مویشی پال کسانوں کی سنی گئی ،جلد پراجیکٹ کا آغاز کیا جائیگا
پنجاب کے مویشیوں کی 25 فیصد تعداد ، معیار اود دودھ کی پیداوار بڑھایا جائیگا محکمہ لائیو سٹاک مویشیوں کی نسلوں کی جینیاتی بہتری میں مصروف :ترجمان
لاہور(اپنے نامہ نگار سے )پنجاب میں مویشی پال کسانوں کی مسلسل معاشی مشکلات، کم آمدن اور بڑھتے نقصانات کی اصل وجوہات بالآخر سرکاری سطح پر تسلیم کر لی گئیں۔ وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں محکمہ لائیو سٹاک نے ماضی کی پالیسی ناکامیوں، انتظامی کمزوریوں اور تکنیکی غفلت کا کھل کر اعتراف کیا ہے ۔ روزنامہ دنیا کو موصول ہونیوالی اہم سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبے میں مویشیوں کی اکثریت غیر معیاری اور کم پیداوار والی نسلوں پر مشتمل رہی، جس نے پورے لائیو سٹاک سیکٹر کو دہائیوں تک کمزور رکھا۔
سرکاری بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ پنجاب میں موجود دیسی مویشی اوسطاً صرف 3 سے 6 لٹر دودھ دیتے رہے ، جبکہ عالمی معیار کے مطابق دودھ کی پیداوار اس سے کئی گنا زیادہ ہونی چاہیے تھی۔ محکمہ لائیو سٹاک کے حکام نے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ مستقبل میں جینیٹک بہتری، معیاری سیمن کی فراہمی اور مصنوعی نسل کشی کے جدید نظام کو وسیع پیمانے پر متعارف کرایا جائے گا تاکہ مویشیوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو اور کسانوں کی آمدن بہتر بنائی جا سکے ۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ اعتراف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پنجاب میں مویشی پال کسانوں کا بحران کسی ایک سال یا ایک حکومت کا نتیجہ نہیں، بلکہ دہائیوں پر محیط پالیسی کمزوریوں اور غفلت کا حاصل ہے ۔
محکمہ لائیو سٹاک حکام کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی کے ساتھ لے رہے ہیں اور جلد ایک پراجیکٹ کا آغاز کردیا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے مویشی پالنے والے حضرات نے غیر محتاط نسل کشی کے طریقہ کو اپنایا جس کے باعث مویشیوں کی پیداوار بہت حد تک متاثر ہوئی جس کے نتیجے میں70 سے 75فیصد نان ڈسکرپٹ مویشی سامنے آئے جن کی وجہ سے صوبہ پنجاب میں مویشیوں کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے ،اس کے برعکس مویشیوں کی خالص مقامی نسلیں ساہیوال، چولستانی، دھنی اور داجل وغیرہ شامل ہیں، جو کہ پنجاب کے مویشیوں کی 25 فیصد تعداد پر مشتمل ہیں، مزید ازاں بریڈ امپرومنٹ ایک دن یا ایک سال کا کام نہیں اس کا انحصار عشروں پر محیط کارگر اور مثبت حکمت عملی پر کیا جاتا ہے ۔ محکمہ لائیو سٹاک پنجاب مویشیوں کی نسلوں کی جینیاتی بہتری میں مصروف عمل ہے ۔