جج کو سٹریس لینا نہیں دینا چاہیے، 60 فیصد کیسز غلط آتے ہیں : جسٹس جواد

جج کو سٹریس لینا نہیں دینا چاہیے، 60 فیصد کیسز غلط آتے ہیں : جسٹس جواد

میں نے سب سے مشکل کیس کئے ، کبھی سٹریس نہیں ہوا، ججز کی تربیت بہت ضروری ہے جج کو کورٹ ہینڈلنگ اور اسکے فیصلوں سے پر کھا جاتا ہے :پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں خطاب

لاہور (کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے کہا ہے کہ میں نے اس ملک میں سب سے مشکل کیس کئے، مجھے کبھی سٹریس نہیں ہوا، بہت سے سیاسی کیس  بھی آئے مگر کبھی سٹریس نہیں ہوا ،جج کو سٹریس لینا نہیں سٹریس دینا چاہیے ،عدالتوں میں 60فیصد کیسز غلط آتے ہیں، ہر جج کے پاس اختیار ہے وہ پہلی سماعت پر کیس خارج کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عدالتی فیصلوں کیلئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال کے موضوع پر ایڈیشنل سیشن ججز اور سینئر سول ججز سمیت دیگر کیلئے منعقدہ پانچ روزہ ٹریننگ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں منعقدہ تقریب میں پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے ڈی جی جسٹس (ر)سردار احمد نعیم ،ڈائریکٹر سیشن جج ریٹائرڈ محمد ارم ایاز سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ جسٹس جواد حسن نے مزید کہا کہ ججز کی تربیت بہت ضروری ہے اس کیلئے اکیڈمی میں بہت سے کورسز ہو ر ہے ہیں، جج کو کورٹ ہینڈلنگ اور اسکے فیصلوں سے پر کھا جاتا ہے ،ہر ہائیکورٹ میں 30 سے 40 فیصد فیملی کیسز آتے ہیں، ہر کورٹ میں آپ نے نوٹس نہیں کرنا ۔واضح رہے جوڈیشل افسروں کو ریونیو کی دستاویزات کو پڑھنے اور تشریح کرنے کا طریقہ بارے پانچ روزہ ٹریننگ کروائی گئی، جوڈیشل افسروں کو ذہبی دباؤ کو کم کرنے کے طریقے ،وجوہات اور مصنوعی ذہانت بارے بھی ٹریننگ کروائی گئی ،تقریب کے اختتام پر جوڈیشل افسروں میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئیں ۔ دریں اثناء پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں مختلف تربیتی کورسز مکمل کرنیوالے ججوں کے اعزاز میں الوداعی تقریب کابھی انعقاد کیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں