پاکستان مخالف بات کرنیوالے کو روکوں گا : ایاز صادق

پاکستان مخالف بات کرنیوالے کو روکوں گا : ایاز صادق

پارلیمنٹ میں کسی کو ریاست ، عدلیہ اور فوج مخالف بات کرنے کی اجازت نہیں اپوزیشن حکومت کا محاسبہ کرے ،وزیراعظم مجھے کسی کا م سے نہیں روکتے :گفتگو

اسلام آباد،لاہور(سٹاف رپورٹر ،اے پی پی)سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ کسی کو بھی پارلیمنٹ میں ریاست ، عدلیہ اور فوج مخالف بات کرنے نہیں دوں گا، کوئی بھی ججز کے کردار پر بات کرے گاتو اجازت نہیں ملے گی، یہ چیزیں آئین میں ہیں اور یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں نے پارلیمان کوکس طرح چلانا ہے۔ انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محمود خان اچکزئی ہوں یا کوئی اور میرے لئے وہ پارلیمنٹ کے ممبر ہیں،جو بھی پاکستان مخالف بات کرے گا میں اسے روکوں گا۔

کہیں نہیں لکھا کہ قائد حزب اختلاف جب بھی کھڑے ہوں تو انہیں بات کرنے کا موقع دیا جائے ، اگر وہ ٹھیک بات کریں گے تو ان کو موقع ملتا رہے گا اور یہ روایت بھی ہے لیکن یہ نہ آئین میں ہے اور نہ ہی قواعد میں ۔سپیکر نے کہا کہ اپوزیشن حکومت کا محاسبہ کرے ،کمیٹیوں میں آئیں، اپنا کام کریں جس کے کرنے کی ضرورت ہے ۔ میں وزیراعظم محمدشہباز شریف سے مشاورت کرتا ہوں لیکن وہ کسی کام سے مجھے روکتے نہیں ،مشاورت جتنے زیادہ لوگوں سے ہو وہ بہتر ہے ۔ قائد حزب اختلاف کے نوٹیفکیشن میں تاخیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ معاملہ عدالت میں تھا ،جیسے ہی کیس واپس لیا گیا ہم نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مضبوط اورذخائر بڑھ رہے ہیں،ریمیٹنس کے لئے کہا گیا تھا کہ نہ بھیجیں لیکن وہ بھی 40 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں ۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی تاریخ میں کبھی اتنی اچھی نہیں تھی جتنی آج ہے ،امریکا کے ساتھ ساتھ چین ، روس اور سعودی عرب سے بھی دوستی ہے ، وہ ملک بتائیں جس سے ہماری دوستی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک اور دہشت گردوں سے مسئلہ ہے جو ہمارے بچوں ،جوانوں اور خواتین کی جانوں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک اور ہرجگہ مافیاز ہوتے ہیں اور ہمارے ہاں بھی ہیں، ان کے خلاف لڑنا ہمارا اور عوام کا بھی کام ہے ، ان مافیاز کے ساتھ لڑتے رہیں گے ۔8 فروری کے احتجاج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پر امن احتجاج ضرور کریں لیکن اس میں خون خرابہ نہ ہو ،لوگوں کی جان و مال کو نقصان نہ پہنچایا جائے ،جب لوگوں کی جانوں کو خطرہ ہو، ہاتھوں میں ڈنڈے اور بندوقیں ہوں تو ایسے احتجاج پر تشویش ہوتی ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں