گھریلو تشدد پر سزا،مرد بھی شکایت کرسکیں گےـ:پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بل کی منظوری
گالی دینا،بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا، دوسری شادی یا طلاق کی دھمکی،جسمانی و معاشی تشدد،خرچہ روکنا جرم قرار، 3سال قید،1لاکھ تک جرمانے کی سزائیں مقرر صدر کے اعتراض کے باوجود دانش سکول اتھارٹی، انسانی حقوق کمیشن بلز بھی منظور،اپوزیشن کی ترامیم مسترد، قانون کی خلاف ورزی کرکے 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی شادیاں کراؤنگا:فضل الرحمٰن سانحہ گل پلازہ پر قرارداد متفقہ منظور،لاشوں پر سیاست نہ کریں:شیری رحمن،قبضہ بورڈ کیخلاف قرارداد منظور کرنی چاہیے :راجہ ناصر عباس،امن بورڈ میں نہ جاتے تو یہ کہتے پاکستان تنہا رہ گیا:احسن اقبال
اسلام آباد (یاسر ملک،سٹاف رپورٹر،نامہ نگار) پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں گھریلو تشددپر سزا سمیت 3بلز اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود منظورکرلئے گئے ، نئے قانون کے تحت گھریلو تشدد پر مرد بھی شکایت کر سکیں گے ۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں 35 منٹ تاخیر سے شروع ہوا جس میں قانون سازی کے متعدد اہم نکات زیر بحث آئے ، اس موقع پر ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی شرمیلافاروقی نے گھریلو تشدد(روک تھام وتحفظ) بل 2025 ایوان میں پیش کیا،وزیرمملکت بیرسٹرعقیل ملک نے کہا گھریلو تشددبل میں پہلی مرتبہ مردوں کوبھی شامل کیاگیاہے اسلئے وہ شرمیلا فاروقی کی ترمیم کی مخالفت نہیں کریں گے ۔
سینیٹرکامران مرتضیٰ نے بل پرترمیم پیش کرتے ہوئے کہاکہ بل پرصدر مملکت کے اعتراضات کوختم نہیں کیاگیا، انہوں نے کہاکہ بل سے خاندانی نظام کو نقصان پہنچے گا۔عالیہ کامران نے بل پرترمیم پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس بل پرمولانا فضل الرحمان اپنی رائے دیناچاہتے ہیں،انہوں نے کہاکہ بل میں حق ملکیت کودیکھنا ضروری ہے ۔وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے ترامیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹیز میں اس معاملہ کاتفصیل سے جائزہ لیاگیاہے اوراتفاق رائے سے امورطے ہوئے ہیں اس لیے وہ ترمیم کی مخالفت کریں گے ۔اجلاس میں عالیہ کامران اورسینیٹرکامران مرتضیٰ کی ترامیم کومستردکرتے ہوئے بل کی شق وارمنظوری دے دی گئی۔
قانون کا اطلاق صرف بیوی تک محدود نہیں ہوگا بلکہ بچوں، بزرگ افراد، معذور افراد، لے پالک بچوں، ٹرانس جینڈر افراد اور ایک ہی گھر میں رہنے والے تمام افراد اس کے دائرہ کار میں آئیں گے ۔مسودہ قانون میں بیوی کو گالی دینا،گھورنا،دوسری بیوی یا طلاق کی دھمکی دینا،جسمانی و معاشی تشدد اور خرچہ روکنا جرم قراردیتے ہوئے 3سال قید،1لاکھ روپے تک جرمانے کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ قانون کے تحت بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے کسی بھی فرد کو گالی دینا قابلِ سزا جرم ہوگا،اسی طرح کسی بھی فرد کو جذباتی یا نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی گھریلو تشدد کے زمرے میں آئے گا،قانون کے تحت بیوی، بچوں، معذور یا بزرگ افراد کا تعاقب کرنا جرم قرار دیا گیا ہے ، جبکہ بیوی کو اس کی مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنے پر بھی سزا دی جا سکے گی،بل کے مطابق خاندان کے کسی بھی فرد کی پرائیویسی یا عزتِ نفس کو مجروح کرنا، جسمانی نقصان کی دھمکیاں دینا، یا گھر میں رہنے والے کسی فریق پر بے بنیاد الزام لگانا بھی قابلِ سزا جرم ہوگا۔
مزید یہ کہ بیوی، بچوں یا گھر میں موجود دیگر افراد کی دیکھ بھال اور کفالت میں غفلت برتنا بھی قانوناً جرم تصور کیا جائے گا۔ جنسی استحصال کے ساتھ ساتھ معاشی استحصال کو بھی گھریلو تشدد میں شامل کیا گیا ہے ۔ بل کے مطابق تشدد سے مراد جسمانی، جذباتی، نفسیاتی، جنسی اور معاشی بدسلوکی ہے ، جس سے متاثرہ شخص میں خوف پیدا ہو یا جسمانی و ذہنی نقصان پہنچے ۔ بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا بھی جرم ہوگا، اور ایسی دھمکیوں پر کم از کم 6 ماہ سے لے کر زیادہ سے زیادہ 3 سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید سزا بھی دی جا سکے گی، درخواست موصول ہونے کے 7 روز کے اندر سماعت اور 90 دن کے اندر فیصلہ سنانا لازم ہوگا۔متاثرہ شخص کو مشترکہ رہائش گاہ میں رہنے کا حق حاصل ہوگا، جبکہ ضرورت پڑنے پر عدالت جوابدہ شخص کو متبادل رہائش کا بندوبست یا متاثرہ فرد کو شیلٹر ہوم کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دے سکے گی۔
اس کے علاوہ عدالت تشدد کرنے والے شخص کو متاثرہ فرد سے دور رہنے کے احکامات جاری کرے گی جبکہ سنگین نوعیت کے کیسز میں ملزم کو جی پی ایس ٹریکر پہننے کی ہدایت بھی دی جا سکے گی۔خیال رہے اجلاس میں صدر مملکت کی جانب سے گھریلو تشدد سے متعلق بل اور دانش سکولز اتھارٹی بل پر اعتراضات سامنے آئے ، جن میں گھریلو تشدد سے متعلق بل کو مبہم قرار دیتے ہوئے تجویز کردہ سزاؤں پر بھی اعتراض کیا گیا اور کہا کہ گھریلو تشدد سے متعلق بل کو موجودہ شکل میں منظوری دینے کے بجائے اس پر دوبارہ غور کیا جائے ۔اسی طرح وفاقی حکومت کو دانش سکولز اتھارٹی بنانے سے قبل صوبوں کے ساتھ مشاورت کرنے کا کہا گیا تھا، مشترکہ اجلاس میں جب دانش سکولز اتھارٹی بل 2025 پیش کیا گیا تو جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا صدر مملکت نے بلز پر صوبوں سے مشاورت کا کہا تھا جسے نظرانداز کیا جا رہا ہے اور وفاق صوبوں کی حدود میں مداخلت کر رہا ہے ۔
سپیکر نے اپوزیشن کے اعتراضات کو نظرانداز کرتے ہوئے منظوری کا عمل شروع کر دیا، جس پر اپوزیشن نے نعرے بازی کی۔ دونوں ایوانوں کے قائد حزب اختلاف اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے جبکہ اپوزیشن اراکین ایوان میں نعرے لگاتے رہے ۔پی ٹی آئی کے اراکین نے سپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے بھی نعرے بازی کی جبکہ بیرسٹر گوہر نے دہشت گرد دہشت گرد نامنظور کے نعرے لگائے ۔ اس موقع پر محمود خان اچکزئی اور سینیٹر راجا ناصر عباس کی قیادت میں پی ٹی آئی اراکین کا سپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج جبکہ دیگر اپوزیشن ارکان کی نعرے بازی بھی جاری رہی۔اپوزیشن کے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے باوجود پارلیمنٹ نے دانش سکولز اتھارٹی بل کی بھی منظوری دے دی۔بل پروفاقی وزیرپارلیمانی امور طارق فضل کی ترامیم کی ایوان نے منظوری دی جبکہ عالیہ کامران اورسینیٹرکامران مرتضیٰ کی ترامیم کوایوان نے مستردکردیا۔
دانش سکولز اتھارٹی بل کے مطابق دانش سکولز کے نظم و نسق کیلئے دانش سکولز اتھارٹی قائم کی جائے گی، اس ایکٹ کا اطلاق اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری پر ہوگا، قانون کو فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا ہے جبکہ کم آمدن والے گھرانوں کے بچوں کو تعلیم کی فراہمی میں ترجیح دی جائے گی۔ایکٹ میں دانش سکولز اتھارٹی کے قیام سے متعلق شقیں بھی واضح کی گئی ہیں، جن کے مطابق اتھارٹی ایک باقاعدہ قانونی ادارہ ہوگی جسے معاہدے کرنے اور مقدمہ دائر کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، اتھارٹی کو مستقل جانشینی اور سرکاری مہر بھی دی گئی ہے جبکہ ایکٹ کے تحت پہلے سے قائم دانش سکولز کو بھی اس اتھارٹی میں شامل کیا جائے گا۔قانون کے مطابق دانش سکولز اتھارٹی کے چیئرمین وزیرِاعظم پاکستان ہوں گے جبکہ متعلقہ وفاقی وزیر کو اتھارٹی کا وائس چیئرمین مقرر کیا جائے گا۔ متعلقہ ڈویژن کے سیکرٹری اتھارٹی کے رکن ہوں گے ۔
وفاقی وزارتِ خزانہ اور وزارتِ منصوبہ بندی کے سیکرٹریز کو بھی اتھارٹی میں شامل کیا گیا ہے ۔ اسی طرح بی پی ایس 21 یا اس سے اوپر گریڈ کے افسران کو اتھارٹی کی رکنیت دی جائے گی۔ایکٹ کے تحت دانش سکولز اتھارٹی میں 3 معروف ماہرینِ تعلیم کو رکن بنایا جائے گا۔ علاوہ ازیں نجی شعبے سے 2 ممتاز شخصیات بھی اتھارٹی کا حصہ ہوں گی۔ منیجنگ ڈائریکٹر دانش سکولز اتھارٹی کے سیکرٹری کے طور پر فرائض انجام دیں گے جبکہ چیئرمین کو سرکاری یا نجی ماہرین کو بطور رکن شامل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ ماہرین کی نامزدگی 3 سال کیلئے ہوگی، جس کی مدت میں توسیع کی جا سکے گی اور چیئرمین کی غیر موجودگی میں وائس چیئرمین چیئرمین کے فرائض انجام دیں گے ۔قانون کے مطابق دانش سکولز اتھارٹی کیلئے ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اتھارٹی کو اپنے اجلاسوں کے طریقۂ کار طے کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ دانش سکولز کے لیے نصاب، کورسز اور مراکزِ امتیاز کی منظوری اتھارٹی دے گی جبکہ دانش سکولز اور مراکزِ امتیاز کے معائنے کا اختیار بھی اتھارٹی کو حاصل ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ اتھارٹی کو سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے ۔مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل بھی پیش کیا گیا، جو وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے ایوان میں پیش کیا۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے بل میں ترمیم پیش کی، جس کی حکومت نے حمایت کی۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق بل پر جے یو آئی کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم مسترد کر دی گئیں، جو سینیٹر کامران مرتضیٰ اور عالیہ کامران نے پیش کی تھیں۔ بعد ازاں پارلیمنٹ نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی۔بعد ازاں پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج ختم کردیا اور اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے ، تاہم اقبال آفریدی اور انجینئر حمید حسین کا تیراہ آپریشن سے متعلق احتجاج جاری رہا۔ایوان میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار کی جانب سے کراچی میں سانحہ گل پلازہ پر حکومت اور اپوزیشن کی دستخط شدہ مشترکہ قرارداد پیش کی گئی جسے متفقہ طورپر منظور کرلیا گیا گیا،قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان گل پلازہ میں شہید ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہے اور فائر فائٹر فرقان علی کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے ، ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ آگ سے بچاؤ کے انتظامات کیے جائیں۔ علاوہ ازیں سانحے کے متاثرین کو معاوضہ دیا جائے ۔
شیری رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ حادثے سے متعلق تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔ اس موقع پر اقبال آفریدی نے تقریر میں مداخلت کی کوشش کی جس پر سپیکر نے کہا کہ اگر آپ مداخلت کریں گے تو اجلاس ملتوی کردوں گا۔شیری رحمن نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کراچی اور شہریوں کی مکمل ذمہ داری لیتی ہے ۔ اس معاملے کو سیاست یا لسانیت کا مسئلہ نہ بنایا جائے ۔ یہاں پر فوراً اٹھارہویں ترمیم کی بات کردی جاتی ہے ۔ آپ کے وزرا کراچی کو الگ کرنے کی بات کرتے ہیں۔ لاشوں پر سیاست نہ کریں۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے مشترکہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا ایک حساس موڑ سے گزر رہی ہے ۔ غزہ کے لوگ اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔جو کام نیتن یاہو نہ کرسکا وہ اب پیس بورڈ کے نام پر شروع ہوا ہے ۔ ہم اس پیس بورڈ کو قبضہ بورڈ کہتے ہیں، ہمیں اس پیس بورڈ کے خلاف قرارداد منظور کرنی چاہیے ۔ یہ ہماری عزت و وقار اور غیرت و حمیت کا مسئلہ ہے ۔
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی قانون سازی کو غیر اسلامی سمجھتا ہوں، اس قانون سازی کو اسلامی نظریاتی کونسل بھیجتے تو اچھا ہوتا، میں آپ کے قانون کی خلاف ورزی کروں گا، 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی شادیاں کراؤں گا۔ میں اپنا شدید احتجاج ایوان میں ریکارڈ کرا رہا ہوں، ہم اس قانون کو ملک میں چلنے نہیں دیں گے ۔انہوں نے کہا اگر پیس بورڈ کے نکات میں تبدیلیاں ہوئیں تو آپ کیوں گئے ، ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی قوت جارحیت کو تقویت دے رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ حماس کو دھمکیاں دے رہے ہیں، افغانستان، عراق، لیبیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کے بعد تفتان کی سرحد پر کھڑا ہوگا، ایسے فورم میں جا رہے ہیں جس کا آغاز دھمکیوں سے ہورہا ہے ۔کیا ٹرمپ نے ان کی موجودگی میں نہیں کہا کہ حماس غیر مسلح نہ ہوئی تو تباہ وبرباد کردوں گا، جو شکایات عمران خان سے تھیں موجودہ حکومت دو چار ہاتھ آگے چلی گئی ہے ،اتنا بڑا فیصلہ لیتے ہوئے پارلیمان سے کیوں نہیں پوچھا گیا، آج یہ ایوان موجودہ شرائط پر پیس بورڈ کو مسترد کردے ۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا غزہ کی وجہ سے ہمارے دل چھلنی ہیں۔ بورڈ آف پیس میں پاکستان نہ جاتا تو یہ کہتے پاکستان تنہا رہ گیا۔ ہم برادر اسلامی ملکوں کے ساتھ غزہ کے امن کیلئے اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا سعودی عرب، ترکیہ، قطر، متحدہ عرب امارات مسلمان ملک نہیں ہیں؟ کیا یہ تمام ممالک پاکستان کے دوست نہیں ہیں؟پاکستان کی سلامتی پرکسی سے درس لینے کے محتاج نہیں ہیں، جس عمل پر فلسطین کی عوام نے جشن منایا ہم اس پر تنقید کر رہے ہیں۔ آج اگر پاکستان کو سینٹر سٹیج ملا ہے تو پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے ۔اسرائیل ایک سفاک ملک ہے اس اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس حکومت کے ہوتے ہوئے پاکستان کو کوئی میلی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔ ہمیں کوئی بزدلی اور غفلت کا طعنہ نہیں دے سکتا۔ کوئی میلی آنکھ سے دیکھے گا تو آنکھیں نوچ لیں گے ۔بعد ازاں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔