سینیٹ: علامہ ناصر عباس ہی اپوزیشن لیڈر ہونگے : وزیر قانون
چیئرمین سینیٹ اور اتحادی ارکان نے علامہ ناصر پر اتفاق کیا، علی ظفر کی اعظم تارڑ کے ہمراہ گفتگو جادو ،ٹونا کرنے پر7سال تک قید، 10لاکھ جرمانہ ، انسداد سمگلنگ تارکینِ وطن بلوں کی منظوری
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ علامہ ناصر عباس ہی اپوزیشن لیڈر ہوں گے ۔ تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ علامہ ناصر عباس کی سینیٹ میں بطور اپوزیشن لیڈر تقرری پر اتفاق ہوگیا۔چیئرمین سینیٹ اور حکومتی و اپوزیشن ارکان کی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری پر مشاورت ہوئی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ اور اتحادی ارکان نے علامہ ناصر عباس کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری پر اتفاق کیا۔
علاوہ ازیں سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری کے معاملہ پر پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے چیئرمین سینیٹ کو باضابطہ خط ارسال کر دیا، خط کے متن میں لکھا کہ پی ٹی آئی نے سینیٹر راجہ ناصر عباس کو قائدِ حزبِ اختلاف نامزد کر رکھا ہے ، قائدِ حزبِ اختلاف کی عدم تقرری سینیٹ قواعد اور جمہوری روایات کے منافی ہے۔ قائدِ حزبِ اختلاف کے بغیر ایوان ادارہ جاتی طور پر نامکمل ہے، اپوزیشن لیڈرکے بغیر پارلیمانی نگرانی اور جوابدہی شدید متاثر ہو رہی ہے ، قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری میں تاخیر جمہوری اقدار کو کمزور کر رہی ہے۔ خط میں سینیٹ قواعد 2012 کے تحت فوری تقرری کا مطالبہ کیا گیا، پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ راجہ ناصر عباس کو فوری قائدِ حزبِ اختلاف مقرر کیا جائے ۔قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری پارلیمانی جمہوریت کے مفاد میں ہے ، خط میں چیئرمین سینیٹ سے فوری فیصلہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔
اسلام آباد (وقائع نگار)سینیٹ نے جادو ٹونا کی روک تھام سمیت کئی بلوں کی منظوری دے دی۔ چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں قانون سازی کے عمل کے تحت متعدد اہم بلز پیش کیے گئے جبکہ کئی بلز کی منظوری بھی دی گئی ۔ ایوان نے پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کا بل منظور کر لیا جس کے تحت جادو ٹونا کرنے یا اس کی تشہیر کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔نئی ترمیم کے تحت، تعزیرات پاکستان میں دفعہ 297 الف شامل کی گئی ہے ۔ قانون کے مطابق جو شخص جادو ٹونا کرے یا اس کی تشہیر کرے اسے 6 ماہ سے 7 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے جبکہ 10 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
ایوان بالا نے انسداد سمگلنگ تارکینِ وطن ترمیمی بل 2024، صوبائی موٹر گاڑیاں ترمیمی بل 2025 ، مجموعہ تعزیراتِ پاکستان ترمیمی بل 2025، فوجداری قوانین ترمیمی بل 2024 ، ذہنی صحت ترمیمی بل 2025 اور وفاقی نصاب ونصابی کتب سے متعلق بل بھی منظور کر لیے ۔ مسلم فیملی لاز ترمیمی بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ انتخابات ترمیمی بل 2026 ڈاکٹر زرقا سہروردی نے ایوان بالا میں پیش کیا تاہم حکومت کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی جسے متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ دی نیشنل پاپولیشن کوآرڈی نیشن اینڈ ری پروڈکٹیو ہیلتھ بل 2026 ،انضباط ورچوئل اثاثہ جات بل بھی کمیٹیوں کے سپرد کر دیئے گئے ۔
علاوہ ازیں سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کی سینیٹر خالدہ اطیب نے کہا کہ اتنے بڑے مالز بنانے کی اجازت دی جاتی ہے اور لوازمات پورے نہیں کیے جاتے ۔ کراچی میں پلازے میں آگ لگی، کئی لوگ لاپتا ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو بہت ٹیکس ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پلازے میں ایمرجنسی گیٹ نہیں تھے ۔ حفاظتی انتظامات نہیں تھے ، کھڑکی کی جگہ بند کر دی گئی، آگ لگی اور فائر بریگیڈ تاخیر سے پہنچی، ایوان صدر میں بیٹھ کر سندھ پر پریزنٹیشن دی جاسکتی ہے ۔ نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ کراچی میں بہت دلخراش واقعہ ہوا ہے ،جانوں کا تو کوئی ازالہ ہو ہی نہیں سکتا،گل پلازہ کی سیفٹی کے حوالے سے ایڈمنسٹریشن سے بھی پوچھنا چاہیے ،میں کسی پر انگلیاں نہیں اٹھا رہی ، یہ بہت بڑا سانحہ ہے ۔