کراچی : آگ بجھ گئی، 26 لاشیں مل گئیں، 81 لاپتہ

کراچی : آگ بجھ گئی، 26 لاشیں مل گئیں، 81 لاپتہ

36 گھنٹے بعد آگ پر قابو پایا جاسکا، عمارت سے 29کی موبائل لوکیشن آرہی،5 مقاما ت پر بیک وقت سرچ آپریشنز ،عمارت کے کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ،ملبہ ہٹانے میں 17 دن لگ سکتے وزیراعلیٰ سندھ کا جاں بحق افرادکے لواحقین کیلئے ایک ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان، تسلیم کرتا ہوں غلطیاں ہوئیں،ہوسکتا عمارت گرانی پڑے ،تاجروں کو پاؤں پر کھڑا کرینگے :مراد علی شاہ

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا، آگ پر 36 گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل قابو نہیں پایا جا سکا تھا، عقبی حصے کی طرف سیکنڈ فلور اور گراؤنڈ فلور میں آگ لگی ہوئی تھی ۔آتشزدگی پرعمارت کا 40 فیصد حصہ منہدم ہوگیا، دم گھٹنے اور جھلس کر جاں بحق ہونے والے 26افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، 81افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ریسکیو  اہلکاروں نے پہلی منزل پر لاشوں کی تلاشی کا کام مکمل کرلیا اور اب دوسری منزل پر زندہ یا مردہ افراد کی تلاش کا آپریشن جاری ہے ۔دوسری منزل پر دوبارہ آگ بھڑک اٹھی جس پر فائر بریگیڈ نے پھر سے پانی برسانا شروع کردیا۔عمارت سے آوازیں آنے پر گل پلازہ کی عقبی سائیڈ پر فائربریگیڈ کی گاڑیوں نے کام بند کردیا ۔ریسکیو اہلکار جہاں تک جاسکتے تھے وہاں جانچ کرلی، سیڑھی ہٹالی گئی۔

گل پلازہ میں اندھیرا ہونے پرریسکیو اہلکار ٹارچ کے ذریعے عمارت میں موجود شہریوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ریسکیو عملے کو عمارت سے انسانی اعضا مل رہے ہیں ۔ریسکیو افسر کا کہنا تھا کہ متعدد لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں تاہم حتمی تعداد فی الحال بیان نہیں کی جا سکتی، بعض لاشیں مختلف مقامات سے حصوں کی صورت میں ملی ہیں، جب تک تکنیکی اور فرانزک تصدیق کے ذریعے یہ تعین نہیں ہو جاتا کہ یہ اعضا ایک ہی فرد کے ہیں یا مختلف افراد کے اس وقت تک درست تعداد کی تصدیق مشکل ہے ۔ چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ نے بتایا کہ حادثے کے مقام پر 5 نشاندہی شدہ مقامات پر بیک وقت 3 سرچ آپریشنز جاری ہیں، ایک ٹیم مسلسل فائر فائٹنگ اور کولنگ میں مصروف ہے ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔

عمارت کا سٹرکچر شدید متاثر ہونے پرکسی بھی وقت گرنے کا خدشہ ہے ۔ اسی لیے فائر فائٹنگ روک کرصرف ملبے کو ہٹایا جا رہا ہے جس کو کلیئر کرنے میں 15 سے 17 دن لگ سکتے ہیں۔ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، ناقابل شناخت لاشوں کو امانتاً ایدھی سرد خانے میں رکھوا دیا گیا ہے ۔لاپتہ افراد سے متعلق مختلف لوگوں سے رابطہ کیا اور تمام افراد کے فیملیز سے موبائل نمبر لئے گئے ۔ ابتک 29 افراد کی لوکیشن گل پلازہ کے پاس ملی، مزید کی لوکیشن سکرونٹی کررہے ہیں ۔ آگ پر قابو پالیا گیا،کولنگ کا عمل جاری ہے ، ٹائم فریم نہیں دیا جاسکتا،تہہ خانے تک رسائی ہو گئی ہے ۔

کمشنر کراچی کے احکامات پر سانحہ گل پلازہ کے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کے لیے ڈپٹی کمشنر ساؤتھ نے 30افسروں پر مشتمل 6 ٹیمیں بنا دی ہیں، ٹیمیں امدادی کارروائیوں کی نگرانی کریں گی۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے بتایا عمارت میں 55 سے زائد افراد لاپتہ ہیں جنکے ورثا نے ہم سے رابطہ کیا ہے ۔شہریوں کی انتظامیہ کو دی جانے والی اطلاعات کے مطابق گل پلازہ سانحہ میں تاحال 81افراد لاپتہ ہیں۔گل پلازہ کے فائر فائٹنگ اور ریسکیو آپریشن میں پاک بحریہ، سندھ رینجرز، کے ایم سی، ریسکیو رضا کار بھی شامل رہے جنہوں نے انسانی زندگیاں بچانے کے لیے اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیں۔ 

کراچی (سٹاف رپورٹر، دنیا نیوز)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی واقعہ کے تناظر میں جامع ریلیف، انکوائری اور فائر سیفٹی اصلاحات کے پیکیج کا اعلان کردیا۔انہوں نے یہ اعلان وزیراعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس میں کیا ،تاجر و صنعتکار رہنمابھی موجود تھے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی تاہم ابتدائی جائزوں کے مطابق ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ سبب ہو سکتا ہے ۔عمارت چالیس فیصد کولیپس ہو چکی ہے ، شاید پوری عمارت گرانی پڑے ، آگ بجھانے میں 24 فائر بریگیڈ گاڑیاں، 10 واٹر باؤزرز اور 4سنارکل گاڑیاں مصروف تھیں۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے تقریباً 100 فائر فائٹرز اورسو ریسکیو اہلکاروں نے کارروائی میں حصہ لیا۔ ہر جاں بحق ہونے والے فرد کے لواحقین کو سندھ حکومت کی جانب سے ایک کروڑ بطور معاوضہ دیا جائے گا ، امدادی رقوم کی فراہمی کل سے شروع ہو جائیگی۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ متاثرہ دکانداروں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور انہیں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے مکمل تعاون کیا جائے گا۔ ماضی میں بھی متاثرین کی مدد کی اور اس بار بھی کرینگے ۔ وزیراعلیٰ نے بتایا گل پلازہ کے متاثرین کی مدد کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے ۔ منصوبے کے تحت تاجر کمیٹی مالی نقصانات کا تخمینہ لگائے گی جبکہ حکومت اسکے مطابق معاونت کرے گی۔ دکانداروں کیلئے عارضی متبادل جگہوں کی فراہمی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ لواحقین کے دکھ میں شریک ہونے کیلئے کابینہ ارکان ہر ایک کے گھر جائینگے ۔وزیراعلیٰ نے باضابطہ تحقیقات کا اعلان کرتے کہا گل پلازہ میں آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے کمشنر کراچی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی ہے ایڈیشنل آئی جی کراچی معاونت کرینگے ۔ فرانزک لیبارٹری لاہور سے بھی معاونت طلب کی گئی ہے ۔ انکوائری کا مقصد کسی کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ اپنی کوتاہیوں کی نشاندہی کرنا ہے ۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر تخریب کاری کے شواہد سامنے آئے تو سخت کارروائی ہو گی۔ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا اور سزا بھی دی جائیگی تاہم کسی کو بلاوجہ قربانی کا بکرا نہیں بنایا جائے گا۔ ضرورت پڑنے پر عدالتی انکوائری کا بھی حکم دیا جا سکتا ہے ۔وزیراعلیٰ نے فائر سیفٹی آڈٹ 2024کے فوری نفاذ کا اعلان کیا جسکے تحت 145 عمارتوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا آئندہ ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے حکومت اور تاجر برادری دونوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔فوری اور درمیانی مدت کے اقدامات کے تحت انہوں نے دکانوں میں فائر الارم نصب کرنے کا اعلان کیا اور کہا یہ انسانی جانیں بچانے کے لیے نہایت اہم ہیں کیونکہ بروقت انخلا ممکن ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کراچی کی بہت سی عمارتیں سنگین حفاظتی مسائل کا شکار ہیں ۔وزیراعلیٰ نے ضبط کی اپیل کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ مبالغہ آرائی اور غیر ضروری الزام تراشی سے گریز کیا جائے ۔ تکنیکی کام کو ممکن بنانے کے لیے حادثے کی جگہ کو سیل کیا جاتا ہے تاہم قبل از وقت قیاس آرائیاں اکثر ابہام پیدا کرتی ہیں۔

تسلیم کرتا ہوں کہ حکومت سے غلطیاں ہوئی ہیں لیکن سب کو خود احتسابی کی ضرورت ہے ۔ جو ادارے خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتے ہیں، انہیں بھی اپنا جائزہ لینا چاہیے ۔ حکومت ایسے وقت میں دکانداروں کو موردِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہتی جب وہ پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے میڈیا سے مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے کہا میڈیا سے ناراض نہیں ہوں لیکن تعمیری کردار کی درخواست کرنا غلط نہیں۔وزیراعلیٰ ٰ نے اپنی آمد میں تاخیر کی وضاحت کرتے کہا کہ اس وقت وہ شہر سے باہر تھے جبکہ میئر کراچی بھی شہر سے باہر تھے اور پہلی دستیاب پرواز سے واپس آئے ۔ پریس کانفرنس میں موجود ممتاز تاجر رہنما جاوید بلوانی نے وزیراعلیٰ کے بیانات کی تائید کی اور میڈیا پر زور دیا کہ مثبت رپورٹنگ کے ذریعے بحالی کی کوششوں کا ساتھ دے ۔ فائر الارم انسانی جانیں بچانے کیلئے سب سے اہم ذریعہ ہیں اور اعلان کیا کہ کراچی چیمبر آف کامرس شہر بھر کی مارکیٹوں میں فائر ڈرلز کا اہتمام کرے گا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعلی ٰنے کہا گل پلازہ جیسے سانحات دنیا بھر میں پیش آتے ہیں لیکن اصل امتحان ان سے سبق سیکھنے اور نظام کو بہتر بنانے میں ہے ۔ سب سے گزارش کرتا ہوں کہ آگ بجھانے میں مدد کریں، اسے ہوا نہ دیں۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ سندھ کے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پرعزم ہیں۔اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا جائزہ لینے کیلئے ہنگامی اجلاس کی صدارت کی۔ ایسے سانحات کی روک تھام کیلئے طویل المدتی اصلاحات پر غور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام بلدیاتی فائر سروسز کو ریسکیو 1122 کے تحت یکجا کیا جائے تاکہ صوبے بھر میں پیشہ ورانہ اور مربوط ردعمل یقینی بنایا جا سکے ۔ انہوں نے نئی قانون سازی، بشمول سندھ کمیونٹی سیفٹی ایکٹ 2026 اور تجارتی علاقوں کے لیے مزید سخت بلڈنگ سیفٹی قوانین کو تیز رفتاری سے نافذ کرنے کا بھی حکم دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں