پارلیمنٹ کی مضبوطی کیلئے حکومت سے تعاون ہوگا : اچکزئی

پارلیمنٹ کی مضبوطی کیلئے حکومت سے تعاون ہوگا : اچکزئی

سپیکر سے ملوں گا،بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی ختم کریں:اپوزیشن لیڈر پاک فوج اتنی مضبوط کسی کا باپ کسی کو اغوا نہیں کرسکتا، قومی اسمبلی میں خطاب

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی مضبوطی کیلئے حکومت سے تعاون ہوگا ، ملک اس وقت کسی احتجاجی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا، میں آپ کو بلا وجہ تنگ نہیں کروں گا، سپیکر ایاز صادق سے ملوں گا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی ختم کریں، پاک فوج اور پولیس اتنی مضبوط ہے کہ کسی کا باپ بھی کسی کو اغوا نہیں کرسکتا،ہمیں اپنے لوگوں پر اعتماد کرنا ہوگا۔اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد قومی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں محمود اچکزئی نے کہا جب بھی عوامی فلاح کی بات ہوگی، انکے ووٹ ساتھ ہونگے ۔ایوان کے اندر اور باہر ایسی زبان استعمال نہ کی جائے جو خاندان کے سامنے کہنے کے قابل نہ ہو۔ 5 ماہ تک ایوان کا اپوزیشن لیڈر کے بغیر چلنا افسوسناک تھا۔

انہوں نے آئینی ترامیم پر دکھ کا اظہار کرتے کہا کاش یہ ترامیم ایوان کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہوتیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ ایوان ان افراد کے لیے قرارداد پاس کرے جن کیخلاف مقدمات درج ہیں یا جیلوں میں قید افراد کے کیسز واپس لینے کی بات کرے تو کیا آسمان گر جائے گا؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی فوری ختم کی جائے تاکہ انکی بہنیں مل سکیں۔محمود اچکزئی نے میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے کہا انہوں نے کسی عہدے کے لیے نواز شریف یا کسی اور سے رابطہ نہیں کیا۔ نواز شریف انکے دوست ہیں اور بلاول بھٹو انکے بچوں کی طرح ہیں۔ انہوں نے حکومت کو یقین دلایا کہ مثبت قانون سازی میں مکمل تعاون ہوگا جبکہ منفی قوانین پر معذرت کی جائے گی ۔یہ ایوان مجھے بہت پیارا ہے ۔

تحریک تحفظ آئین وعدہ کرتی ہے کہ اگر ایوان کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت کو غیر مشروط تعاون فراہم کیا جائے گا۔یہ ایوان پاکستان کی پالیسیوں کا مرکز ہونا چاہیے ، ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے سے مسائل حل نہیں ہونگے ، جب بھی آپ عوام کی فلاح کی بات کرینگے ہم آپکے ساتھ ہونگے ۔آئیں داخلہ و خارجہ و معاشی پالیسیاں اس ایوان میں بنائیں، میں نے پی پی اور مسلم لیگ ن کا مشکل وقت میں ساتھ دیا، ہم نے اپنے ووٹ کا ایک روپیہ کبھی کسی جماعت سے نہیں لیا، میں نے اصول کی بنیاد پر جسکے ساتھ کھڑاہواتو کھڑا رہا ہوں، حلف کی خلاف ورزی نہیں کی۔ لوگ آسمان سے نہیں گرینگے ہم سب ملکر بیٹھیں، ہمیں وینزویلا سے سبق سیکھنا ہوگا، ہمارے ساتھ تو وینزویلا بہت پہلے ہوچکے دو ہیلی کاپٹر آئے اور ہماری خود مختاری کچل کر چلے گئے ، آج بھی بعض طاقتیں بعض طاقتوں کو لڑانے کیلئے کوشاں ہیں۔ آج پاکستان مشکل میں ہے جبکہ باقی ممالک آگے نکل گئے ۔

ہمارا خطہ سخت مشکل میں ہے اور بعض طاقتیں اس خطے کو میدان جنگ بنانا چاہتی ہیں، جنگ شروع ہوئی تو ختم کرنا ہمارے بس میں نہیں ہوگا، ہم نے ہزاروں لوگوں کو دہشتگردی کے نام پر گھروں سے بے دخل کیا، اس سردی میں تیراہ سے لوگوں کو نکالنا دہشتگردی نہیں ۔ میں عدم تشدد کا پرچار کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا، سابقہ فاٹا پاکستان کو ایک لاکھ سپاہی دیتا ہے ۔ سندھیوں کے ساحل پر پہلا اختیار سندھیوں کا ہے ، یہ بات بلوچ پشتونوں اور سرائیکیوں سے بھی کریں۔غلط پالیسیوں سے کشمیر بھارت کا حصہ بن گیا، ہماری غلط پالیسیوں سے پنجاب کا کسان آلو پھینک رہا ہے ، کوئی پشتون یا بلوچ سمگلنگ کرتا ہے تو گولی مار دو۔محمود اچکزئی نے کہا خیبر سے ہزاروں لوگ افغانستان جاتے تھے اور پیٹ پالتے تھے ، آپ کا سامان افغانستان میں بکتا ہے ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے کہیں کہ افغانستان سے متعلق ہمارے خدشات ہیں، آپ افغانستان کیخلاف ثبوت دیں، مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے ۔

تقریر کے اختتام پر اپوزیشن ارکان نے محمود اچکزئی کو پگڑی پہنائی اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے ایوان میں خطاب کرتے کہا کہ پوری اپوزیشن کی جانب سے محمود اچکزئی کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ علامہ راجہ ناصر عباس کا سینیٹ میں بھی نوٹیفکیشن ہوگا۔ محمود اچکزئی صرف اپنی جماعت کے نہیں بلکہ اپوزیشن کے متفقہ لیڈر ہیں اور تین کروڑ ووٹروں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔اچکزئی کی قیادت میں اپوزیشن ایک نئے سفر کا آغاز کرے گی، کیونکہ عوام جمہوریت کی کمزوری اور سیاستدانوں سے مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا آج جتنی مہنگائی ہے ، 5سال پہلے نہیں تھی، ایوان جتنا آج تقسیم ہے پہلے نہیں تھا۔ ایوان نے 71 قوانین پاس کیے مگر ایک پر بھی تفصیلی بحث نہیں ہوئی۔ہم ملک کے وفادار ہیں اور محمود خان اچکزئی بانی پی ٹی آئی کی سیاسی میراث کو آگے لے کر جائیں گے ۔

حکومتی بینچوں سے وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے خطاب کرتے کہا محمود اچکزئی نے سیاست میں طویل عمر گزاری ہے ۔ بلوچستان کے مسائل حل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ،خیبرپختونخوا کے معاملات پر ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے ، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے واضح پالیسی بنائی جائے گی اور حکومت سنجیدہ مذاکرات پرتیار ہے ۔ایم کیو ایم کے رکن ارشد ووہرا نے کہا کراچی میں المناک واقعہ پیش آیا لوگوں کی انویسٹمنٹ جل کر راکھ ہو گئی اور اربوں کا نقصان ہوا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرین کے بل معاف کیے جائیں اور فوری مالی معاونت کی جائے۔

دریں اثنا قومی اسمبلی میں ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ ترمیمی بل، نیشنل ٹیرف کمیشن ترمیمی بل اور ریلوے کی منتقلی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لئے گئے جبکہ نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن و انضباط ترمیمی بل، پاکستان کے نام اور قومی نشانات کے غیر مجاز استعمال کی روک تھام ترمیمی بل اور بھنگ کے کنٹرول اور انضباطی اتھارٹی ترمیمی بل صرف پیش کیے گئے ۔ نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل آرڈیننس کی مدت میں 120 دن کی توسیع کی قرارداد منظور کرلی گئی۔ قرارداد وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پیش کی۔ اجلاس میں ضمنی ایجنڈا کے لیے رولز معطل کرنے کی تحریک منظور کر لی گئی، جسکی اپوزیشن نے مخالفت کی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا بلز متعلقہ کمیٹیوں سے منظور ہو کر آئے ہیں۔ انہوں نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا، جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ نیشنل ٹیرف کمیشن ترمیمی بل بھی کثرت رائے سے منظور ہوا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں