بانی پی ٹی آئی اپوزیشن لیڈرزپر اعتماد کریں تو برف پگھل سکتی
عمران خان ایک ہی وقت میں مذاکرات اوراحتجاج کرتے نظر آتے
(تجزیہ :سلمان غنی)
اپوزیشن لیڈر کے طور پر محمود خان اچکزئی کی تقرری کے بعد ایک مرتبہ پھر سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکراتی عمل کی بازگشت سننے میں آ رہی ہے ، یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ حکومت سے بات چیت کا مینڈیٹ محمود اچکزئی کے پاس ہے اور اس حوالے سے پیشرفت کی پوزیشن میں وہی ہوں گے ۔خود وزیرِ اعظم نے بھی اسی بنیاد پر اپوزیشن سے بامقصد ڈائیلاگ کی بات کی اور عندیہ دیا کہ اگر اپوزیشن ذمہ داری کا ثبوت دے تو بات آگے چل سکتی ہے اور بات بن سکتی ہے ۔اپوزیشن کا اصرار تھا کہ پہلے اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن کیا جائے ، تو تب بات آگے چلے گی۔دوسری طرف دیکھا جائے تو اپوزیشن لیڈر شپ تو مذاکرات کی ضرورت محسوس کرتی ہے مگر بانی پی ٹی آئی ایک ہی وقت میں دو کام کرتے نظر آتے ہیں۔
ایک طرف تو وہ محمود اچکزئی کو مذاکرات کا گرین سگنل دیتے ہیں، تو دوسری جانب اپنی جماعت کے ذمہ داروں کو سڑکوں پر احتجاج کرنے کا سگنل دیتے ہیں، مطلب کہ وہ خود کنفیوژن طاری رکھنا چاہتے ہیں اور گیم اپنے ہاتھ سے باہر کسی اور کے ہاتھ میں نہیں دینا چاہتے ۔اگر ان کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو وہ اپنی جماعت سمیت کسی پر بھی اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کا اختیار دینے کے باوجود وہ ریاستی ذمہ داران کو ٹارگٹ کرتے اور برا بھلا کہتے نظر آتے ہیں۔ حکومت کا بھی فیصلہ یہ ہے کہ جب تک بانی پی ٹی آئی اپنا طرز عمل تبدیل نہیں کرتے اور ریاستی اداروں کے ذمہ داران کے خلاف رویہ تبدیل نہیں کرتے ، بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔حکومت چاہتی تھی کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی قیادت ایسے افراد کے پاس ہو جو دھمکیوں سے نکل کر سیاسی طرزِ عمل اختیار کریں اور بات چیت کے خواہاں ہوں۔
اسی لیے بعض تقرریوں کے حوالے سے اپوزیشن سے مشاورت کی ضرورت ہے ،باوجود محمود اچکزئی کے سخت موقف کے ، حکومت ان سے اور اپوزیشن لیڈر سے بات کر سکتی ہے ۔ یہی صورتِ حال سینیٹ میں بھی ہے ، جہاں علامہ ناصر عباس بھی نسبتا ًسنجیدہ خیالات کے حامل ہیں۔ کم ا ز کم اب اپوزیشن کے پاس ایسی قیادت ہے جو ڈیڈلاک کو توڑنا چاہتی ہے ۔پی ٹی آئی کا احتجاج کا بخار ٹوٹ چکا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ اب سیاسی اور عوامی قوت کے استعمال والی پوزیشن نہیں رہی۔ لہذا اب نسبتاً سنجیدہ افراد کو آگے لایا گیاہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نئی اپوزیشن لیڈر شپ ان کے لیے ریلیف کا بندوبست کرے اور کسی طرح بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا سامان کیا جائے ۔ کیا ایسا ممکن ہے ؟ فی الحال تو ایسا ممکن نظر نہیں آتا، البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر بانی نئی اپوزیشن لیڈر شپ پر اعتماد کریں تو برف پگھل سکتی ہے اور بات بن سکتی ہے ، لیکن اس کے لیے احتجاجی سیاست سے نکلنا پڑے گا۔ لیکن کیا ایسا ہو سکتا ہے ؟ اس کا انحصار آنے والے چند روز پر ہے ۔
حکومت نے کم از کم یہ کوشش ضرور کی ہے کہ وہ سیاست کو ایوانوں میں واپس لائے ۔ اب یہ پی ٹی آئی پر منحصر ہے کہ وہ سیاست کو لڑائی بنا کر رکھتی ہے یا سیاسی طرزِ عمل اختیار کر کے اپنے لیے راستہ بناتی ہے ۔ بہرحال محمود اچکزئی جس کیفیت میں اپوزیشن لیڈر بنے ہیں، ان پر بھاری ذمہ داری آ گئی ہے ۔ ایک طرف انہیں ایوان چلانا ہے ، تو دوسری طرف انہیں اڈیالہ جیل کے سامنے سرخرو ہونا ہے ۔ مطلب کہ وہ پل صراط پر کھڑے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ یہ دیکھیں گے کہ اچکزئی ان کے لیے کیا کرتے ہیں اور اگر انہیں محسوس ہوا کہ وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے تو اپوزیشن لیڈر کا مستقبل بھی محفوظ نہیں ہو گا۔ حکومت سے زیادہ دباؤ ان پر پی ٹی آئی کا ہوگا۔