دیوار سے لگائیں تو احتجاج کا آپشن ہی بچتا ہے : سہیل آفریدی ، وزیراعلیٰ سندھ کا ملاقات سے انکار
پنجاب اور سندھ میں اچھا سلوک نہیں ہوا، تین ججز کے حکم کو ردی کی ٹوکری میں ایک جیل سپرنٹنڈنٹ پھینک دیتا وکلا تحریک شروع کریں میں ساتھ کھڑا رہوں گا، آپریشن کے نام پر لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ، سلمان راجہ ،وکلا سے خطاب
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ میں اپنے لیڈر عمران خان سے ملنا چاہتا ہوں لیکن کسی نے نہیں سنی، جب دیوار سے لگایا جاتا ہے تو پھر احتجاج کا آپشن ہی بچتا ہے جبکہ وزیر اعلی ٰ سندھ مراد شاہ نے ملاقات نہ کرنے کا پیغام بھجوا دیا۔سندھ ہائیکورٹ میں تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ،میرا لیڈر جیل میں ہے اور وہ پاکستان کا مقبول ترین لیڈر ہے ، چیف جسٹس بھی ملاقات کو تیار نہیں اور نہ لیٹر کا جواب دیا۔احتجاجی سیاست میں ہم تب جاتے ہیں جب کوئی راستہ نہیں بچتا جبکہ آئین و قانون اسکی اجازت دیتا ہے ۔ وزیر اعلیٰ بنا تو وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیف جسٹس کو خط لکھا۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز حکم دیتے ہیں کہ میں عمران خان سے مل سکتا ہوں، تین ججز نے یہ حکم دیا لیکن اس حکم کو ردی کی ٹوکری میں ایک جیل سپرنٹنڈنٹ پھینک دیتا۔
یہ میری بے عزتی نہیں بلکہ عدلیہ اور وکلا کے پیشے کی بے توقیری ہے ۔سہیل آفریدی نے کہا کہ آئین و قانون کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے ، اداروں کا نہیں پورے پاکستان کا نقصان ہو رہا ہے ، انصاف برائے فروخت نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے پی آئی اے کو بھی نیلام کر دیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ بار کے تمام وکلا کا مشکور ہوں اور مجھے خوشی ہے میں وکلا کے سامنے اپنی بات رکھ رہا ہوں، سندھ کی عوام بہادر، جرأت مند اور دلیر ہے ۔وزیر اعلیٰ نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھیوں نے اپنے دارالخلافہ میں سب قوموں کو جگہ دی ہے ، سندھیوں کا دل بڑا ہے جو مہمانوں کو عزت دیتے ہیں لیکن سندھ کی حکومت نے مہمانوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اور اجرک ٹوپی کی بھی عزت نہیں کی۔سہیل آفریدی نے کہاہے کہ احتجاجی سیاست کا چیمپئن ہوں۔پنجاب میں بھی ہمارے ساتھ برا سلوک ہوا سندھ میں بھی ہمارے ساتھ برا سلوک ہوا، سہیل آفریدی نے کہا کہ جب تک وکلا کھڑے نہیں ہوں گے عدلیہ آزاد نہیں ہوگی، جتنی بھی تحریک چلی سندھ ہائیکورٹ بار کھڑا رہا۔
وکلا تحریک شروع کریں میں آئین و قانون کی بالادستی کے لیے کھڑا رہوں گا، وکلا پر گولی چلانے سے پہلے مجھ پر گولی چلانا پڑے گی۔خطاب سے قبل، سندھ ہائیکورٹ بار کے صدر حسیب جمالی نے وزیر اعلیٰ کے پی کے کو سندھی اجرک و ٹوپی پہنائی۔ دریں اثنا کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات طے تھی، مگر بعد میں وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے پیغام آیا کہ وہ ملاقات نہیں کر سکتے ، جس کے بعد ملاقات منسوخ ہو گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ آج میں اپنے گھر میں موجود ہوں، ہم آئین و قانون کی بات کرتے ہیں،ہمیں بیابانوں میں دھکیل دیا گیا، موٹر وے بند کر دیا گیا۔سلمان اکرم راجا کا کہنا کے پی کے میں آپریشن کے نام پر لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے ۔