احتجاج پر بندے کون اٹھا لیتا،دوسال سے دادرسی نہ ہو تو آدمی کیا کرے:چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق کی عدالت نے 2022 میں گاڑی کی ٹکرسے مرنے والے شکیل تنولی کے والد رفاقت تنولی کی گرفتاری کیخلاف درخواست پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے گرفتار افراد کی ضمانت پر رہائی کی یقین دہانی پر مرکزی کیس میں قانون کے مطابق کارروائی کرنے اور رفاقت علی کا بیان قلمبند کرنے کی ہدایات کے ساتھ سماعت ملتوی کردی۔
چیف جسٹس نے کہا دو سال سے چالان جمع نہیں ہوا تو پتا چلتا ہے سسٹم کتنا ناکام ہو چکا ہے ، کوئی شوق سے احتجاج کیلئے نہیں نکلتا، ایک آدمی کی دو سال سے دادرسی نہ ہو تو وہ کیا کرے ، اگر قانون سب کیلئے برابر ہے تو برابری کر کے دکھائیں ناں، طلبی پر آئی جی اسلام آبادعلی ناصر زیدی ،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایس ایچ او عدالت میں پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس کے استفسارپر ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا یہ لوگ احتجاج کر رہے تھے اور ریڈ زون جانا چاہتے تھے ،چیف جسٹس نے کہا تو کیا ہوا کوئی دہشتگرد ہیں وہ،احتجاج کرنا غلط ہے ؟ آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا جس وقت ایکسیڈنٹ ہوا یہ گاڑی جسٹس شہزاد احمد خان کی فیملی کے استعمال میں تھی، گاڑی کی سپردداری کی ہماری درخواست مسترد کر دی۔ چیف جسٹس نے کہا دو سال سے اس کو انصاف نہیں ملا،احتجاج ان کا حق ہے ، آپ نے ان کے بندے اٹھا لئے ،شوق سے تو کوئی احتجاج کیلئے باہر نہیں نکلتا،بیان ریکارڈ نہیں کیاتوذمہ داری ایس ایچ اوکھنہ پرہو گی۔ آئی جی نے کہا تفتیش میں پیشرفت ہوئی ہے ،ہمیں نئی فوٹیجز ملی ہیں، تفتیش میں معلوم ہوا خاتون گاڑی چلا رہی تھی،چیف جسٹس نے کہا ایک آدمی کی دو سال سے دادرسی نہیں ہوئی تو وہ اب کیا کرے ، میں نے آپ کو پوچھنے کیلئے بلایا تھا احتجاج کرنے پر بندے کون اٹھا لیتا ہے ؟ آئی جی نے کہا پولیس نے ایک گھنٹے سے زیادہ مظاہرین سے مذاکرات کیے ۔ چیف جسٹس نے کہا ہم نے حلف لے رکھا ہے تو پولیس نے بھی اٹھا رکھا، درخواستگزار وکیل نے کہا پولیس رفاقت تنولی کا بیان قلمبند نہیں کر رہی، ایس ایچ او نے کہا رفاقت تنولی بیان قلمبند کرانے نہیں آیا، چیف جسٹس نے کہا پولیس بیان قلمبند کر لیتی تو یہ نوبت ہی نہ آتی، اب بیان قلمبند کر لیں۔