دوسرے روز بھی وکلا ہڑتال، سینکڑوں کیسز بغیر کارروائی ملتوی

دوسرے روز بھی وکلا ہڑتال، سینکڑوں کیسز بغیر کارروائی ملتوی

وکلاء کی کثیر تعداد عدالتوں میں پیش ، ہڑتال بتا کرکیسز میں التواء بھی لیتے رہے پولیس افسروں کی ہائیکورٹ بار آمد، رویہ پر معذرت، بار کا ہڑتال ختم کرنیکا اعلان

 اسلام آباد(اپنے نامہ نگارسے )اسلام آباد ہائی کورٹ اورماتحت عدالتوں میں وکلاء ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری کے خلاف وکلاء کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری رہی، سینکڑوں کیسز پر سماعت بغیر کارروائی ملتوی کردی گئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران ہائیکورٹ کے داخلی گیٹ پرموجود نہیں تھے ، سٹاف پلے کارڈ اٹھائے کھڑا رہا۔ وکلاء کی کثیر تعداد عدالتوں میں پیش ہوتی رہی اور ہڑتال بتا کرکیسز میں التوا لیاجاتارہا۔ ادھر ڈسٹرکٹ بار کے تقریباً 30 فیصد وکلاء نے عدالتوں میں پیش ہوکر التوا مانگا 70 فیصد وکلاء عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بنے ، وکلاء نے پولیس اہلکاروں کو احاطہ عدالت میں داخل نہیں ہونے دیا۔ ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور اسلام آباد پولیس کے درمیان تنازع مذاکرات کے بعد حل ہو گیا۔ اعلیٰ پولیس افسران نے بار کا دورہ کیا جہاں ڈی آئی جی جواد طارق، ڈی آئی جی سکیورٹی عتیق بھی موجود تھے ۔ پولیس افسران نے صدر ہائی کورٹ بار واجد گیلانی اور سیکرٹری منظور ججہ سے وکلاء کے ساتھ پیش آئے رویے پر معذرت کی اور ایسے واقعات کی روک تھام کی یقین دہانی کرائی۔ منظور ججہ نے کہا بار اور پولیس کے درمیان باہمی احترام اور ادارہ جاتی ہم آہنگی ناگزیر ہے ۔ ہائی کورٹ بار نے اعلان کیا کہ تنازع کے حل کے بعد ہائیکورٹ بار، ڈسٹرکٹ بار اور اسلام آباد بار کونسل کی ہڑتال نہیں ہو گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں