پاورسیکٹرناکام ،بجلی مہنگی ،سپلائی کمپنیوں کی نجکاری ضروری:نیپرا

پاورسیکٹرناکام ،بجلی مہنگی ،سپلائی  کمپنیوں کی نجکاری ضروری:نیپرا

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)پاور سیکٹرکیلئے کئے گئے اقدامات کے باوجود کارکردگی بہتر نہ ہوسکی۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے پاور سیکٹر کی مجموعی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔

نیپرا نے سٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025 جاری کر دی۔ نیپرا رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک میں بجلی کا پیداواری، ترسیلی اور تقسیمی نظام نقائص سے بھرپور ہے جو مہنگی بجلی کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے ۔ پیداواری اور تقسیمی نظام کی خامیوں کا براہ راست خمیازہ صارفین کپیسٹی پیمنٹ کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ ترسیلی نظام کی خرابیوں کے باعث مہنگے پاور پلانٹس چلائے جارہے ہیں جبکہ سستے پاور پلانٹس سے بجلی کی فراہمی میں ترسیلی نظام کی ناکامیاں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق صارفین سے ترسیلی نظام کا مکمل ٹیرف وصول کیا جا رہا ہے ۔ اس رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ چار ہزار میگاواٹ کی ٹرانسمیشن لائن سے صرف 35 فیصد بجلی ترسیل ہو رہی ہے تاہم صارفین کو چار ہزار میگاواٹ کی مکمل ٹرانسمیشن لائن کا ٹیرف ادا کرنا پڑ رہا ہے ۔ سرکاری پاور پلانٹس کی پیداواری کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے ۔ رپورٹ میں 747 میگاواٹ کے گدو پاور، 969 کے نیلم جہلم سمیت گولن گول، جناح اور گلپور پاور ہاؤسز کی کارکردگی کو انتہائی خراب قرار دیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں بجلی کمپنیوں پر اوور بلنگ اور کنکشن کے اجرا میں تاخیری حربے استعمال کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ نیپرا کے مطابق کے الیکٹرک، حیدرآباد، سکھر، پشاور اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی کارکردگی انتہائی ناقص ہے ۔ بجلی کمپنیوں کی ناقص کارکردگی کے باعث سرکلر ڈیٹ میں 397 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ حکومتی عملداری میں چلنے والی بجلی کی تمام کمپنیاں ناقص کارکردگی کا شکار ہیں جبکہ پاور سیکٹر کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نجکاری کو ضروری قرار دیا گیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں