ہائیکورٹ:پی ایچ اے کو پارکوں میں کاروباری سرگرمیاں روکنے کا حکم
لاہور (کورٹ رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی تدارک سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران پی ایچ اے کو پارکوں میں کاروباری سرگرمیاں روکنے اور داتا دربار کے سامنے سے درختوں کی کٹائی کے معاملے کی انکوائری کا حکم دیدیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک کے لیے درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالتی حکم پر پی ایچ اے ، محکمہ ماحولیاتی اور کمیشن کے ممبر سمیت درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق پیش ہوئے ۔ممبر جوڈیشل کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ پی ایچ اے نے مساجد کے ساتھ 38 واٹر ٹینکس کو فعال کر دیا ، 2 پلانٹس کو سیل کر دیا گیا ،8انڈسٹریل یونٹس نے اپنا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ فعال کر دیا ہے ۔ یکم جنوری سے کل تک دھواں چھوڑنے والے 31 صنعتی یونٹس مسمار کئے گئے اورمتعدد صنعتی اداروں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کہ انڈسٹریز کیلئے ایک خصوصی یونٹ ہوناچاہئے ، سب سے زیادہ آلودگی انڈسٹریز سے پھیلتی ہے ، انڈسٹریل آلودگی پر قابو پائے بغیر سموگ کے مسئلے کا حل ممکن نہیں ۔ ممبر جوڈیشل کمیشن نے بتایا کہ نہرو پارک سو سال پرانا پارک تھا، وہ پارک بھی سارا تباہ کر دیا گیا، یہ کوئی بھی منصوبہ بغیر تشہیر کے شروع کر دیتے ہیں۔ جسٹس شاہد نے کہاکہ حکم نامہ جاری کر دیتا ہوں کہ آٹھ سو پارکس میں کوئی بھی کام ہو تو پہلے ممبران جوڈیشل کمیشن سے ڈسکس کیا جائے ۔ عدالت نے پی ایچ اے کو پارکس میں کاروباری سرگرمیاں روکنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت اگلے ہفتہ تک کیلئے ملتوی کر دی۔