’’25سال:پنجاب میں بلدیاتی نظام کیساتھ 6 تجربے ‘‘
2001میں ضلع ،تحصیل اوریونین کونسلز بنائی گئیں،ضلع ناظم طاقتورایگزیکٹوتھا 2005کا ایکٹ 78ترامیم کے ساتھ آیا ،2013میں تحصیل کی سطح ختم کردی گئی 2022میں مرکزیت بڑھی ،2025ایکٹ میں مقامی حکومتیں اختیارات سے دور
لاہور (عمران اکبر)نئی صدی کے پہلے 25 سالوں میں صوبہ پنجاب کے ارباب اختیار نے پنجاب میں بلدیاتی نظام کے ساتھ کم از کم 6 بار تجربے کئے ہیں۔ 2001،2005،2013، 2019،2022اور2025کے بلدیاتی نظام اپنی نوعیت کے مختلف نظام ہیں،ان سب کا مقصد نچلے درجے تک انتقال اقتدارہی تھا،تاہم سوال یہ ہے کہ ان تبدیلیوں سے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوئے یا مزید مرکزیت پیدا ہوئی؟۔2001،2013،2019اور2025کے بلدیاتی نظام سیاسی اور انتظامی ساخت میں مختلف نظام تھے ،2001 میں نافذ ہونے والا لوکل گورنمنٹ آرڈیننس3سطح کا نظام تھا،جس میں ضلع، تحصیل اور یونین کونسل شامل تھیں اور ضلع ناظم ایک طاقتور ایگزیکٹو کے طور پر سامنے آیا ،وزیراعلیٰ کو یونین یا تحصیل ناظم کو معطل کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ ضلع کی سطح پر ایجوکیشن اور ہیلتھ اتھارٹیز بھی ناظم کے ماتحت تھیں۔ 2005 میں پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001 میں 78 ترامیم متعارف کرائی گئیں ، ناقدین کے مطابق اس سے ناظم کے بعض اختیارات محدود ہوئے۔
2013 میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت نظام میں بنیادی تبدیلی کی گئی۔تحصیل کی سطح ختم کر دی گئی اور نظام کو دو سطحوں تک محدود کر دیا گیا اور پورے پنجاب میں یونین کونسلز کی تعداد بڑھ کر تقریباً 4 ہزار 15 ہوگئی، میٹروپولیٹن سطح پر یہ عہدے میئرز اور ڈپٹی میئرز کہلائے ۔ اس نظام میں یونین کونسل اور ضلع کونسل کے چیئرمین تو منتخب شدہ تھے لیکن انتظامی طاقت بیوروکریسی کو منتقل ہو گئی جو کہ ہر فیصلے میں صوبائی حکومت کے تابع ہی رہی۔ 2013 کے نظام میں وزیراعلیٰ کو یونین اور تحصیل سطح کے سربراہوں کو معطل کرنے کا اختیار دیا گیا۔ ڈپٹی میئرز اپنی ہی حکومتوں سے اختیارات مانگنے کے لئے سراپا احتجاج رہے جبکہ بیوروکریسی کے دفاتر میں معنی خیز فیصلے ہوتے رہے ۔ بزدار دور میں 2019 میں متعارف کرایا گیا بلدیاتی نظام نچلی سطح پر نمائندگی کا دعویٰ لے کر آیا،اس نظام میں نیبرہُڈ کونسلز اور ولیج کونسلز متعارف کرائی گئیں،نیبر ہڈ کونسلز کی تعداد 3ہزار563اورولیج کونسلز کی تعداد 21ہزار 694تھی ،اگرچہ تحصیل کی سطح بحال کی گئی لیکن پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر بدستور چیف آفیسر رہا، وزیراعلیٰ کو معطلی کا اختیار بھی برقرار رکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ نظام مالی اور انتظامی طور پر محدود رہا۔ ن لیگی حکومت کی جانب سے 2022 میں متعارف کرایا گیا بلدیاتی نظام مزید مرکزیت کی طرف بڑھا ،لاہور اور ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں میٹروپولیٹن کارپوریشنزجبکہ دیگر اضلاع میں ضلع کونسلز قائم کی گئیں۔اس نظام میں میئر اور لارڈ میئر کا تصور تو 2013 کے نظام کی طرح دیا گیالیکن اصل انتظامی اختیارات بدستور صوبائی حکومت کے پاس رہے اور نظام مکمل طور پر پارٹی بیسڈ رکھا گیا،اس نظام میںیونین کونسلز کی تعداد بڑھ کر تقریباً 4 ہزار 275 تک پہنچ گئی جبکہ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر چیف آفیسر ہی رہا ۔ایکٹ 2025 میں میٹروپولیٹن کارپویشنز کو ختم کر کے ٹاؤن کارپوریشنز بنا کر نیا تجربہ کیا جا رہا ہے ، 2025کے قانون میں مقامی حکومتوں کو خود مختاری سے دور رکھا گیا ہے ۔ایکٹ2025 کے تحت بلدیاتی انتخابات مئی 2026 میں کروانے کا عندیہ دیا گیا ہے جوغیر جماعتی بنیادوں پرہوں گے ۔تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ جب تک بلدیاتی نمائندوں کو انتظام میں خودمختاری حاصل نہیں ہوگی،لوکل گورنمنٹ عوامی مسائل کے حل کا مؤثر ذریعہ نہیں بن سکتی۔