ڈیزل 78، پٹرول پر 82 روپے فی لٹر ٹیکس لیا جا رہا
عرب امارات میں 3ہزار 523پاکستانی قید ، 769کو قانونی معاونت فراہم کی گئی گردشی قرضہ میں 780ارب روپے کی بہتری آئی ،قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات
اسلام آباد(نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک)وزارت پٹرولیم نے پٹرولیم مصنوعات پر صارفین سے وصول ٹیکسوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردیں۔ تفصیلات میں انکشاف ہوا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر تین طرح کے ٹیکسز صارفین سے وصول کیے جارہے ہیں۔ صارفین سے ہائی سپیڈ ڈیزل پر 78روپے ،پٹرول پر 82روپے فی لٹرٹیکس لیا جا رہا، ہائی سپیڈ ڈیزل اور پٹرول کی مد میں صارفین سے 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کی جا رہی ہے ۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ ہائی سپیڈ ڈیزل پر 75 روپے 41 پیسے پٹرولیم لیوی وصول کی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ ہائی سپیڈ ڈیزل پر2 روپے 50 پیسے کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کی جارہی ہے ۔
محکمے کی جانب سے پیش کردہ دستاویز کے مطابق صارفین سے پٹرول پر 79 روپے 62 پیسے ، فرنس آئل پر 77 روپے پٹرولیم لیوی وصول کی جارہی ہے ۔ پٹرول پر اڑھائی روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کی جا رہی ہے ۔ اس کے علاوہ مٹی کے تیل پر 18 روپے 95 پیسے لائٹ ڈیزل ائل پر 15 روپے 37 پیسے پٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے ۔ فرنس آئل پر 18 فیصد جی ایس ٹی بھی وصول کیا جارہا ہے ۔ وزارت خارجہ نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں اس وقت 3 ہزار 523 پاکستانی شہری قید ہیں۔ امارات میں کل قید پاکستانیوں میں سے 1050 پاکستانی شہری ابو ظہبی کی مختلف جیلوں اور بحالی مراکز میں قید ہیں، نومبر 2025ء تک 769 پاکستانی قیدیوں کو قانونی معاونت فراہم کی گئی ۔
پارلیمانی سیکرٹری توانائی عامرطلال خان نے ایوان کو بتایا کہ موجودہ حکومت نے مارچ 2024 میں حلف اٹھایا، اس وقت گردشی قرضہ کا مجموعی حجم 12794 ارب روپے تھا۔ جو ن 2024 کے 2393 ارب روپے کے مقابلے میں گردشی قرضہ میں 780 ارب روپے کی بہتری آئی ۔ پارلیمانی سیکرٹری گل اصغرخان نے بتایا کہ ایم ٹین منصوبہ کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا جائیگا، ، ٹول پلازوں سے ملنے والے وسائل سڑکوں کی مرمت پرلگائے جائیں گے ، وزیرمملکت توانائی علی پرویزملک نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پررواں موسم سرمامیں گھریلوں صارفین کوگزشتہ سال کے مقابلہ میں زیادہ گیس فراہم کی گئی ہے ، تمام شعبہ جات کیلئے وافرگیس موجودہے ،کوئٹہ اوربلوچستان کے 70سے 80فیصدمیٹروں میں ٹمپرنگ کی شکایات ہیں۔