سینیٹ :اپوزیشن کی تنقید ، حکومت کو کورم کی نشاندہی کرنا پڑگئی

 سینیٹ :اپوزیشن کی تنقید ، حکومت کو کورم کی نشاندہی کرنا پڑگئی

حکومتی ممبران کو جواب دینے کا موقع دینے کے بعد اجلاس ملتوی کردیا گیا قرضہ 80کھرب ہوچکا :علی ظفر، ملک کو مشکلات سے نکال رہے :بلال کیانی

اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے )ایوان بالا میں اپوزیشن کی حکومت پر شدید تنقید پر حکومتی سینیٹر نے کورم کی نشاندہی کردی تاہم چیئرمین سینیٹ نے حکومتی ممبران کو جواب دینے کا موقع دینے کے بعد اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا ۔سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت شروع ہوا ،وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک کے بعد قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس پیش کی گئیں۔ اس دوران اپوزیشن نے حکومت کی کارکردگی سمیت دیگرامور پر شدید تنقید کرناشروع کردی ا س دوران ایوان میں ممبران کی حاضری کم تھی جس پر حکومتی ممبرناصر بٹ نے کھڑے ہوکر کورم کی نشاندہی کردی جس کا چیئرمین نے نوٹس لئے بغیراپوزیشن کے ممبر سید علی ظفر کی تقریر کے بعد حکومت کو جواب دینے کا موقع د یا۔

وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی کے جواب کے بعد انھوں نے کہا کہ میں نے اپوزیشن کے بعد حکومت کو بھی بات کرنے کا موقع دیا کہ کل یہ نہ کہیں کہ ہمیں بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ،کورم کی نشاندہی ہونے پراجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔قبل ازیں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہاکہ ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے حکومت بھرپور اقدامات کررہی ہے ۔ سابق حکومت نے اپنی سیاسی انا اور اقتدار کے خوف میں مبتلا ہو کر جان بوجھ کر پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیفالٹ کا مطلب وہی حالات ہوتے ہیں جو ہم نے سری لنکا میں دیکھے ، جہاں عوام کو ایندھن اور کھانا پکانے کی گیس کے لیے طویل قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا۔ 2022ء میں جب موجودہ اتحادی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اسے ایک سبوتاژ شدہ آئی ایم ایف پروگرام ورثے میں ملا۔

سابق حکومت کے بعض وزرائے خزانہ آئی ایم ایف کو خطوط لکھتے رہے کہ پروگرام بحال نہ کیا جائے جس سے ان کی نیت اور طرز عمل کھل کر سامنے آ گیا۔ قبل ازیں پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ عوام سوال کر رہے ہیں کہ پاکستان میں انصاف کہاں ہے ، ملک کا مستقبل کیا ہے اور سابق وزیر اعظم عمران خان کب اپنا عہدہ سنبھالیں گے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 8 فروری کے بعد صرف سیاسی تنازع نہیں بلکہ آئینی بحران پیدا ہوا، عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کیا گیا اور تشدد و بے ایمانی کے ذریعے اسے تباہ کیا گیا۔علی ظفر نے حکومت پر معاشی بحران کے حوالے سے بھی تنقید کی اور کہا کہ ملک کا قرضہ 80 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے اور 13 فیصد اضافہ ہوا ہے ، برآمدات میں کمی ہو رہی ہے ، نوجوانوں کے روزگار کے مواقع محدود ہیں اور ذہین افراد ملک چھوڑ رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں