ترقیاتی منصوبوں کیلئے پی سی ون کی منظوری لازم،نیا جامع فریم ورک
پی سی ون باقاعدہ منظور ہونے تکقیاتی سکیم اے ڈی پی کا حصہ نہیں بن سکے گی بجٹ کے موقع پر بعض سیاستدانوں کی بلیک میلنگ کا راستہ بند ہوگا :حکومتی ذرائع
لاہور (محمد حسن رضا سے )آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ترقیاتی منصوبہ بندی میں شفافیت بڑھانے کے تناظر میں پنجاب حکومت نے ایک بڑا اور تاریخی ادارہ جاتی فیصلہ کرتے ہوئے پی سی ون کی تیاری اور جانچ پڑتال کے لیے نیا جامع فریم ورک منظور کر لیا ہے ۔ اس فیصلے کے بعد اب کوئی بھی ترقیاتی سکیم سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا حصہ نہیں بن سکے گی جب تک اس کا پی سی ون باقاعدہ طور پر منظور نہ ہو جائے ۔حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں بجٹ کے موقع پر ترقیاتی منصوبے شامل کرانے کے لیے اتحادی جماعتوں یا بعض سیاستدانوں کی جانب سے بلیک میلنگ یا سفارشات کا راستہ بند ہو جائے گا۔ یہ صوبے کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ اے ڈی پی میں شمولیت کو پی سی ون کی منظوری سے مشروط کیا گیا ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں بغیر مکمل تیاری، بغیر پی سی ون منظوری اور حتیٰ کہ لاگت کا درست تخمینہ لگائے بغیر منصوبے بجٹ میں شامل کیے جاتے رہے ، جس کے باعث لاگت اور مدت میں غیر معمولی اضافہ، بار بار ریویژن اور عملدرآمد کے سنگین مسائل پیدا ہوتے رہے ۔نئے فریم ورک کی منظوری سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے دی، جبکہ اس کا ڈرافٹ چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ بورڈ پنجاب ڈاکٹر نعیم رئوف اور سیکرٹری پی اینڈ ڈی رفاقت نسوانہ نے تیار کیا۔ فریم ورک کے تحت پی سی ون کی تیاری کو معیاری بنانے ، ابتدائی لاگت، شواہد اور منصوبہ جاتی وضاحت کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔اپریزل فریم ورک میں سٹیج گیٹ ریڈینس چیکس شامل کیے گئے ہیں، جن کے تحت گیٹ زیرو سے گیٹ تھری تک مرحلہ وار جانچ ہوگی۔ ذرائع کے مطابق اس اصلاحی اقدام کا مقصد منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر، لاگت میں اضافے اور عملدرآمد کے مسائل کو کم کرنا ہے ۔ حکام کے مطابق یہ اصلاحات آئی ایم ایف پروگرام سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ پنجاب میں شفاف، مؤثر اور منظم ترقیاتی منصوبہ بندی کے نئے دور کا آغاز ہیں۔