غزہ امن بورڈ میں شہباز شریف کو شمولیت کی دعوت:امن کیلئے کردار ادا کرتے رہیں گے:پاکستان امریکی انتظامیہ نے مسودہ60ممالک کو بھیج دیا طویل مدتی رکنیت کیلئے1ارب ڈالر دینے کی شرط

غزہ امن بورڈ میں شہباز شریف کو شمولیت کی دعوت:امن کیلئے کردار ادا کرتے رہیں گے:پاکستان امریکی انتظامیہ نے مسودہ60ممالک کو بھیج دیا طویل مدتی رکنیت کیلئے1ارب ڈالر دینے کی شرط

دنیا نے فلسطین پر پاکستان کے مستقل اصولی مؤقف کو تسلیم کر لیا ، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کا پائیدار اور دیرپا حل ممکن بنایا جائیگا:ترجمان وزارت خارجہ امن بورڈ کا ہر رکن ملک 3 سال خدمات انجام دے گا،پہلے سال ایک ارب ڈالر دینے والوں پریہ شرط لاگو نہیں ہوگی ،چارٹرپرتحفظات ،امریکا سے رابطہ کیا جائیگا :اسرائیل

اسلام آباد ،واشنگٹن (اے ایف پی،مانیٹرنگ ڈیسک )غزہ میں امن کیلئے عالمی کوششوں میں پاکستان کو بڑی کامیابی ملی ہے ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو غزہ کیلئے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی ہے جبکہ پاکستان کا کہناہے کہ امن کیلئے کردار اداکرتے رہیں گے ،امریکی انتظامیہ نے ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ چارٹر کا مسودہ 60 ممالک کو ارسال کر دیا ، چارٹر کے تحت طویل مدت کی رکنیت کے لئے ایک ارب ڈالر دینے کی شرط عائد کی گئی ہے ۔ ترجمان وزارت خارجہ طاہر اندرابی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستان کو غزہ سے متعلق بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی باضابطہ دعوت ملی ہے ، وزیرِ اعظم شہباز شریف کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لئے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی ہے ۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے قیام کیلئے عالمی کوششوں میں بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کا ایک پائیدار اور دیرپا حل ممکن بنایا جا سکے ۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کیلئے سفارتی کاوشوں کی حمایت جاری رکھے گا،دنیا نے فلسطین پر پاکستان کے مستقل اور اصولی مؤقف کو تسلیم کر لیا ہے ۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ دوسری جانب اسرائیل نے غزہ بورڈ کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بورڈ اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے ۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بورڈ کی تشکیل کیلئے اسرائیل سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سار غزہ بورڈ کا معاملہ امریکی وزیرخارجہ مارکو رُوبیو کے ساتھ اٹھائیں گے ۔عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایسی دستاویز سامنے آئی ہیں جس سے پتا چلتاہے کہ امریکی انتظامیہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ چارٹر کا مسودہ 60 ممالک کو ارسال کر دیا ہے ، چارٹر کے تحت طویل مدت کی رکنیت کیلئے ایک ارب ڈالر دینے کی شرط عائد کی گئی ہے ۔ جو ممالک غزہ امن بورڈ میں 3 سال سے زائد کی رْکنیت چاہتے ہیں انہیں 1 ارب ڈالر سے زائد فنڈ دینے ہوں گے ۔ ہر رکن ملک چارٹر کے نفاذ کی تاریخ سے لے کر 3 سال کی مدت تک خدمات انجام دے گا۔چارٹر کے مطابق غزہ امن بورڈ کے چیئرمین کی منظوری سے رکنیت کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے ۔ تین سالہ رکنیت کی شرط سے وہ ممالک مستثنیٰ ہونگے جو پہلے سال میں بورڈ کیلئے ایک ارب ڈالر سے زائد نقد رقم دیں گے ۔واضح رہے کہ ایک روز قبل وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ بورڈ کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں