نظام کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہوتا، جن کی لڑائی ان کو لڑنے دیا کریں : جسٹس محسن کیانی

نظام کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہوتا، جن کی لڑائی ان کو لڑنے دیا کریں : جسٹس محسن کیانی

کس کے کہنے پردرخواست دی،گردن ہلاؤ گے یا جیل بھیج دوں،شرم نہیں آئی، کتنے پیسے لئے ؟درخواست پراظہاربرہمی ایک مرتبہ ایک آدمی نے پی ایچ ڈی پروفیسر کی تعیناتی چیلنج کی اور درخواست گزار پانچویں پاس بھی نہیں تھا،ریمارکس

اسلام آباد(اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے آئی سی ٹی کے لیبر آفسر کی تعیناتی کے خلاف کیس میں درخواست گزار کی جانب سے درخواست سے لاعلمی پر برہمی کا اظہار کیا اور وکلاء دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔جسٹس محسن اخترکیانی نے کہانظام کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہوتا،جن کی لڑائی ہوتی ہے ان کو لڑنے دیا کریں،دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیاکہ کس کے کہنے پر درخواست دائر کی ہے ؟،تم اس کو جانتے ہو جس کے خلاف درخواست دائر کی؟، درخواست گزار کے وکیل نے بولنے کی کوشش کی تو جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل کو خاموش رہنے کا کہہ دیااور کہا آپ آپ کے بقول یہ ڈی آئی خان سے آکر کاروبار کر رہا ہے ،جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست گزار سے پھر سوال کیاکہ کس کے کہنے پر درخواست دی ، جس پر درخواست گزارنے کہا میں نے خود درخواست دائر کی ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا جس کے خلاف درخواست دائر کی ہے وہ کس عہدے پر ہے یہ ہی تمہیں معلوم نہیں،گردن ہلاؤ گے یا جیل بھیج دوں،شرم نہیں آئی، کتنے پیسے لئے ہیں؟،جس کے کہنے پر درخواست دی اس کا نام یا محکمہ بتا دیں،عدالت میں جھوٹ بولنے کا مطلب سمجھ آتا ہے ؟،تمہیں ڈیرہ اسما عیل خان میں مسیج آیا اور درخواست فائل کردی، جسٹس محسن اختر کیانی نے نائب کوٹ کو درخواست گزار کوعدالت میں ہی بٹھانے کی ہدایت کردی، بعد ازاں عدالت میں زیر سماعت تمام کیسز ختم ہونے کے بعد وکیل نے روسٹرم پر آکردرخواست گزار کو جانے کی اجازت دینے کی استدعا کی، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا یہ تو فری ہیں آزاد شہری ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا سر میں بھی مسنگ ہوا ہوں کووارنٹو کی درخواست کی وجہ سے ، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا بڑی بڑی کووارنٹو کے لیے بڑے لوگ مسنگ ہوئے ہیں،ڈیرہ اسماعیل سے غریب آدمی کو لے آتے ہیں جس کو معلوم نہیں ہوتا،نظام کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہوتا،ایک مرتبہ ایک آدمی نے پی ایچ ڈی پروفیسر کی تعیناتی چیلنج کی تھی اور درخواست گزار پانچویں پاس بھی نہیں تھا،جن کی لڑائی ہوتی ہے ان کو لڑنے دیا کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں