سینیٹ اپوزیشن لیڈر کاتقرر ، سیاسی فضا میں بہتری کی امید
اتحادی جماعت سے اپوزیشن لیڈر کے انتخاب پر پی ٹی آئی میں سوالات،تحفظات طویل عرصہ بعد اپوزیشن لیڈرکی تقرری سے ایوان میں قانون سازی کا عمل بحال
اسلام آباد(سید قیصر شاہ)ایوانِ بالا میں قائدِ حزبِ اختلاف کی باقاعدہ تقرری کے بعد پارلیمانی عمل ایک بار پھر مکمل صورت اختیار کر گیا۔ حکومت اور اپوزیشن کے اراکین ے طویل عرصے بعد اپوزیشن لیڈر کی تقرری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ایوان کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ تقرری کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد سینیٹ کا ایجنڈا یکسوئی کے ساتھ نمٹایا گیا، جو سیاسی فضا میں نسبتاً بہتری کی علامت سمجھا جا رہا ہے ۔قائدِ حزبِ اختلاف بننے کے بعد علامہ راجہ ناصر عباس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مؤثر رابطہ کار کا کردار کیسے ادا کرتے ہیں۔ اپنی پہلی تقریر میں انہوں نے آئین اور حلف کی پاسداری کا عزم دہرایا اور بانی پی ٹی آئی سے وفاداری کا اعلان بھی کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے تین نکاتی تجاویز پیش کیں جن میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی، سیاسی قیدیوں کے لیے عام معافی اور مذاکرات کے آغاز پر زور دیا گیا، جبکہ تمام فریقین کو اپنی آئینی حدود میں رہنے کا پیغام بھی دیا گیا تاہم اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے کہ وہ ان نکات کو عملی سیاست میں کس حد تک آگے بڑھا پاتے ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی جانب سے انہیں کتنا سیاسی اختیار حاصل ہے ۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ ایوانِ بالا میں پی ٹی آئی کے سینیٹرز کے بجائے اتحادی جماعت مجلس وحدت مسلمین سے قائدِ حزبِ اختلاف کا انتخاب کیوں کیا گیا، جیسا کہ ایوانِ زیریں میں بھی اتحادی جماعت کے رکن کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا گیا تھا۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ اس قیادت کے ساتھ کس حد تک تعاون کرتے ہیں یا یہ فیصلہ پارٹی کے اندر مزید سوالات اور سیاسی دباؤ کو جنم دیتا ہے ۔