چیف جسٹس نے کہا میرے مطابق تو وہ ایک سادہ سا فیصلہ تھا، اس وقت اچھی یا بری جیسی بھی حکومت تھی عوام کی منتخب کردہ حکومت تھی، کوئی غلط قانون بن گیا تو سپیکر کو خط لکھ دیتے یہ آپ سے غلطی ہو گئی۔چیف جسٹس نے کہا ابصار عالم کے بیان کے مطابق تو الیکشن کمیشن سمیت تمام ادارے آزاد نہیں تھے ۔ عدالت نے پیمرا کے وکیل حافظ ایس اے رحمن سے استفسار کیا کہ کیا پیمرا کے سابق چیئرمین کا بیان حلفی پڑھا ہے ؟ وکیل نے کہا کہ ابصار عالم کا بیان حلفی مجھے ابھی ملا ہے ، چیف جسٹس نے کہا کیا آپ کو بیان حلفی گھر جا کر دیتے ؟عدالت نے ڈی جی آپریشنز پیمرا کو روسٹرم پر بلا لیا، چیف جسٹس نے کہا آپ نے کالا کوٹ کیوں پہنا ہوا ہے ؟ کیا آپ وکیل ہیں؟ ڈی جی آپریشنز نے جواب دیا کہ کالا رنگ روٹین میں پہنا ہے ۔عدالت نے چیئرمین پیمرا کو طلب کرکے کہا سابق چیئر مین پیمرا ابصار عالم نے کچھ کاغذات جمع کرائے ہیں، چیئرمین پیمرا نے کہا میں نے رپورٹ پڑھی ہے ، ابصار عالم کے ساتھ جو کچھ ہوا انہوں نے بیان کیا۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کیا آپ کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا؟ چیئرمین پیمرا نے کہا میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کتنے کیبل آپریٹر کے خلاف کارروائی کی، آپ نے خود بتایا آپ پر کوئی دبائو نہیں تھا، یہاں جو بھی کرسی پر سے اترتا ہے کہتا ہے مجھ پر دبائو تھا، یہ کلچر عام ہے ، کرسی سے اترنے کے بعد دبائو پر فیصلے کرنا کا اعتراف اہم ایشو ہے ،دبائو پر فیصلے کرنا حلف سے روگردانی اور حلف کی خلاف ورزی کا آسان طریقہ ہے ،دبائو پر حلف کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزائیں ملنی چاہئیں،آج تک ذوالفقار علی بھٹو کا ریفرنس سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اخبارات میں ابصار عالم کا بیان حلفی چھپ چکا ہے ، عدالتی کارروائی کو سنجیدگی سے لیں، چیئرمین پیمرا نے جواب دیا کہ ابصار عالم نے جو کہا مجھے اس کا نہیں پتا، ابصار عالم کے بعد پیمرا میں 6 ماہ کا خلا رہا پھر میں تعینات ہوا، چیئرمین پیمرا بننے سے پہلے پرنسپل افسر گریڈ 20 میں تھا۔
چیف جسٹس نے کہا پیمرا سے متعلق فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ پڑھیں، کسی کو مارنا، جلا ئوگھیرا ئوکرنا اظہار رائے کی آزادی نہیں، کیا 2 ٹی وی چینل کی اب بھی کینٹ ایریا میں پابندی ہے ؟چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پیمرا کو جو ہدایات کی تھیں کیا ان پر عمل کیا گیا؟ کیا پیمرا اوپر سے کسی حکم کے آنے کا انتظار کر رہا ہے ؟ پیمرا نے 110 صفحات میں سے کسی ایک پیراگراف پر عمل کیا تو وہ بتا دیں، کیا آپ ایک ڈمی ادارے کے سربراہ ہیں؟ ملک کا ہر ادارہ مذاق بن چکا ہے ،چیف جسٹس کے استفسار پرچیئر مین پیمرا نے جواب دیا کہ ساڑھے 4 لاکھ روپے تنخواہ ہے ،چیف جسٹس نے کہا کہ سلیم بیگ آپ کا نام فیض آباد دھرنا کیس میں شامل ہے ، جب فیض آباد دھرنا کیس چل رہا تھا اس وقت آپ چیئرمین پیمرا تھے ، آپ نے غلط بیانی کیوں کی کہ آپ کی تعیناتی بعد میں ہوئی، کیا آپ کو فیصلہ پسند نہیں تھا، آپ فیصلے پر عمل نہیں کرتے تو توہین عدالت بھی ہو سکتی ہے ، چیئرمین پیمرا کی مدت ملازمت کتنی ہے ، آپ کیسے اب تک بیٹھے ہیں، چیئرمین پیمرا نے کہا دوبارہ تعیناتی کی گئی تھی۔چیف جسٹس نے کہا آپ کی عمر کتنی ہے ؟ چیئرمین پیمرا نے کہا اس وقت عمر 63 سال ہے ، چیف جسٹس نے کہا اس وقت کا کیا مطلب ہے ، آج کی عمر ہی پوچھی ہے کل کی نہیں، سکول میں کوئی ایسا جواب دے تو استاد کونے میں کھڑا کر دے گا، ذرا سا ہم نے آپ کو دبایا آپ نے کہا ہم عملدرآمد کریں گے ، نظرثانی درخواست کس کے کہنے پر دائر کی، سب نے دائر کی تو آپ نے سوچا ہم بھی کر دیتے ہیں، چیئرمین پیمرا نے کہا پیمرا نے بطور ریگولیٹری ادارہ نظرثانی دائر کی،چیف جسٹس نے کہا کہ اللہ آپ کو لمبی عمر دے سچ بولیں، ہم آپ کو مضبوط کر رہے ہیں، ہم کہہ رہے ہیں بتائیں آپ کے امور میں کون مداخلت کر رہا ہے ، چیئرمین پیمرا نے کہا ہماری غلطی تھی نظرثانی درخواست دائر کی، پیمرا میں فیصلہ ہوا تھا نظرثانی میں جائیں گے ،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ جواب نہیں دے رہے تو ہم آرڈر کریں گے ، آپ ہمت پکڑیں بتادیں نظرثانی میں جانے کا کس نے کہا تھا، پیمرا میں منظوری ہوئی تو وہ کہاں ہے ؟چیئرمین پیمرا نے کہا منظوری تحریری نہیں زبانی تھی، چیف جسٹس نے کہا زبانی فیصلہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ چیف جسٹس نے ڈائریکٹر لا پیمرا کو بلا کر کہا یہ تو سچ نہیں بول رہے آپ ہی بتا دیں، نظرثانی کا کس نے کہا تھا؟ ڈائریکٹر لا پیمرا نے کہا مجھے اس کا علم نہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ قانون پڑھیں کیا پیمرا میں زبانی فیصلہ ہو سکتا، ہم آپ کو آج آپ کا قانون پڑھائیں گے ،چیف جسٹس نے ڈائریکٹر لا پیمرا کو سیکشن 5 پڑھا دیا اور کہا آپ نے یہ پڑھا ہوتا تو یہ نہ کہتے کہ تحریری فیصلہ کا کہیں نہیں لکھا،چیئرمین پیمرا کہہ رہے ہیں نظر ثانی کا پتا ہی نہیں، کیسے دائر ہوئی، کوئی پراسرار قوتیں تھیں جنہوں نے نظرثانی درخواست دائر کروائی، اگر نظرثانی کا تحریری فیصلہ نہیں ہوا تو آپ کی نظرثانی درخواست وجود ہی نہیں رکھتی، آپ تو پھر صرف ہمارا وقت ضائع کرنے آئے تھے ، 3 حکومتوں میں آپ چیئرمین پیمرا رہ چکے ، تینوں حکومتیں آپ سے خوش نہیں، نظرثانی درخواست پر دیکھیں کس کے دستخط ہیں، سلیم بیگ صاحب درخواست پر یہ آپ کے دستخط ہیں، لکھا ہوا ہے آپ نے اپنے اختیارات کا استعمال کر کے اس کی منظوری دی، آپ دوسروں کے کندھوں پر بندوق نہ چلائیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا سابق وزیر اعظم ،سابق آرمی چیف اور سابق چیف جسٹس کو تحریری طور پر ابصار عالم نے آگاہ کیا، اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں، جو بھی کرسی سے اترتا ہے کہتا ہے میں مجبور تھا، ہر کرسی سے اترنے والا وزیر اعظم کہتا ہے میں مجبور تھا، اس وقت وزیر اعظم تو نواز شریف تھے ، شاید اس وقت وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تھے ۔
عدالت نے ابصار عالم کو روسٹرم پر بلا لیا، چیف جسٹس نے کہا آپ کچھ خطوط کی بات کر رہے ہیں، آپ نے لکھا کہ میڈیا میں کچھ سرکش عناصر تھے ،ابصار عالم نے کہا جب ایک کال آئی تو میں نے آرمی چیف کو خط لکھا تھا، پھر جنرل بلال نے مجھ سے خط کے حوالے سے رابطہ کیا۔کیبل آپریٹر کے پاس انٹیلی جنس ادارے کے لوگ جاتے تھے ، چیف جسٹس نے کہا میں اگر اس وقت وزیر اعظم ہوتا تو انکوائری کرواتا،ابصار عالم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہمارے پیمرا کے رکن کو ایک کال آئی جو ریکارڈ ہوئی، چیف جسٹس نے کہا فون کرنے والے کا نام بتائیں؟ابصار عالم نے کہا میں کنفرم نہیں کر سکتا کیونکہ بعض اوقات نام بدل کر فون کیا جاتا ہے ، چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ آپ تحریری جواب پڑھیں،ابصار عالم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میرے خلاف 3 ہائی کورٹس میں درخواستیں آئیں، مجھے لاہور ہائی کورٹ نے 18 دسمبر کو بطور چیئرمین پیمرا ہٹا دیا ، آپ نے کہا سچ سامنے لے کر آئیں اس لیے میں لے آیا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چاہیں تو بطور شہری گھر میں بیٹھ سکتے ہیں، آپ نے خود کہا مجھے بلایا جاتا تو میں یہ بات کرتا، ہم نے تمام شہریوں کو کہا کہ کوئی بھی آکر تفصیل بتا سکتا ہے ،ابصار عالم نے کہا کہ نجم سیٹھی نے پروگرام میں کہا کہ ادارہ جاتی کرپشن ہوتی ہے ، مجھے زبانی احکامات دئیے جاتے تھے کہ نجم سیٹھی کو ہٹا دیں، مجھے اسی وجہ سے ہٹایا گیا۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ موجودہ چیئر مین پیمرا کہہ رہے ہیں کوئی دبائو نہیں آیا، ابصار عالم نے جواب دیا کہ یہ تو خوش قسمت انسان ہیں پھر،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر کل سرکار کوئی کمیشن بنائے تو کیا آپ اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے ، پھر کمیشن ان کو بھی بلائے جن پر آپ الزام لگائیں گے ، جن پر الزام لگایا گیا ان کو بھی جرح کرنے کا حق ہے ،ابصار عالم نے کہا کہ میں کلمہ پڑھ کر کہتا ہوں کہ ان کے نام کمیشن میں لوں گا، چیف جسٹس نے کہا کہ جن صاحب کا نام آیا ہو ان کو بلایا گیا تو آپ کو بھی ان پر جرح کرنے کا حق ہوگا۔ابصار عالم نے کہا صحافیوں میں یہ مشہور تھا کہ جس نے میرے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی وہ ایجنسیوں کا بندہ ہے ،چیف جسٹس نے چیئرمین پیمرا سے کہا آپ پرانے بیوروکریٹ ہیں کبھی آپ کے خلاف کوئی درخواست ہوئی؟ سلیم بیگ نے جواب دیا کہ 5 رکنی کمیٹی نے مجھے بطور چیئرمین پیمرا تعینات کیا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ابصار عالم سے کہا آپ نے نظام کو بے نقاب کیا۔چیف جسٹس نے کہاکہ ایک فاشسٹ نے جرمنی کے ذریعے دوسری جنگ عظیم شروع کروا دی، پاکستان میں اکثریت مسلمان رہتے ہیں لیکن سچ کوئی نہیں بولتا، سلیم بیگ صاحب آپ کے دل میں کھٹک رہا ہے ،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ نے سوچا ہوگا میں زندگی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جاؤں اس لیے نظر ثانی دائر کردی، یہاں کوئی سچی گواہی نہیں دیتا، پبلک آفس ہولڈر اس وقت سچ بولتا ہے جب کرسی سے اتر جاتا ہے ،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی درخواست سپریم کورٹ میں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کی گئی، مقدمہ بحالی کی درخواست کیوں نہیں دی گئی، انسان کو آخری دم تک جدوجہد کرتے رہنا چاہیے ۔دریں اثنا شیخ رشید کی جانب سے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ عدالت میں پیش ہوئے ، انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ شیخ رشید سے رابطہ نہیں ہو رہا۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ میں چلے سے واپس آ گیا، ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے کہا کہ ہم شیخ رشید کی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شیخ رشید آپ سے رابطے میں نہیں تو درخواست واپس لینے کا کس نے کہا؟ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے جواب دیا کہ مجھے شیخ رشید کے وکیل امان اللہ کنرانی نے ہدایات دیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ امان اللہ کنرانی اب وزیر ہیں وہ آپ کو ہدایات نہیں دے سکتے ، آپ کب سے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ ہیں؟ آپ کا لائسنس منسوخ نہ کر دیں؟ شیخ رشید کا کسی کو پتا ہے ؟ کیا وہ جیل میں ہیں؟ شیخ رشید یہاں کیوں نہیں ہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ شیخ رشید میڈیا پر آ رہے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا تو یہاں بیٹھا ہوا ہے ، ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کا ان سے رابطہ نہیں تو درخواست واپس کون لے رہا ہے ؟ ہم اس میں نوٹس جاری کریں گے ۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو بھی روسڑم پر بلا لیا ، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ تو ایک آزاد ادارہ ہیں، کیا الیکشن کمیشن نے ایک فضول نظرثانی دائر کی جوکہ اب واپس لینی ہے ؟جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ اس وقت الیکشن کمیشن کا سربراہ کون تھا، وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ سردار رضا اس وقت چیف الیکشن کمشنر تھے ،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے اب عملدرآمد رپورٹ دی ہے اس میں کیا ہے ؟ دکھائیں کیا عملدرآمد کیا گیا؟ آج کل وکالت کم لفاظی زیادہ ہو رہی ہے ۔دورانِ سماعت چیف جسٹس نے وکیل الیکشن کمیشن کو تحریک لبیک کے ذمہ داروں کے نام کے ساتھ حافظ کا لفظ استعمال کرنے سے روک دیا۔چیف جسٹس نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ آپ ایک آئینی ادارے میں انہیں حافظ کیوں کہہ رہے ہیں، آپ لوگوں سے مساوی سلوک نہیں کرتے ، آپ نے عملدرآمد رپورٹ میں جو کچھ لکھا وہ فیصلے سے پہلے کا ہے ، ہمارے فیصلے کے بعد کیا اقدامات اٹھائے وہ بتائیں۔چیف جسٹس نے تحریک لبیک پاکستان کی الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن پر بھی سوالات اٹھا دئیے اور کہا کیا آپ نے ٹی ایل پی رجسٹر کرانے والے شخص کو بلایا؟ ٹی ایل پی رجسٹریشن کرانے والا شخص تو دبئی میں رہتا ہے ،تووکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹی ایل پی کو بلایا تھا رجسٹر کرانے والے کو نہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن اس طرح کام کرتا ہے ؟راتوں رات سیاسی جماعتیں کیسے رجسٹر ہوجاتی ہیں؟ کچھ لوگ کہتے ہیں پاکستان میں اوپر سے حکم آتا ہے کچھ کہتے ہیں پہیے لگ جاتے ہیں، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا بیرون ملک رہنے والا سیاسی جماعت رجسٹر کروا سکتا ہے ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ بیرون ملک رہنے والوں کے پارٹی رجسٹر کرانے پر پابندی نہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آزادانہ ،منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانے ہیں ،عدالت نے مزید سماعت 15نو مبر تک ملتوی کر دی۔