33 گھنٹے بعد بجھنے والی آگ 26 گھروں کے چراغ گل کر گئی، 18 لاشوں کی شناخت ہوگئی

کراچی: (دنیا نیوز) 33 گھنٹے بعد بجھنے والی آگ 26 گھروں کے چراغ گل کر گئی، فائر فائٹر سمیت 18 لاشوں کی شناخت ہوگئی۔

سانحہ میں بائیس افراد زخمی ہوئے، خوفناک آتشزدگی کے باعث عمارت کا راکھ کا ڈھیر بن گئی، کئی حصے گر گئے، پلر کمزور ہوگئے، عمارت کا باقی ڈھانچہ کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

ریسکیو اہلکاروں کا متاثرہ عمارت میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رہا، ملبہ ہٹانے کا کام بھی جاری رہا، کمشنر کراچی کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی، نکالی گئی دیگر لاشوں کی شناخت کیلئے سیمپل ڈی این اے لیبارٹری جامعہ کراچی کو موصول ہوگئے۔

میڈیکو لیگل سینٹر کراچی میں ڈی این اے پروفائلنگ ہوئی، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کہتی ہیں لاشوں کی شناخت ڈی این اے کراس میچنگ کے ذریعے کی جائے گی، ابتک متعدد لاشوں اور لواحقین کے نمونے حاصل کئے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ کراچی پولیس چیف آزاد خان نے واضح کیا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے، انتظامیہ نے ہمیں رپورٹ دی اوراس میں کسی کی غفلت پائی گئی تو مقدمے کا اندراج بھی ہوگا، ریسکیو آپریشن احتیاط کے ساتھ کیا جارہا ہے،اختتام کا ٹائم فریم نہیں دیاجاسکتا۔

چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے بتایا تھا کہ گل پلازہ میں مرکزی آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے اور اس وقت کولنگ کا عمل چل رہا ہے، محدود پیمانے پر سرچ آپریشن بھی کیا جا رہا ہے، ہفتے کی رات کو لگنے والی آگ 33 گھنٹے بھڑکتی رہی۔

قبل ازیں گل پلازہ کی عقبی سائیڈ پر فائر بریگیڈ کی تمام گاڑیوں نے کام بند کر دیا، کیونکہ آگ بجھانے کے عمل کے دوران عمارت سے آوازیں آنا شروع ہو گئیں، عمارت مکمل طور پر خستہ حال ہو چکی ہے اور اس کے گرنے کا خدشہ ہے، اسی لئے فائر فائٹنگ روک دی گئی ہے، صرف ملبے کو ہٹایا جا رہا ہے۔

ریسکیو حکام نے بتایا کہ آگ پر 90 فیصد قابو پایا گیا، عمارت کی حالت مخدوش ہونے پر کام روک دیا گیا،، عمارت گرنے کے خدشے پر فائر فائٹنگ روک دی گئی۔

گل پلازہ کے فائر فائٹنگ اور ریسکیو آپریشن میں پاک بحریہ، سندھ رینجرز، کے ایم سی، ریسکیو سندھ سمیت رضا کار بھی شامل رہے جنہوں نے انسانی زندگیاں بچانے کے لیے اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں