پاکستان سے شکست کے بعد بھارت کی ہر روز جگ ہنسائی

 پاکستان سے شکست کے بعد بھارت کی ہر روز جگ ہنسائی

حقائق یہی ہیں کہ بھارت کو مودی کے مائنڈ سیٹ نے یہاں تک پہنچایا

(تجزیہ:سلمان غنی)

 نریندر مودی کا بھارت اپنی سیاسی تاریخ کے مشکل ترین حالات سے دوچار ہے اور 2025میں ہونے والی پاک بھارت کشیدگی اور اس میں بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی شکست کے بعد کوئی دن ایسا نہیں جا رہا کہ دنیا بھر میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوتی نظر نہ آ رہی ہو عالمی قیادت خصوصاً امریکی صدر ٹرمپ کے بعد دنیا بھر کا میڈیا خطہ کے حالات اور خصوصاً بھارت کو ہونے والی شکست کے بعد اس کی حالت زار کا ذمہ دار بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور اس کی پالیسیوں کو ٹھہراتا نظر آتا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی خصوصی رپورٹ میں کہا گیا ہے پاک بھارت تصادم کا دیرپا نتیجہ واشنگٹن کی پالیسی میں واضح تبدیلی کی صورت میں سامنے آیا لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ بھارت اس صورتحال سے دوچار کیونکر ہوا اس کا ذمہ دار کون اور کیوں اور کیا وجہ ہے کہ امریکی صدر سمیت عالمی رہنما پاکستان کی عسکری قیادت سے روابط کو ترجیح دیتے نظر آ رہے ہیں اور دنیا بھر کا موثر میڈیا اس کا اقرار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ دنیا کی تاریخ میں ملکوں کے مستقبل کے حوالہ سے لیڈر شپ کے فیصلوں کا اہم کردار ہوتا ہے بعض فیصلے ملکوں کو آگے کی طرف لے جاتے ہیں اور بعض ملکوں اور قوموں کو ترقی کی بجائے پستی کی طرف دھکیل دیتے ہیں اور ان فیصلوں کے نتائج لیڈر شپ کو کم ملکوں اور قوموں کو بھگتنا پڑے ہیں یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے فیصلے اگر ذاتیات کی بجائے اداروں کی سطح پر ہوں تو وہی فیصلے اچھے نتائج کے حامل ہوتے ہیں ۔علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو بھارت میں نریندر مودی سرکار کے برسراقتدار آنے کے بعد نریندر مودی نے اپنے خاص انداز میں ہندوتوا کے ایجنڈا کے تحت بھارت کو چلانے کی کوشش کی اور بھارت میں استحکام آنے کی بجائے سیاسی محاذ پر تناؤ ٹکراؤ کی کیفیت رہی ، ہندوستان اقلیتوں کے لئے مشکل رہا خصوصاً نریندر مودی نے اپنی سیاست کو پاکستان دشمنی سے منسلک کرتے ہوئے سیاسی اور انتخابی محاذ پر کامیابی حاصل کی ۔

مودی نے پہلگام واقعہ کو بنیاد بنا کر پاکستان کو سبق سکھانے کے لئے جس غرور، تکبر اور گھمنڈ کا اظہار کیا تھا 7مئی کو پاکستان پر جارحیت مسلط کر ڈالی اور پاکستان کے لئے کھودے گئے گڑھے میں خود ہی جا گرا اور آج تک نکل نہیں پایا نریندر مودی اور ان کی سرکار اور عسکری قیادت آج تک نفسیاتی کیفیت سے دوچار ہے دس مئی کو بھارت کے مقابلہ میں پاکستان کی عظیم فتح نے اسے عالمی محاذ پر سرخرو کیا اور خود بھارت کا عالمی اتحادی بھی ایک طرف جہاں پا ک بھارت جنگ بندی کا کریڈٹ لیتا نظر آیا تو دوسری جانب جنگ کے بڑے فاتح جرنیل فیلڈ مارشل عاصم منیر کی دنیا نے ستائش کی۔

پاکستان دنیا بھر کے سامنے ناقابل تسخیر ٹھہرا اور وہ قوتیں جو علاقائی محاذ پر ہمیشہ بھارت کو بڑا ملک سمجھتے ہوئے ترجیح دیتی تھیں پاکستان کے بڑے کردار کی معترف بنیں اور آج بھارت اپنی بنیاد سے اکھڑتا نظر آ رہا ہے ۔حقائق یہی ہیں کہ بھارت کو نریندر مودی کے مائنڈ سیٹ نے یہاں تک پہنچایا ہے جبکہ اس کے مقابلہ میں پاکستان کی ریاست اور حکومت کی جانب سے خارجہ پالیسی اور معیشت کے محاذ پر یکسوئی اور سنجیدگی کے عمل نے پاکستان کی علاقائی اور عالمی حیثیت میں اضافہ کیا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو دفاعی محاذ پر خود انحصاری کی منزل پر پہنچنے کے بعد پاکستان معاشی حوالہ سے بھی ترقی کی منزل پر پہنچ سکتا ہے لیکن اس کے لئے پاکستان میں سیاسی استحکام ناگزیر ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں