امریکی بحری بیڑہ مشرق وسطیٰ پہنچ گیا : لڑاکا طیارے اور فضائی دفاعی نظام بھی منتقل کیا جارہا، ایران پر حملے کیلئے اپنی حدود استعمال نہیں کرنے دینگے : متحدہ عرب امارات

امریکی بحری بیڑہ مشرق وسطیٰ پہنچ گیا : لڑاکا طیارے اور فضائی دفاعی نظام بھی منتقل کیا جارہا، ایران پر حملے کیلئے اپنی حدود استعمال نہیں کرنے دینگے : متحدہ عرب امارات

ایران کیخلاف فوجی کارروائی کیلئے امریکا کو اضافی صلاحیت حاصل، امریکی فوج کا خطے میں مشقیں کرنے کا اعلان، ایران میں کارروائی کو حزب اللہ پر حملہ تصور کیا جائیگا:نعیم قاسم اسرائیلی فضائی کمپنیوں کی مسافروں کو اپنی پروازیں منسوخ کرنیکی اجازت ،چینی وزیر خارجہ کی سیکرٹری جنرل او آئی سی سے ملاقات،متنازعہ مسائل کا سیاسی حل نکالنے پر زور

واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں )امریکی بحری بیڑہ مشرق وسطٰی پہنچ گیا، امریکی حکام کے مطابق ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور اس کے ساتھ معاون جنگی جہاز مشرقِ وسطیٰ پہنچنے سے صدر ٹرمپ کو امریکی افواج کے دفاع یا ممکنہ طور پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اضافی صلاحیت حاصل ہو گئی ہے ۔امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور کئی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز مشرقِ وسطیٰ کے اس خطے میں داخل ہو چکے ہیں جو امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ پینٹاگون مشرقِ وسطٰی میں لڑاکا طیارے اور فضائی دفاعی نظام بھی منتقل کر رہا ہے۔

امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ خطے میں ایک مشق کرے گی، جس کا مقصد فضائی جنگی طاقت کی تعیناتی، پھیلاؤ اور طویل عرصے تک آپریشن برقرار رکھنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہے ۔ایران کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ تہران کسی بھی حملے کو اپنے خلاف ہمہ گیر جنگ تصور کرے گا۔متحدہ عرب امارات نے پیر کو کہا کہ وہ اپنی فضائی ، زمینی یا بحری حدود کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔امریکی فوج کی الظفرہ ایئر بیس متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کے جنوب میں واقع ہے اور یہ داعش کے خلاف اہم کارروائیوں، نیز پورے خطے میں جاسوسی و نگرانی کی پروازوں کے لیے امریکی فضائیہ کا ایک کلیدی مرکز رہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فضائی کمپنیوں نے پیر کے روز خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث مسافروں کو اپنی پروازیں منسوخ کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ علاوہ ازیں چین کی وزارتِ خارجہ کے بیان اور سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق چین کے نائب صدر اور وزیر خارجہ نے پیر کو 57 رکنی اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی۔وزارتِ خارجہ کے مطابق مذاکرات میں وزیرِ خارجہ وانگ یی نے خطے میں سکیورٹی شراکت داری قائم کرنے اور متنازعہ مسائل کا سیاسی حل نکالنے پر زور دیا ۔مزید براں حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے پیر کو کہا کہ ایران پر کسی بھی حملے کو دراصل حزب اللہ پر حملہ تصور کیا جائے گا، انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کوئی نئی جنگ پورے خطے میں کشیدگی پیدا کر دے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں