گرین لینڈ : امریکا، یورپ آمنے سامنے ، ٹرمپ نے 25 فیصد تک ٹیرف کی دھمکی دیدی، یورپی یونین کا جنوبی امریکا کے ملکوں سے دنیا کا سب سے بڑا آزاد تجارتی معاہدہ
یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے ، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ کی مصنوعات پر 10فیصد،یکم جون سے 25فیصد ٹیرف :امریکی صدر یہ ممالک خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں، جو ناقابلِ برداشت ہے :ٹرمپ ،یورپی ممالک متحد جواب دیں گے :فرانس ، خطرناک حالات پیدا ہو سکتے ہیں:صدر یورپی یونین
واشنگٹن (اے ایف پی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو گرین لینڈ کے حصول کے حوالے سے اپنی پالیسی سخت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک امریکا کی جانب سے ڈنمارک کے زیرِ انتظام گرین لینڈ کی خریداری کا معاہدہ طے نہیں پا جاتا، متعدد یورپی ممالک پر 25 فیصد تک محصولات عائد کیے جائیں گے ۔ ٹرمپ کی یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئیں جب گرین لینڈ کے دارالحکومت میں ہزاروں افراد نے معدنی وسائل سے مالا مال اس جزیرے کو، جو آرکٹک کے دہانے پر واقع ہے ، حاصل کرنے کی امریکی خواہش کے خلاف احتجاج کیا۔کوپن ہیگن اور ڈنمارک کے دیگر شہروں میں بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
امریکی صدر نے اپنے غصے کا رخ نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے ساتھ ساتھ ان متعدد یورپی ممالک کی طرف بھی کیا جنہوں نے حالیہ دنوں میں 57 ہزار آبادی والے اس وسیع خودمختار علاقے میں فوجی دستے تعینات کیے ہیں۔اگر ٹرمپ کی دھمکیوں پر عمل ہوا تو یہ واشنگٹن کے نیٹو اتحادیوں کے درمیان غیر معمولی کشیدگی کو جنم دے گا۔ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل نیٹ ورک پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے ، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے امریکا کو بھیجی جانے والی تمام اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔انہوں نے لکھا یکم جون 2026 کو یہ ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔
یہ ٹیرف اس وقت تک واجب الادا رہے گا جب تک گرین لینڈ کی مکمل اور حتمی خریداری کا معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ٹرمپ نے کہا یہ ممالک، جو یہ نہایت خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں، ایک ایسا خطرہ پیدا کر رہے ہیں جو ناقابلِ قبول اور ناقابلِ برداشت ہے ۔لہٰذا عالمی امن اور سلامتی کے تحفظ کیلئے یہ نہایت ضروری ہے کہ مضبوط اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ ممکنہ طور پر خطرناک صورتحال جلد از جلد اور بغیر کسی ابہام کے ختم ہو جائے ۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ڈنمارک یا ان میں سے کسی بھی ملک کے ساتھ فوری طور پر مذاکرات کیلئے تیار ہیں ۔
اسونسیون، پیراگوئے (اے ایف پی) جنوبی امریکا اور یورپی یونین کے حکام نے ہفتے کو ایک بڑے تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ، جسے انہوں نے ٹیرف کی دھمکیوں، عالمی غیر یقینی صورتحال اور تحفظ پسندی کے اس دور میں ایک طاقتور پیغام قرار دیا۔27 رکنی یورپی یونین اور مرکوسور بلاک کے رکن ممالک برازیل، ارجنٹینا، یوراگوئے اور پیراگوئے کے درمیان یہ معاہدہ 25 برس کے پیچیدہ اور طویل مذاکرات کے بعد دنیا کے سب سے بڑے آزاد تجارتی علاقوں میں سے ایک قائم کرتا ہے ۔اس معاہدے کو ایسے وقت میں نئی تقویت ملی ہے جب امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے وسیع پیمانے پر ٹیرف کے نفاذ اور تجارتی دھمکیوں نے کئی ممالک کو نئے شراکت دار تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
پیراگوئے کے دارالحکومت اسونسیون میں دستخطی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیین نے کہا ہم ٹیرف کے بجائے منصفانہ تجارت کا انتخاب کرتے ہیں، ہم تنہائی کے بجائے ایک نتیجہ خیز اور طویل المدتی شراکت داری کو ترجیح دیتے ہیں۔پیراگوئے کے صدر سانتیاگو پینیا نے بھی اس معاہدے کو بین الاقوامی تجارت کے حق میں ایک واضح پیغام قرار دیا، اور کہا کہ یہ ایسے عالمی منظرنامے میں سامنے آیا ہے جو کشیدگی سے عبارت ہے ۔یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے کہا کہ یہ معاہدہ تجارت کو جغرافیائی سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے برعکس ایک مثال ہے۔
برازیل کے وزیرِ خارجہ ماؤرو ویرا نے کہا کہ یہ معاہدہ غیر یقینی صورتحال، تحفظ پسندی اور دباؤ سے متاثر دنیا کے مقابل ایک مضبوط حصار کی حیثیت رکھتا ہے ۔یورپی یونین اور مرکوسور کے رکن ممالک مل کر دنیا کی مجموعی اقتصادی پیداوار (GDP) کا تقریباً 30 فیصد فراہم کرتے ہیں اور ان کی مارکیٹ میں 7 کروڑ سے زائد صارفین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے ہفتے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کی شدید مذمت کی ، انہوں نے ایکس پر فرانسیسی اور انگریزی میں لکھا ٹیرف کی دھمکیاں ناقابل قبول ہیں اور اس سیاق و سباق میں ان کی کوئی جگہ نہیں۔
انہوں نے مزید کہااگر یہ دھمکیاں حقیقت میں تبدیل ہو جائیں تو یورپی ممالک متحد اور مربوط انداز میں جواب دیں گے ، ہم یقینی بنائیں گے کہ یورپی خودمختاری کا احترام برقرار رہے ۔یورپی یونین کی صدر ارسولا فان ڈیر لیین نے خبردار کیا کہ ٹیرف لگانے کی دھمکی سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں ۔انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا ٹیرف لگانے سے یورپ اور امریکا کے تعلقات خراب ہوں گے اور خطرناک حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہایورپ متحد رہے گا اور اپنی خودمختاری کی حفاظت کرے گا۔