سیاسی بحران کا واحد حل بانی پی ٹی آئی کی رہائی:علامہ ناصرعباس:آؤملکر بیٹھیں،درمیانی راستہ نکل سکتا:راناثنا اللہ

سیاسی بحران کا واحد حل بانی پی ٹی آئی کی رہائی:علامہ ناصرعباس:آؤملکر بیٹھیں،درمیانی راستہ نکل سکتا:راناثنا اللہ

ہم حکومت کے ہراچھے اقدامات کی تعریف کریں گے ،سیاسی قیدی رہاکئے جائیں :قائد حزب ختلاف، تقررکا نوٹیفکیشن جاری مذاکرات پیشکش برقرار، ماضی کو بھول کر شفاف انتخابات کیلئے معاملات بہتر بنائیں :مشیر ، سینیٹ میں3 بلوں کی منظوری

اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے ، نیوز ایجنسیاں ، مانیٹرنگ ڈیسک )ایوان بالا میں مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سینیٹر راجہ ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈر مقرر کردیا گیا۔سیکرٹری سینیٹ حفیظ اللہ شیخ نے قائد حزب اختلاف کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ راجہ ناصر عباس کو 32 میں سے 22 ارکان اپوزیشن سینیٹ کی حمایت حاصل ہے ، سینیٹر ناصر عباس کو لیڈر آف اپوزیشن ڈکلیئر کرتا ہوں۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر ہونے پر ایوان بالا میں حکومتی اوراپوزیشن ممبران نے انہیں مبارکباد پیش کی ۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف مقرر ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ سیاسی بحران کے خاتمہ کا واحد حل بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے ،جیل میں انہیں رکھ کر معاملات کو آگے نہیں بڑھایا جاسکتا، سیاسی قیدیوں کی عام رہائی کا اعلان کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کے اچھے اقدامات کی تعریف کریں گے لیکن غلط اقدامات پر کبھی ساتھ نہیں دیں گے ہم ظلم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ ہیں حکومت کرنا سیاست دانوں کا کام ہے ۔

مسلم لیگ ن کے سینیٹر راناثناء اللہ نے کہا ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو بلا کر مستقبل کی بہتری کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے ،یہ ملک لانگ مارچ کا متحمل ہوسکتا ہے کیا؟ ،ہمیں پہلے پاکستان کی بات کرنی چاہئے ہم سب محب وطن ہیں سب کے گلے شکوے ہیں اس پر بیٹھ کر بات کی جاسکتی ہے اور درمیانی راستہ نکل سکتا ہے ،مذاکرات کی پیشکش اب تک برقرارہے ۔وفاقی وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے سینٹ کو بتایا ہے کہ پنجاب کی جامعات میں بلوچ طلبہ کے داخلوں پر کوئی پابندی نہیں، کوٹہ مکمل بحال ہے ۔ادھر سینیٹ نے غیرت کے نام پر قتل جیسے سفاکانہ جرائم کے خاتمے کے لیے ایک اہم اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے انسدادِ قتل برائے غیرت بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ۔ اس قانون کے تحت غیرت کے نام پر قتل اب ناقابلِ معافی جرم ہوگا اور ایسے مقدمات ریاست خود لڑے گی، چاہے متاثرہ خاندان صلح یا معافی کیوں نہ دے دے ۔ سینیٹ نے تولیدی صحت کو نصاب کا حصہ بنانے کا بل منظور کر لیا۔بل کے مطابق تولیدی صحت سے متعلق تعلیم 14 سال کی عمر سے زائد بچوں کے نصاب میں متعارف کرائی جائیگی۔ایوان بالا میں نیشنل ٹیرف کمیشن اور ایکسپورٹ ڈیویلپمنٹ فنڈ ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ،اپوزیشن نے مخالفت نہیں کی۔بعد ازاں اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں