تیراہ میں آپریشن ہو رہا نہ انخلا کا حکم دیا:وفاقی حکومت:مجھے ہٹانے کیلئے 3آپشن،گورنر راج لگائیں،نااہل کریں یا مارددیں،بند کمروں کے فیصلوں کو نہیں مانیں گے:وزیراعلیٰ پختونخوا
دہشت گردوں کیخلاف انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں ہورہیں:عطا تارڑ ، وفاق نے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ، نقل مکانی کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے :احسن اقبال ، طلال چودھری نوٹیفکیشن 2 یا تین دن میں واپس نہ لیا تو پختون قوم کا جرگہ بلائیں گے ،لوگوں سے پوچھا جائیگا خودجا رہے یا نکالاگیا، لوگوں کو واپس لائیں گے :سہیل آفریدی،انخلا کیلئے مجبور کیا جارہا:شفیع جان
کوٹ مومن، چنیوٹ (نمائندہ گان دنیا ) وفاقی وزرا ئنے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں کسی کو نقل مکانی پر مجبور نہیں کیا جا رہا ،تیراہ میں آپریشن ہو رہا نہ انخلا کا حکم دیا ۔وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وادی تیرہ کو خالی کرانے سے متعلق جو غلط خبریں چلائی گئی ہیں، وہ حقیقت سے ہٹ کر ہیں،وادی تیراہ میں خفیہ آپریشنز جاری رہتے ہیں، خیبر پختونخوا حکومت غلط بیانی نہ کرے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والوں کیلئے 4 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے ہیں تاکہ ان کی مدد کی جا سکے ۔ خیبر پختونخوا حکومت کو عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے ۔
صوبائی حکومت کو عوامی فلاح کے منصوبے شروع کرنے کے ساتھ ساتھ فرانزک لیب بنانی چاہیے تاکہ عوام کے مسائل حل ہو سکیں، انہوں نے کہا کہ احتجاج کی کال سن سن کر لوگ تھک چکے ہیں، اس لیے احتجاج کی سیاست میں کچھ نہیں پڑا، عوام کی خدمت پر توجہ مرکوز کریں۔انہوں نے کہا کہ عوام اپنی دہلیز پر سہولتیں چاہتے ہیں اور اگلے الیکشن میں فیصلہ عوامی خدمت پر ہونا چاہیے ، احتجاج پر نہیں۔عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشت گردوں کو اب چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی اور ان کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا، دہشت گردی کے خلاف پاک فوج اوراداروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جن کی بدولت دہشت گردوں کی ہارڈ ٹارگٹس تک پہنچنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے ، دہشت گردوں کو اب چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی اور ان کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے پر پوری قوم متحد ہے ، ٹی ٹی پی اور دہشت گرد عناصر سمیت ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رہیں گی۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کیوں ہورہی، صوبائی حکومت اس کا جواب دے ۔ احسن اقبال کا کہنا تھاکہ وزارت اطلاعات تردید کرچکی، وادی تیراہ میں کوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، وفاقی حکومت نے کوئی اپیل نہیں کی کہ لوگ وادی تیراہ سے نقل مکانی کریں، لوگ بے امنی اور دہشتگردوں کی وجہ سے نقل مکانی کررہے ہوں گے ۔ان کا کہنا تھا کے پی حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا دہشتگردوں کے ساتھ ہیں یا پاکستان کے عوام کے ساتھ؟ ،پی ٹی آئی حکومت مسلسل اداروں کے خلاف مہم چلا رہی ہے ، یہ لوگ ہمیں خوارج کے حمایتی لگتے ہیں، لا اینڈ آرڈر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے ،یہ اس میں ناکام ہیں۔غزہ بورڈ آف پیس کے حوالے سے وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ بورڈ آف پیس جیسے معاہدے کابینہ کی منظوری سے ہوتے ہیں، وزیر اعظم نے بھی کہا کابینہ نے اس کی منظوری دی۔
احسن اقبال نے کہا کہ جب ہمیں دعوت نامہ آیا اس وقت اتنا وقت نہیں تھا کہ اس پر بحث کراسکتے ، اگر دعوت نہ ملتی یا نہ جاتے تو یہی اپوزیشن ہم پر تنقید کر رہی ہوتی، وزیر اعظم نے تمام کابینہ اراکین سے مشاورت کی، تمام وزرا نے اختیاردیا کہ شمولیت اختیار کریں۔وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پورے ملک میں ہورہے ہیں، روزانہ 150 کے قریب آپریشن پورے ملک میں ہوتے ہیں،سب سے زیادہ دہشت گردی کے پی میں ہے ،افغانستان سے لوگ کے پی کے علاقوں میں آتے ہیں، وادی تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہورہا،وادی تیراہ میں جوآپریشن ہورہا ہے ، یا لوگ نقل مکانی کررہے ہیں،یہ سب صوبائی حکومت نے تیراہ میں اپنے طور پر بندوبست کیا ہے ، یہ تمام معاملہ صوبائی سطح پر مینج ہوا، اس کی ذمہ دار بھی صوبائی حکومت ہے ۔
جووہاں کے مقامی لوگوں کے ساتھ گفتگو ہوئی اس کے بارے میں کے پی حکومت بہتر بتاسکتی ہے ،اگر وادی تیراہ میں فوج نے آپریشن کرنا ہوتا تووفاقی حکومت سے اجازت لیتی،صوبائی حکومت نے تیراہ میں نقل مکانی کیلئے فنڈز بھی جاری کئے ہیں، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاک فوج جہاں آپریشن کرتی ہے پی ٹی آئی مہم چلادیتی ہے ،پی ٹی آئی کے دہشت گردی کے حوالے سے دانت دکھانے کے اور ہیں کھانے کے اور ہیں،وہ کہتی کچھ ہے کرتی کچھ ہے ،اس حوالے سے ابہام پیدا کرنا ان کا وتیرہ بن چکا ہے ،اگر پی ٹی آئی والے دہشت گردی کے خلاف کوئی اقدام کربھی لیتے ہیں تو لوگوں کو وہی بتاتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کررہے ،جو کررہا ہے وہ وفاق ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں طلال چودھری نے کہا جب بھی پی ٹی آئی کی کارکردگی ،گورننس، کرپشن پر سوال اٹھنے لگتے ہیں تو پھر احتجاج،لانگ مارچ ، کوئی تحریک لانچ کرتے ہیں۔ پھرپی ٹی آئی کے لوگ بانی پی ٹی آئی کو جھوٹی تسلی دینے کیلئے یہ کہتے ہیں کہ ہم یہ سب تمہارے لئے کررہے ہیں، اپنی کارکردگی کو چھپانے کیلئے احتجاج کا اعلان کرتے ہیں،اب لوگ سہیل آفریدی سے سوال کررہے ہیں کہ تم میں اور گنڈاپورمیں کیا فرق ہے ،تم نے کیا کیا ہے ، تمہارے کیا پلان ہیں؟،اس کی سٹریٹ موومنٹ پر بھی لوگوں نے سوالات اٹھائے ہیں ،آپ سٹریٹ موومنٹ کی بات کرتے ہو، کے پی میں اپنی سٹریٹ میں کیوں نہیں جاتے ؟،بانی سے ملاقات سے متعلق سوال پرطلال چودھری نے کہا یہ جیل حکام نے فیصلہ کرنا ہے کہ ملاقات کی اجازت دینی ہے یا نہیں،کس کی ملاقات ہونی چاہئے کس کی نہیں۔ پی ٹی آئی کے لوگ جیل میں بانی سے ملاقات کرنے نہیں ٹک ٹاک بنانے جاتے ہیں۔
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وادی تیراہ کو خالی کرنے کا نوٹیفکیشن 2 یا 3 دن میں واپس نہ لیا تو پوری پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا، مجھے ہٹانے کیلئے 3 آپشن ہیں ، گورنر راج لگایا جائے ، مجھے نااہل کیا جائے یا مجھے مار دیا جائے ،بندکمروں کے فیصلوں کو نہیں مانیں گے ۔مینگورہ میں سٹریٹ موومنٹ ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ تیراہ متاثرین اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں، اگر یہ نوٹیفکیشن واپس نہ لیا گیا اور اس پر معافی نہ مانگی گئی تو میں آفریدی قوم کا جرگہ بلاؤں گا، اس کے بعد پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا، اگر بات غلط ہوئی تو نقل مکانی کرنے والے متاثرین کو خود تیراہ لے کر جاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سے آکر پشاور میں پریس کانفرنس کی جاتی ہیں کہ سہیل آفریدی کا نام منظور نہیں۔
کسی ادارے کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے ، میرے نام پر کسی ادارے کو اعتراض نہیں کرنا چاہیے ، میرا نام میرے لیڈر نے دیا تھا کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے ، مجھے وزیراعلیٰ بننے سے روکنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا گیا، جب بیانیہ نہ بنا تو میرے بارے میں کہا گیا کہ یہ دہشت گردوں سے ملا ہوا ہے ،وزیراعلیٰ نے کہا کہ گورنر راج اور مجھے مارنے کیلئے عوامی حمایت کی ضرورت ہے ، خیبرپختونخوا کے عوام کا اعتماد مجھ پر ختم کرنا چاہ رہے ہیں، جب دہشت گرد اور سمگلر کا بیانیہ ناکام ہوا تو میرے علاقہ تیراہ میں آپریشن شروع کردیا گیا، وادی تیراہ آپریشن کیلئے 24 رکنی کمیٹی بنائی جس نے آپریشن کا فیصلہ کیا، تیراہ میں آپریشن کیلئے کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانیہ بنایا گیا کہ ہم فوج یا ادارے کے دشمن ہیں، ہم نہ فوج کے دشمن ہیں نہ اداروں کے ، بس جو بند کمروں میں فیصلہ کرتے ہیں ہم ان کی مخالفت کرتے ہیں، ہم ان فیصلوں اور منصوبوں کو نہیں مانیں گے جو بند کمروں میں ہوں۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہم نے فوجی جوانوں کے جنازوں میں شرکت کی اور اپنا کندھا دیا، اس کے بعد مجھے نہیں بلایا گیا نہ بلایا جاتا ہے ،ایک نوٹیفکیشن وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا، اب بیانیہ بنایا گیا ہے کہ عوام خود تیراہ چھوڑ کر جارہے ہیں، مجھے بتایا جائے کہ کیا یہ لوگ نواز شریف کے نواسے کی شادی پر جارہے تھے ؟، آخر انہوں نے اپنا گھر کیوں چھوڑا؟۔وزیراعلیٰ نے کہا جو اعلامیہ جاری کیا گیا ہے وہ صوبائی حکومت، اداروں اور وفاقی حکومت کے درمیان تصادم کا پروانہ ہے ، صوبائی حکومت کو ہدایت دیتا ہوں اداروں کے ساتھ رابطہ تحریری اور ثبوت کے ساتھ ہونا چاہیے ، بند کمروں کے فیصلے سے نقصان ہوتا ہے ،یہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں، تحریری رابطہ ہوگا تو یہ پیچھے نہیں ہٹ سکیں گے ، آئندہ اتوار کو تیراہ کا جرگہ بلایا جارہا ہے ، اس جرگہ میں لوگوں سے پوچھا جائے گا انہیں نکالا جارہا ہے یا خود آرہے ہیں، اگر لوگوں نے کہا کہ انہیں علاقے سے نکالا جارہا ہے تو ہم اپنے لوگوں کو خود تیراہ لے کر جائیں گے ، دو روز میں اعلامیہ واپس نہ لیا اور معافی نہ مانگی تو پوری پختون قوم کا جرگہ کروں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ ناممکن ہے ،خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانا ناممکن ہے اس لیے مجھے نااہل کرنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ صوبائی حکومت اور اداروں کے درمیان تصادم پیدا کرنے کی دانستہ کوشش کی جارہی ہے تاکہ خیبرپختونخوا حکومت کو بدنام کیا جا سکے ، انہوں نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاجب انہیں اطلاع ملی کہ فوج کا ایک جوان شہید ہوا ہے تو وہ اجلاس چھوڑ کر جنازے میں شریک ہوئے ، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اداروں کا احترام کرتے ہیں۔ وزیراعلی ٰسہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ آج کے بعد وفاقی حکومت سے ہونے والی ہر بات تحریری اور ثبوت کے ساتھ ہوگی، انہوں نے کہا سوات غیرتمندوں کی سرزمین ہے ، یہاں کے عوام خاموش تماشائی نہیں رہیں گے ۔انہوں نے کہا عوامی مقدمہ لڑنے پر مراد سعید کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا مگر ہم مراد سعید کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ وہ عوام کے حق میں ڈٹے ہوئے ہیں،عمران خان نے مذاکرات اور احتجاج کا اختیار محمود اچکزئی اور علامہ ناصر راجا کو دیا ہے اور اس بار احتجاج پوری تیاری اور حکمت عملی کے ساتھ کیا جائے گا۔
ادھر وزیر اعلیٰ کے پی کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ وادیٔ تیراہ سے لوگوں کے انخلاء سے متعلق وفاقی حکومت کا بیان بے بنیاد ہے ۔انہوں نے کہا کہ وفاق آپریشن کا ملبہ صوبائی حکومت پر ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے ۔شفیع جان نے کہا پوری قوم جان چکی ہے کہ وادیٔ تیراہ سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں، پوری قوم جان چکی ہے کہ وادیٔ تیراہ سے لوگ آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہیں،وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کی قومی اسمبلی میں تقاریر ریکارڈ پر موجود ہیں۔شفیع جان نے کہا وزیر ِاعلیٰ سہیل آفریدی وادیٔ تیراہ آپریشن کے حوالے سے اپنا مؤقف بارہا واضح کر چکے ہیں، صوبائی اسمبلی کے امن جرگے میں تمام سیاسی جماعتوں نے آپریشن کی مخالفت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ آپریشن پر صوبائی حکومت، سیاسی جماعتوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا، نقل مکانی کرنے والوں کیلئے 4 ارب روپے کے اجراء پر وفاقی حکومت کا بیان انتہائی مضحکہ خیز ہے ، صوبائی حکومت نے انخلاء کرنے والے متاثرین کو ریلیف دینے کیلئے بروقت فنڈز جاری کئے ۔