این سی سی آئی اے میں کرپشن، سینیٹ قائمہ کمیٹی کا اظہار تشویش
گریڈ 16سے 19تک کے 13 افسروں کو سزا ، 15لاکھ وصول:ایف آئی اے بہت سے غیر رجسٹرڈ کال سینٹرز فراڈ کی سرگرمیوں میں ملوث :کمیٹی کوبریفنگ
اسلام آباد (نیوز رپورٹر)سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے ، سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کا اجلاس گزشتہ روز چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی صدارت میں گزشتہ روز منعقد ہوا، سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اجلاس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں کرپشن، سائبر کرائم، ڈیٹا سکیورٹی، انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل گورننس سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی کو اربوں روپے کرپشن کیس پر بریفنگ دی گئی۔ 1.5 کروڑ ماہانہ رشوت کی وصولی کے متعلق، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اینٹی منی لانڈرنگ، ایف آئی اے نے بتایا کہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گریڈ 16 سے 19 تک کے 13 افسروں کو سزا ہوئی ہے ، ان میں سے تین حفاظتی ضمانت پر ہیں اور دو کو بعد از گرفتاری ضمانت مل گئی ہے ، اب تک 15 لاکھ کی وصولی ہو چکی ہے ۔ چیئرپرسن نے کیس کو حتمی شکل دینے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور ٹائم لائن مانگی جسے حکام فراہم کرنے میں ناکام رہے ۔ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ گزشتہ سال کے دوران 271 افسروں کو جرمانے کیے گئے جو کہ ایف آئی اے کی کل تعداد کا 5.8 فیصد سے زائد ہے۔
سینیٹر پرویز رشید نے ایف آئی اے کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بروقت حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ کال سینٹرز غیر قانونی نہیں ہیں لیکن بہت سے غیر رجسٹرڈ سینٹرز فراڈ کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ایف آئی اے نے کہا کہ غیر قانونی کال سینٹرز خفیہ طور پر کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی صحیح تعداد کا پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے تاہم انہوں نے ایسی کارروائیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔