شکار پور میں سرکاری گندم کی فروخت کا بڑا سکینڈل سامنے آ گیا

شکارپور:(دنیا نیوز) اندرون سندھ کے علاقے شکار پور سرکاری گندم کی کروڑوں روپے مالیت کی غیر قانونی فروخت اور صوبے سے باہر ترسیل کا بڑا سکینڈل سامنے آ گیا۔

ذرائع کے مطابق حساس اداروں کی نشاندہی پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے فوڈ ڈیپارٹمنٹ اور فلور مل مافیا کے گٹھ جوڑ کا نیٹ ورک پکڑ لیا، ڈسٹرکٹ فوڈ آفیسر پرویز انڑ اور پی آر سی شکارپور کے انچارج کو بھی گرفتار کر لیا۔

اینٹی کرپشن ذرائع کا کہنا تھا کہ فلور مل کا مالک سجاد سکینڈل کا مرکزی کردار ہے جو کارروائی سے قبل فرار ہو گیا، فلور مل مالک کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی سرکاری گندم غائب کی گئی، 12 ہزار سے زائد سرکاری گندم کی بوریاں مبینہ طور پر نجی بروکر کے ذریعے فروخت کی گئیں ، بعض بوریوں میں مٹی ملا کر قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن کی کارروائی کے دوران نجی بروکر کے گودام سے 1350 خالی سرکاری تھیلے بھی برآمد کیے گئے، گرفتار فوڈ اہلکار سستے آٹے کے سٹال کے نام پر ہزاروں گندم کی بوریاں فلور مل مالکان کو فراہم کرتے تھے۔

علاوہ ازیں اینٹی کرپشن ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ملزم گندم عوام کو دینے کے بجائے سرکاری پشاور اور ملک سے باہر منتقل کرتے تھے جن کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا، سرکاری ریکارڈ، مالی لین دین اور دیگر پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ جاری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں