یہ عدالت ہے مذاق نہیں، غیر ذمہ دار اہلکاروں کو پولیس میں نہیں ہونا چاہئے : چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ
فوزیہ کو جنات لے گئے یہ پتہ ہے آپ کو، اتنا نہیں پتہ کہ شناختی کارڈ نہیں بنایا :عدالت کا درخواستگزار سے مکالمہ پچھلے دنوں ڈپٹی کمشنر کا کتا گم ہوا، اسے ڈھونڈ لیا گیا:وکیل ، میڈیا کیلئے خبر نہ بنائیں:چیف جسٹس ،ریمارکس
لاہور (کورٹ رپورٹر )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کاہنہ سے مبینہ اغوا ہونے والی خاتون فوزیہ بی بی کی بازیابی کیلئے دائر درخواست کی سماعت کے د وران 25دسمبر کو تفتیشی رپورٹ طلب کرلی۔دوران سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس میں کہا کہ پولیس کی تحویل میں لی گئی فائل سے کچھ نہیں ملا،یہ خالی ہے ،پولیس کی بری عادت ہے فائل سے کچھ چیزوں کو نکال لیتی ہے ،یہ عدالت ہے کوئی مذاق نہیں،ایسے غیر ذمہ دار اہلکاروں کو پولیس فورس میں نہیں ہونا چاہئے ۔عدالت نے درخواستگزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ فیملی ٹری میں فوزیہ کا نام بھی شامل نہیں ، دستاویزی ثبوت دیں کہ فوزیہ آپکی بیٹی ہے ، فوزیہ کو جنات لے گئے یہ پتہ ہے آپ کو، اتنا نہیں پتہ کہ شناختی کارڈ نہیں بنایا۔
مدعی کے وکیل نے بتایا کہ فوزیہ کی ایک تصویر اور بھائی کی شادی کی ویڈیو پولیس کو دی ہے۔ عدلت نے ریمارکس میں کہا کہ آپکو شادی کی ویڈیو بنانے کا پتہ ہے شناختی کارڈ کیوں نہ بنوایا،مدعی کے وکیل نے بتایا کہ لاعلمی کی وجہ سے درخواست گزار کے تینوں بچوں کے شناختی کارڈز نہیں بنوائے گئے ، عدالت نے استفسار کیا کہ فوزیہ کے بارے کیوں نہ بتایا جس کو جنات اٹھا کر لے گئے تھے ۔درخواستگزار کے وکیل نے مزید کہا کہ پولیس کا کام خاتون کو بازیاب کرنا ہے وہ کرلے گی،پچھلے دنوں ڈپٹی کمشنر کا کتا گم ہوگیا تھا اس کو ڈھونڈ لیا گیا۔عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ وکیل صاحب میڈیا کیلئے خبر نہ بنائیں، ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ انکوائری کے بعد تفتیشی کو برطرف کرکے پیکا کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے ، پولیس فوزیہ کی بازیابی کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے مدد لے رہی ہے ۔