بھارت میں اقلیتیں منظم تشدد کا شکار : امریکی اخبار
مودی کی دانستہ خاموشی واضح اشارہ ہے کہ شدت پسند اپنا کام جاری رکھیں بی جے پی حکومت اقلیتوں سے مذہبی اور نسلی امتیاز برت رہی ہے :رپورٹ
اسلام آباد(اے پی پی)امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی اقلیت بھی بدترین صورتحال کا شکار ہے۔ مودی کی سربراہی میں قائم بی جے پی حکومت کی قلعی کھولتے ہوئے وال سٹریٹ جرنل نے لکھا کہ بھارت کا ہندوتوا مشن عالمی سطح پر شرمندگی کا سبب بن گیا ہے۔ بھارت میں سیکولر ازم اب محض ایک علامتی نعرہ ہے جبکہ اقلیتیں پورے ملک میں منظم تشدد کا شکار ہیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ مودی حکومت فاشسٹ ہے، وہ صرف ہندو اکثریت کی ترجمان ہے۔ بی جے پی حکومت اقلیتوں سے مذہبی اور نسلی امتیاز برت رہی ہے۔
مودی کے دور میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں خطرناک اضافہ ہوا۔ 2014 کے بعد مسلمان رہائش، ملامت، تعلیم اور ووٹ کے حق تک امتیاز کا شکار ہیں۔ صرف 2اعشاریہ3 فیصد آبادی ہونے کے باوجود عیسائی بھی ہندوتوا تشدد کی زد میں ہیں، 2025 میں 706 مسیحی مخالف واقعات ریکارڈ ہوئے۔ گرجا گھروں پر حملے ، کرسمس کی علامات کی توڑ پھوڑ ہوئی مگر مودی دانستہ خاموش رہا۔ مودی کا حملوں کی مذمت نہ کرنا شدت پسند ہندو عناصر کے لیے واضح سرکاری اشارہ ہے کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں۔ اینٹی کنورژن قوانین، جانبدار ریاستی رویہ اقلیتوں کے خلاف تشدد کو عملی تحفظ فراہم کر رہا ہے ۔ بھارت میں خوف اقلیتوں کی شناخت بن گیا ہے ۔