2025 بھارت کیلئے ناکامی کا سال ، سفارتی بحران کا غلبہ رہا

 2025 بھارت کیلئے ناکامی کا سال ، سفارتی بحران کا غلبہ رہا

پاکستان سے کشیدگی، امریکی تجارتی دباؤ ، روپیہ کی کمزوری سے معیشت متاثر ہوئی امریکا چین روس سے تعلقات میں توازن نہ رہا، 2026مزید چیلنجز لائے گا

 اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر)بھارت سال 2025 میں سیاسی، معاشی اور سفارتی بحرانوں کا شکار رہا، جہاں اندرونی کمزوریوں اور بیرونی دباؤ نے اسے متعدد محاذوں پر مشکلات سے دوچار رکھا۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق پاک بھارت فوجی کشیدگی، امریکا کے ساتھ تجارتی تنازع، ایک مہلک طیارہ حادثہ، بھارتی کرنسی کی کمزوری اور مجموعی معاشی بے چینی نے پورے سال ملک کی صورتحال متاثر کی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی سٹریٹجک خودمختاری مؤثر ثابت نہیں ہوئی جس کے باعث اسے بیک وقت امریکا، چین اور روس کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے میں دشواری کا سامنا رہا۔

امریکا اور بھارت کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ بارہا موخر ہوا جبکہ امریکی ٹیرف کے نفاذ نے معیشت پر اضافی دباؤ ڈالا۔ جی ایس ٹی اصلاحات بھی محدود شعبوں تک رہیں، جس سے معاشی ترقی متاثر ہوئی۔دسمبر 2025 میں بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں نمایاں کمزور رہا، جس سے درآمدات مہنگی ہوئیں اور مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ۔ دفاعی اور خارجہ پالیسی کے ماہرین کے مطابق پاک بھارت تصادم کے اثرات بھارتی عسکری برتری کے بجائے واشنگٹن کی پالیسی میں تبدیلی کے ذریعے سامنے آئے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کا کریڈٹ لینا اور پاکستانی عسکری قیادت سے بڑھتے روابط بھارت کی سفارتی ناکامی قرار دئیے گئے۔

ماہرین کے مطابق امریکا میں بھارت کی معاشی اور سفارتی گنجائش محدود ہو چکی ہے ، جو عالمی سطح پر اس کی کمزور پوزیشن کی عکاسی کرتی ہے ۔روپے کی قدر میں کمی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بھارت کو مزید معاشی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ امریکا بھارت تجارتی معاہدوں میں ناکامی بھارت کی عالمی معاشی ساکھ میں موجود خلا کی نشاندہی کرتی ہے ۔ مجموعی طور پر بھارت 2025 میں مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں برداشت کرتا رہا۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2026 میں بھارت کو اندرونی کمزوریوں، علاقائی کشیدگی اور بڑھتے عالمی دباؤ کے پیش نظر مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں