بلدیاتی انتخابات میں تاخیر پر برہمی، وزیراعلیٰ پنجاب کو بلانے پر مجبور نہ کریں : چیف الیکشن کمشنر
اگر مقامی حکومتیں نہیں ہوتیں تو صوبائی حکومت کے ہونے کا بھی کوئی جواز نہیں :سکندر سلطان راجا ،ریمارکس آئین و قانون پر عملدرآمد نہ ہونے سے نا اہلی کی سزا ہو سکتی ہے :حکام الیکشن کمیشن ،سماعت 20 فروری تک ملتوی
اسلام آباد(دنیا نیوز،آن لائن،آئی این پی) چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں کئی سالوں کی تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو بلانے پر مجبور نہ کیا جائے ، انہوں نے سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرتے ہوئے سماعت 20فروری تک ملتوی کردی۔جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5رکنی بینچ نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے معاملہ پر سماعت ہوئی، چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان ، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے، الیکشن کمیشن حکام نے کہا تمام صوبوں میں بلدیاتی انتخابات ہو چکے ، صرف پنجاب اور اسلام آباد میں رہتے ہیں جس پر چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں کیا چیز مشترک ہے ؟ ممبر پنجاب نے کہا پنجاب اور اسلام آباد میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہے ۔
حکام الیکشن کمیشن نے بتایا کہ آئین اور قانون پر عمل درآمد نہ ہونے پر سنگین نتائج ہو سکتے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔حکام نے بتایا کہ نا اہلی کی سزا ہو سکتی ہے ۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب میں 2021 سے بلدیاتی انتخابات نہ ہونا انتہائی شرمندگی کی بات ہے ، اگر مقامی حکومتیں نہیں ہوتیں تو صوبائی حکومت کے ہونے کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا۔چیف الیکشن کمشنر نے خبردار کیا کہ اگر اب بھی ٹائم لائن پر عمل نہ ہوا تو الیکشن کمیشن معاملات اپنے ہاتھ میں لے لے گا اور ضرورت پڑنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے ،ہمیں مجبور نہ کریں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو طلب کرکے یہاں بٹھا لیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ حکومت وزیر اعلیٰ کو معاملے کی حساسیت سے آگاہ کرے کیونکہ کمیشن مزید تاخیر برداشت نہیں کرے گا ،انہوں نے سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے ہدایت کی کہ پنجاب حکومت کی کمیٹی اس کے ساتھ بیٹھے اور دونوں کمیٹیاں 10 فروری تک کام مکمل کریں۔ سماعت کے دوران سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے بتایا کہ معاملہ پنجاب کابینہ کی کمیٹی میں گیا جہاں تاخیر سے نمٹایا گیا جبکہ یونین کونسلز اور ٹاؤنز کی نشاندہی پر اعتراضات نمٹائے جا رہے ہیں ، 26 جنوری تک عمل مکمل ہو جائے گا۔ الیکشن کمیشن نے سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی ۔