8فروری کو پہیہ جام، شٹرڈاؤن کا اعلان اپوزیشن کیلئے چیلنج

8فروری کو پہیہ جام، شٹرڈاؤن کا اعلان اپوزیشن کیلئے چیلنج

انتظامی ہتھکنڈوں سے احتجاج پر اثر انداز ہوسکتے ،ووٹ بینک متاثر نہیں ہوگا

(تجزیہ:سلمان غنی)

8فروری کو پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال خود اپوزیشن کیلئے بڑا چیلنج بن گئی ،اپوزیشن کے ذمہ داران ، جن کا کہنا ہے کہ 8فروری کا دن پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اب وہ میڈیا میں احتجاج کے ساتھ ہڑتال اور پہیہ جام کی کال پر زور دیتے نظر نہیں آ رہے ،ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے حتمی اعلان بعد میں ہوگا ،ایک وقت تھا جب احتجاج اور مزاحمت پی ٹی آئی کی پہچان تھی اور حکومتیں پی ٹی آئی کے احتجاج اور مزاحمتی بیانیہ پر پریشان ہو کر دفاعی حکمت عملی اختیار کرتے دکھائی دیتی تھیں ،مگر اب ایسا نہیں۔ اس کی بڑی وجہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کا جیل میں ہونا اور قانونی دباؤ ہے ، جس سے واضح اور منظم ہدایات نچلی سطح تک موثر انداز میں پہنچ نہیں پا رہیں۔ احتجاجی بیانیہ تو موجود ہے مگر قیادت کی براہ راست عدم موجودگی نے احتجاجی طاقت پر منفی اثرات پیدا کئے ہیں اور خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر صوبوں میں تنظیمی گرفت کمزور ہونے کے باعث عہدیداران، اراکین اور کارکن متحرک فعال نظر نہیں آ رہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ملکی سیاسی تاریخ میں ہڑتال جیسے فیصلہ کن اعلان سے پہلے سیاسی جماعتیں زمینی حقائق کا جائزہ لیتی ہیں، مختلف طبقات کے ذمہ داران سے روابط قائم کرتے ہوئے انہیں اس کے لئے تیار کیا جاتا ہے اور خصوصاً تاجروں کی مختلف تنظیموں اور عہدیداران کو اعتماد میں لیا جاتا ہے ،لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے آنے والی کال سے پہلے تاجر تنظیموں، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری انجمنوں سے پارٹی ذمہ داران اور متحرک رہنماؤں کی ملاقاتیں اور مشاورت ریکارڈ پر موجود نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے آنے والی کال کے بعد تاجر تنظیموں ،ٹریڈ یونینز، وکلا و دیگر طبقات میں ہڑتال کے حوالے سے کوئی واضح موقف سامنے نہیں آرہا ، نہ ہی وہ کسی ہڑتال کا حصہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔جہاں تک احتجاجی عمل میں مسائل زدہ عوام کی شرکت کا سوال ہے تو مہنگائی، سیاسی بے یقینی اور کسی بھی ممکنہ سیاسی تبدیلی کے امکانات نہ ہونے پر وہ کسی بھی احتجاجی عمل کاحصہ بننے کو تیار نہیں ،دوسری جانب خود پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن جماعتیں اپنے لئے سیاسی راستہ اور ریلیف مانگتی نظر آتی ہیں لیکن وہ خود کو عوام کی آواز بنانے کے لئے تیار نہیں جس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں، قیادت اور مسائل زدہ عوام میں عدم وابستگی کا رجحان ہے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک گیر فیصلہ کن اور حکومت ہلا دینے والی ہڑتال کے امکانات اس لئے ختم ہو چکے ہیں کہ عوام یہ سمجھتے ہیں کہ اس سسٹم میں ان کے مسائل و مشکلات کا ازالہ ممکن نہیں اور سیاسی قوتیں سیاست برائے خدمت کی بجائے سیاست برائے حکومت کیلئے سرگرم ہیں ۔سیاسی حلقوں میں یہ سوال ضرور اٹھ رہا ہے کہ حکومتی حکمت عملی کے نتیجہ میں کیا پی ٹی آئی کی احتجاجی صلاحیت اور ووٹ بینک پر اثر انداز ہوا جا سکے گا ؟۔اس حوالے سے واضح طو رپر دو آرا ہیں ،کچھ حلقے مریم نواز کی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈا کو مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک کی بحالی کے حوالے سے تو اہم قرار دیتے ہیں لیکن پی ٹی آئی کے ووٹ بینک پر اثر انداز ہونا نہیں سمجھتے ، جبکہ دیگر حلقوں کے نزدیک انتظامی ہتھکنڈوں کے ذریعہ پی ٹی آئی کی احتجاجی صلاحیت پر تو اثر انداز ہوا جا سکتا ہے لیکن ووٹ بینک متاثر نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کے متحرک رہنما اور اراکین اسمبلی احتجاجی عمل سے تو گریزاں نظر آتے ہیں لیکن ابھی تک پارٹی سے وابستگی تبدیل کرنے کو تیار نہیں اور اب 8فروری کی آمد کے ساتھ پھر سے پی ٹی آئی کے لئے یہی چیلنج کار فرما ہے کہ کیا ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کر پائیں گے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں