عمران کیخلاف مقدمات ختم کئے جائیں:پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی
نئے میثاق جمہوریت پر اتفاق پیدا ،شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے اچکزئی کو دورہ لاہوراورآفریدی کو دورہ کراچی پر خراجِ تحسین پیش
اسلام آباد(خبرنگارخصوصی)تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے عمران خان سمیت تمام سیاسی اسیروں کیخلاف تمام جھوٹے ، بے بنیاد اور سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات فوری طور پر ختم کرنے ،ملاقاتوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے اور تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے قائدین کے کامیاب دورہ لاہوراور خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ کو دورہ کراچی پر خراجِ تحسین پیش کیا اورتمام جمہوری قوتوں سے ایک نئے میثاق جمہوریت پر اتفاق پیداکرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔یہ مطالبات پارلیمانی پارٹی میں منظور کی گئی ایک قراردادمیں کئے گئے ۔تحریکِ انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، جس کی صدارت پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کی۔
متفقہ طور پر قرارداد کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف ان افراد کی ذاتی اور سیاسی آزادی کے منافی ہیں بلکہ جمہوری عمل اور شہری حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہیں۔قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کے خاندان کے افراد کے ساتھ قانونی طور پر ان کے تعلقات اور ملاقاتوں کو بحال کیا جائے ، عمران خان کی سیاسی ملاقاتوں اور رابطوں کو ان کا قانونی حق تسلیم کرتے ہوئے بلا رکاوٹ جاری رکھنے کی اجازت دی جائے ۔قراردادمیں کہا گیا کہ یہ پارلیمانی پارٹی اس بات پر زور دیتی ہے کہ تمام سیاسی اسیروں کے ساتھ انصاف اور قانون کی برابری کو یقینی بنایا جائے ۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ سندھ حکومت نے ابتدائی طور پر سکیورٹی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جن میں اجرک اور سندھی ٹوپی کی ثقافتی توہین بھی شامل تھی، جو سندھ کی روایات کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے بلائے گئے امن جرگے ، جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی، کے متفقہ اعلامیے کو من و عن تسلیم کیا جائے اور اس پر فوری اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے ۔ پارلیمانی پارٹی اس امر کا اعادہ کرتی ہے کہ ملک اس وقت ایک نہایت نازک اور پیچیدہ سیاسی دور سے گزر رہا ہے ۔ اس سلسلے میں تمام جمہوری قوتوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وقت کی اہم ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نئے میثاقِ جمہوریت پر اتفاق کیا جائے ، جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ایسی تشکیلِ نو شامل ہو جس پر تمام فریقین کا اتفاق ہو،شفاف، آزاد و منصفانہ نئے انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے ،تاکہ حقیقی عوامی نمائندے منتخب ہو کر ملک میں جمہوری اور مستحکم حکومت تشکیل دے سکیں۔