سانحہ گل پلازہ پر کراچی کی فضا سوگوار، 26 نعشوں میں سے 20 کی شناخت، 83 افراد تاحال لاپتہ

کراچی: (دنیا نیوز) سانحہ گل پلازہ پر کراچی کی فضا آج بھی سوگوار ہے، عمارت سے ملنے والی 26 نعشوں میں سے 20 کی شناخت ہوگئی ہے، ملبہ ہٹانے اور نعشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ 83 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

آگ سے متاثرہ گل پلازہ کے کئی حصے گر گئے، پلازہ سے متصل بلڈنگ کے دو پلر ٹوٹ گئے، عمارت کا باقی ڈھانچہ کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقعہ خوفناک آتشزدگی سے جل جانے والے گل پلازے میں ریسکیو آپریشن جاری ہے، دو اطراف سے ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ اٹھانے کا کام جاری ہے، ریسکیو اہلکار متاثرہ عمارت کے بیشتر حصوں میں داخل ہو چکے ہیں، دھوئیں اور تپش کے باعث امدادی کارروائیوں میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پلازے کی چھت پر بنی پارکنگ سے 32 گاڑیاں اتار لی گئیں، گاڑیوں میں کاریں، موٹرسائیکلیں اور رکشہ شامل ہیں، اتاری جانے والی گاڑیاں محفوظ حالت میں ان کے مالکان کے حوالے کر دی گئیں، جنہوں نے گاڑیاں خود چلا کر محفوظ مقام پر منتقل کیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق گل پلازہ کے ملبے سے انسانی اعضا بھی ملے ہیں، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے مطابق بیس نعشوں کی شناخت کر لی گئی ہے اور ناقابل شناخت نعشیں ایدھی سرد خانے منتقل کر دی گئیں۔

دوسری جانب لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے بھی سیمپل جمع کرا دیئے، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا ہے کہ نعشوں کی شناخت ڈی این اے کراس میچنگ کے ذریعے کی جائے گی۔

ملبہ اٹھانے میں 10 روز لگ سکتے ہیں: چیف فائر آفیسر

چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کا کہنا ہے کہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے، ملبہ بہت زیادہ ہے، اٹھانے میں 10 روز لگ سکتے ہیں، عمارت میں تقریباً تمام دکانوں میں آگ لگی، سب سے پہلے فرنٹ کی دکانوں کی آگ بجھائی۔

انہوں نے کہا کہ فائر فائٹنگ کے دوران ہمارا ایک اہلکار بھی شہید ہوا، عمارت خستہ حال ہے، جانوں کا تحفظ یقینی بنانا ترجیح ہے، محدود وسائل میں بروقت امدادی کارروائی کر رہےہیں، گراؤنڈ فلور کلیئر ہے، جا کر دیکھا جا سکتا ہے، بیسمنٹ میں آگ لگی تھی، فائر فائٹرز کام کر رہے ہیں۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا جائے حادثہ کا دورہ

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب ریسکیو آپریشن کی نگرانی کیلئے خود رات گئے گل پلازہ پہنچ گئے، اس موقع پر انہوں نے ہدایت کی کہ ہر صورت میں ریسکیو آپریشن مکمل کیا جائے اور متاثرین کی تلاش کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔

میئر کراچی نے کہا کہ جب تک تمام لاپتہ افراد کا سراغ نہیں مل جاتا اور ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہوتا، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تمام محکمے الرٹ رہیں گے۔

عینی شاہد دکاندار زبیر نے انکشافات کئے کہ گل پلازہ کے صرف دو گیٹ کھلے تھے، پلازے میں 26 گیٹ ہیں جن میں سے 24 بند تھے، آگ بہت تیزی سے پھیلی، پوری مارکیٹ میں دھواں بھر گیا، سانس لینا بھی مشکل ہو رہا تھا۔

دکاندار کا کہنا تھا کہ ہماری دکان میں خواتین سمیت 12 افراد تھے، ہم اپنی مدد آپ کے تحت اندر گئے، اپنے کزن سمیت بہت سے لوگوں کو خود عمارت سے باہر نکالا، دوسرے کزن کا کچھ پتہ نہیں چل رہا، کم ازکم ہمیں نعشیں ہی مل جائیں تاکہ ان کی تدفین کر سکیں۔

گل پلازہ میں آگ لگنے کے فوری بعد کے مناظر سامنے آگئے

گل پلازہ میں آگ لگنے کے فوری بعد کے مناظر سامنے آگئے، پلازہ کے اندر پھنسے شہری نے آگ لگنے کے فوری بعد کی ویڈیو بنائی، عمارت میں پھنسے افراد جان بچانے کیلئے بھاگ دوڑ کرتے رہے، گل پلازہ میں آتشزدگی کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی، فوٹیج کی ریکارڈنگ کا وقت رات 10 بجکر 22 منٹ ہے۔

آتشزدگی سے متعلق حکام کی رپورٹ بھی سامنے آگئی، آگ سے نمٹنے کے حفاظتی انتظامات بھی نہ ہونے کا انکشاف ہوا، پلازہ میں ہنگامی اخراج کا کوئی مناسب راستہ موجود نہیں تھا، تنگ راستوں کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات پیش آئیں۔

رپورٹ کے مطابق پانچ سو دکانوں کی گنجائش والی عمارت میں بارہ سو دکانیں قائم تھیں۔

لواحقین پیاروں کو ڈھونڈنے کیلئے شدید کرب میں مبتلا

کراچی میں آتشزدگی نے درجنوں خاندانوں پر قیامت ڈھا دی، پیاروں کو ڈھونڈنے کیلئے آنے والے شدید کرب میں مبتلا ہیں۔

کسی کو بھائی، کسی کو باپ، کسی کو بیٹے کی تلاش تھی، گل پلازہ کے باہر اپنوں کو ڈھونڈنے والے بے بسی کی تصویر بن گئے، پیاروں کے زندہ لوٹنے کی امیدیں دم توڑنے لگیں۔

سانحہ گل پلازہ جیسے واقعات روکنے کیلئے فیصلے صرف کاغذوں تک محدود

سانحہ گل پلازہ جیسے واقعات روکنے کیلئے کئے گئے فیصلے صرف کاغذوں تک محدود رہے، سانحہ گل پلازہ سے صرف ایک ماہ قبل سرکاری اجلاس کی دستاویزی روداد دنیا نیوز کو موصول ہوگئی۔

15 دسمبر 2025 کو کراچی میں ڈپٹی کمشنر جنوبی کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں طے کیا گیا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی لازمی سیفٹی آڈٹ کے بغیر این اوسی نہیں دے گی، اجلاس میں طے کیا گیا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ہر عمارت کا سروے کرے گی، ہر عمارت میں لازمی آگ بجھانے کے آلات، فائر الارم، ہنگامی اخراج کے راستوں کی جانچ پڑتال ہوگی۔

ڈپٹی کمشنر جنوبی کے اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ آگ بجھانے کے آلات نہ ہونے پر نوٹس جاری ہوں گے، اگر ایس بی سی اے سروے بروقت کر لیتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا۔

سول ڈیفنس نامی محکمہ بھی غیرفعال ہے، سول ڈیفنس کو ایک ماہ پہلے ہی ٹاسک دیا گیا کہ فائر سیفٹی ایکسرسائز کرائی جائیں گی، سول ڈیفنس کا سرکاری شعبہ اجلاس کے فیصلوں پر عمل ہی نہیں کرا سکا۔

گل پلازہ میں ہنگامی اخراج کی جگہ اور آگ سے نمٹنے کے انتظامات نہیں تھے: رپورٹ
کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے متعلق حکام کی رپورٹ سامنے آگئی، گل پلازہ کا کمپلیکس پلان اور تعمیراتی تفصیلات دنیا نیوز نے حاصل کر لیں۔

رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں ہنگامی اخراج کی جگہ نہیں تھی، عمارت میں آگ سے نمٹنے کے لیےانتظامات بھی نہیں تھے جبکہ تنگ داخلی وخارجی راستوں کے باعث فائر فائٹنگ میں تکنیکی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق گل پلازہ کی عمارت 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی، 1998 میں گل پلازہ کی عمارت میں اضافی منزل تعمیر کی گئی تھی، پارکنگ ایریا میں دکانیں بنیں اور چھت کو پارکنگ میں بدلا گیا، 2003 میں گل پلازہ کی اضافی منزل کو ریگولرائز کیا گیا تھا، گل پلازہ کے مالک نے 14 اپریل 2003 کو کمپلیشن حاصل کیا تھا۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق نقشے کے مطابق گل پلازہ میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اجازت تھی، نقشے کے مطابق 1021 دکانوں کی تعمیر کی اجازت تھی لیکن نقشے کے برخلاف گل پلازہ میں 1200 دکانیں تعمیر کی گئی تھیں۔

ایس بی سی اے کے مطابق گل پلازہ میں 179 دکانیں منظور شدہ نقشے سے زائد تعمیر ہوئیں، گل پلازہ میں راہداری اور باہر نکلنے کی جگہوں پر دکانیں بنائی گئیں۔

واضح رہے کہ کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ پر بالآخر قابو پالیا گیا، آتشزدگی کے سبب عمارت کا 40 فیصد حصہ منہدم ہوگیا، دم گھٹنے اور جھلس کر جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں