وفاقی قانون کی موجودگی میں صوبائی قانون کے تحت زیادہ سزا آئین کے منافی : سپریم کورٹ
وفاقی قانون کو صوبائی قانون پر فوقیت حاصل ہے ،منشیات کیس کافیصلہ جاری،مجرم ساجدخان کی سزامیں کمی کردی متوفی سرکاری ملازمین کے کوٹے پر تقرریاں برقرار، سندھ حکومت کی تمام اپیلیں خارج ،چاررکنی بینچ کامتفقہ فیصلہ
اسلام آباد(اپنے نامہ نگارسے ،اے پی پی) سپریم کورٹ نے منشیات کے ایک مقدمے میں اہم آئینی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے وفاقی قانون کی موجودگی میں صوبائی قانون کے تحت زیادہ سخت سزا دینا آئین کے آرٹیکل 143 کے منافی ہے ۔جسٹس ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل بینچ نے ساجد خان کی درخواست پر چار صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، جس میں عدالت کا کہناہے کہ ایف آئی آر کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ 1997 کے تحت درج کی گئی تھی،ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ نے صوبائی قانون 2019 کے تحت زیادہ سخت سزا سنائی،آئین کے آرٹیکل 143 کے تحت وفاقی قانون کو صوبائی قانون پر فوقیت حاصل ہے ،صوبائی قانون کے تحت دی گئی سزا آئینی طور پر درست نہیں، عدالت نے صوبائی قانون کے تحت دی گئی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کی سزا میں نمایاں کمی کرتے ہوئے ساجد خان کو وفاقی قانون کے تحت پانچ سال قیدِ بامشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا کردی۔ساجد خان کو پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی قانون کے تحت دی گئی سزا برقرار رکھی تھی۔
عدالت نے ہدایت کی کہ فیصلے کی کاپی چیئرمین لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان، اٹارنی جنرل پاکستان اور وزارت قانون و انصاف کو آگاہی اور ضروری کارروائی کے لیے ارسال کی جائے ۔ سپریم کورٹ نے متوفی سرکاری ملازمین کے بچوں اور ورثا کو ملازمت دینے سے متعلق اہم فیصلے میں سندھ حکومت کی تمام اپیلیں خارج کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے احکامات برقرار رکھے ، سپریم کورٹ کے چاررکنی بینچ کے متفقہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے متوفی کوٹے کے تحت ملازمت سے متعلق آئینی درخواستیں اس وقت منظور کیں جب سندھ سول سرونٹس رولز 1974 کا رول 11-A پوری طرح نافذ العمل تھا، لہذا ان فیصلوں کو بعد میں آنے والے کسی عدالتی فیصلے کی بنیاد پر کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے مطابق اگر کسی سرکاری ملازم کی وفات کے وقت اس کے بچے نابالغ ہوں اور بیوہ کو ملازمت نہ دی گئی ہو تو بچوں کے بالغ ہونے پر درخواست دینے کے حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے عمومی طور پر مستقبل پر لاگو ہوتے ہیں، جب تک واضح طور پر ماضی سے لاگو کرنے کا اعلان نہ کیا جائے ۔ سابقہ اور بند ہو چکے مقدمات کو دوبارہ کھولنا عدالتی فیصلوں کی قطعیت کے اصول کے خلاف ہے ۔