امن بورڈ، پارلیمنٹ اور کابینہ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا :اپوزیشن، قومی مفاد مقدم رکھا گیا : وفاقی حکومت

امن بورڈ، پارلیمنٹ اور کابینہ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا :اپوزیشن، قومی مفاد مقدم رکھا گیا : وفاقی حکومت

پاکستان کو ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہونا چاہئے ، استثنیٰ سمیت تمام متنازعہ قانون سازی کو واپس لینا ہو گا،8 فروری کو یومِ سیاہ منا ئینگے :مولانا فضل الرحمن بورڈ میں شمولیت کامعاملہ پارلیمنٹ لائیں، مشترکہ اجلاس میں سب سے پہلے بحث کی جائے ـ:بیرسٹرگوہر،فلسطین وکشمیر پر سمجھوتا نہیں ہوگا:طارق فضل، اسمبلی میں خطاب

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نامہ نگار)اپوزیشن کا کہنا ہے کہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت پر پارلیمنٹ اور کابینہ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ قومی مفاد مقدم رکھا گیا۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 8 فروری کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا جائے گا اور تمام متنازعہ قانون سازی کو واپس لینا ہوگا جبکہ 27ویں ترمیم میں دئیے گئے استثنیٰ ختم کئے جائیں۔بورڈ آف پیس میں شمولیت کسی صورت پاکستان کو قبول نہیں ہونی چاہیے اور حکومت کو اس میں شامل ہونے سے صاف انکار کرنا چاہیے ۔یہ معاملہ پاکستان کی خودمختاری، جمہوریت اور خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں سے جڑا ہوا ہے ، حکومت بڑی خوشی سے اس دعوت کو قبول کر رہی ہے ، مگر ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

پی ٹی آئی کے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بورڈ آ ف پیس میں شمولیت کے معاملے کو پارلیمنٹ لایا جائے ، اس موضوع پر مشترکہ اجلاس میں سب سے پہلے بحث کی جائے ۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شرکت کا مقصد بھی مستقل جنگ بندی اور غزہ کی تعمیرِ نو کی حمایت ہے ، جس میں پاکستان کا قومی مفاد مقدم رکھا گیا ، یہ کوئی سیاسی بحث کا معاملہ نہیں بلکہ قومی یکجہتی کا پیغام ہے جو فلسطینی عوام اور پاکستان کے عوام دونوں تک پہنچے گا۔ اپنے خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس کے قیام اور اس میں پاکستا ن کی شمولیت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ہاتھوں 70 ہزار سے زائد فلسطینی مسلمانوں کو شہید کیا جا چکا ہے جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ فلسطینی بھوک اور بیماری کے باعث جان سے گئے ، یہ افسوسناک امر ہے کہ بورڈ آف پیس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جیسے شخص کو شامل کیا جا رہا ہے جبکہ آج بھی غزہ پر بمباری جاری ہے ۔

ان کاکہناتھاکہ فلسطین میں ہم امن دینے جارہے ہیں اور اپنے ملک میں امن نہیں، ہمارے بجٹ میں تو لگتا ہے مسلح گروہوں کے بھتے کاحصہ رکھا جاتا ہے ، ہمارے آئین کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی۔ قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ فلسطین اس وقت سب سے اہم عالمی ایشو ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ بورڈ آ ف پیس میں شمولیت کے معاملے کو پارلیمنٹ میں لایا جائے ، ٹرمز آف انگیجمنٹ واضح کئے جائیں ۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ یہ کوئی سیاسی بحث کا معاملہ نہیں بلکہ قومی یکجہتی کا پیغام ہے جو فلسطینی عوام اور پاکستان کے عوام دونوں تک پہنچے گا۔

علاوہ ازیں قومی اسمبلی نے انکم ٹیکس ترمیمی سوئم بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیاجو وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے پیش کیا ۔ وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے متعدد اہم ترمیمی بلز ایوان میں پیش کئے جن میں نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کا ئونٹر فنانسنگ آف ٹیررازم اتھارٹی ترمیمی بل،قومی محافظ خانہ دستاویزات ترمیمی بل،متروکہ املاک انتظام ترمیمی بل،نیا پاکستان ہاسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل،الیکٹرانک ٹرانزیکشنز ترمیمی بل اور پاکستان سٹڈی سینٹرزشامل ہیں،تمام بلز مزید غور کیلئے قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دئیے گئے ۔ قومی اسمبلی کااجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں