قائمہ کمیٹی داخلہ میں پیکا ترمیمی قانون اتفاق رائے سے منظور

قائمہ کمیٹی داخلہ میں پیکا ترمیمی قانون اتفاق رائے سے منظور

اٹارنی جنرل آفس کے کنسلٹنٹ وکیل کاپاسپورٹ استعمال کرکے جعل ساز بھارت پہنچ گیا آئی جی سندھ اجلاس میں کیوں نہیں آئے ؟کیا گل پلازہ میں آگ بجھا رہے ؟کمیٹی برہم

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پیکا (PECA) ترمیمی قانون اتفاقِ رائے سے منظور کرلیا۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں آئی جی سندھ کی غیرحاضری پر ارکان نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ آئی جی سندھ نہ تو اجلاس میں شریک ہوئے اور نہ ہی اپنی عدم حاضری سے کمیٹی کو آگاہ کیا، جو پارلیمانی روایات کے منافی ہے ۔کمیٹی کے رکن سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ پولیس کی اجارہ داری کم کرنے کے لیے مؤثر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے ، آئی جی سندھ کیوں نہ آئے ؟کیا گل پلازہ میں آگ بجھا رہے ہیں ،انہوں نے سندھ پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیاں کیوں مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں ، کراچی میں ایک ایس ایچ او کی شہادت کے وقت پولیس کہاں تھی؟ سینیٹر انوشہ رحمن نے سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پیش کردہ بل کی این سی سی آئی اے بھی حمایت کر رہی ہے ، تاہم سوشل میڈیا سے قابل اعتراض مواد ہٹانے کے لیے واضح اور مؤثر طریقہ کار کی شدید ضرورت ہے ۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پلیٹ فارمز پی ٹی اے یا این سی سی آئی اے کی درخواستوں پر مواد نہ ہٹائیں تو پھر حکومت کے پاس کیا لائحہ عمل ہوگا؟ڈی جی این سی سی آئی اے نے بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے تعاون کے لئے متعدد درخواستیں کی جا چکی ہیں، تاہم انوشہ رحمن نے کہا کہ برسوں سے یہی بات سنی جا رہی ہے ، مگر عملی پیش رفت نظر نہیں آتی۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی آئی ٹی وزارت کی ذمہ داری ہے اور حکومت کو آزادیٔ اظہار پر قدغن کے الزامات کا سامنا رہتا ہے ، حالانکہ دہشت گرد اب سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔اجلاس میں ایک سنگین معاملہ بھی سامنے آیا، جس میں انکشاف ہوا کہ اٹارنی جنرل آفس کے ایک کنسلٹنٹ وکیل کی شناخت اور پاسپورٹ استعمال کرکے ایک جعل ساز 2023 میں بھارت پہنچ گیا۔ متاثرہ وکیل نے بتایا کہ جعل سازی نادرا کے ذریعے ہوئی، جس کے باعث انہیں اور ان کے والدین کو دوبارہ پاکستانی شہریت ثابت کرنا پڑی۔ ڈی جی پاسپورٹس نے بتایا کہ ایسے کیسز کی روک تھام کے لیے نیا ڈیش بورڈ متعارف کرایا گیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں