پنجاب اسمبلی :مسودہ قانون ترمیم تنسیخ متروکہ املاک وبے گھر افرادپیش

پنجاب اسمبلی :مسودہ قانون ترمیم تنسیخ متروکہ املاک وبے گھر افرادپیش

اجلاس تاخیر سے شروع کرنے پر اپوزیشن کا خاموشی سے کھڑے ہوکر احتجاج ماں بیٹی گٹر میں گر گئیں شوہر نے شور مچایا تو پولیس نے گرفتار کر لیا ،اپوزیشن رکن

لاہور( سیاسی نمائندہ)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ بحث کے دوران ارکان نے خرچ کئے گئے بجٹ پر سوالات اٹھا تے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ڈھکوسلہ دیدیا گیا ہے کہ ہم نے سارا حساب آپ کے سامنے رکھ دیا ہے ، جبکہ ہمیں کچھ پتہ نہیں کہ کس شہر میں کس پراجیکٹ پر کتنے فنڈز لگے ہیں ،ہم ربڑ سٹمپ ہیں ،یہ نظام چل رہا ہے اورچلتا رہے گا، اجلاس میں مسودہ قانون ترمیم تنسیخ برائے متروکہ املاک وبے گھر افراد2026 ایوان میں پیش کر دیا گیا۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت کی بجائے ایک گھنٹہ 23 منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑکی صدارت میں شرو ع ہوا۔اجلاس تاخیر سے شروع کرنے پر اپوزیشن نے خاموشی سے کھڑے ہوکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

جس پر ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال نے یقین دہانی کرائی کہ میرا وعدہ ہے جب بھی میں اجلاس کی صدارت کروں گا اجلاس بروقت شروع ہوگا،چاہے ممبران آئیں یا نہ آئیں میں اجلاس وقت پر شروع کردوں گا۔اپوزیشن رکن احمر بھٹی نے تجویز دی کہ اجلاس روکنے سے عوام کا نقصان ہوتا ہے ،اجلاس کی کارروائی روکنے کی بجائے جو سیکرٹری نہ آئے اس کی ایک دن کی تنخواہ کاٹی جائے ۔پیپلز پارٹی کی رکن نرگس فیض نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ایک افسوس ناک واقعہ رونما ہوا جس میں ماں اور بیٹی کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوئی ہیں، یہاں ایوان میں اس کا ذکر بھی نہیں ہوا، ہم اتنا سوئے ہوئے ہیں؟۔جس پر ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ جی بالکل بہت افسوس ناک واقعہ ہے ۔بعد ازاں پینل آف چیئر پرسن سمیع اللہ خان نے چیئر سنبھال لی ۔

بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن رکن امتیاز محمود شیخ نے کہا کہ گزشتہ روز ایک ماں اور اس کی چھوٹی بچی گٹر میں گر جاتی ہے ،شوہر نے شور مچایا تو پولیس نے چھ گھنٹے کے لیے شوہر کو گرفتار کر لیا تاکہ گڈ گورننس کا پردہ چاک نہ ہو،اب پتنگ بازی پر نئی اختراع نکال لی ، کسی لیڈر کا نام لینے پر پابندی عائد کرنے سے کسی کا نام نہیں مٹتا،حکومت کی ساری توجہ سیمنٹ سریے پر رہی۔حکومتی رکن ذوالفقار علی شاہ نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پنجاب کی ترقی کے لئے تاریخ کی سب بڑی سرمایہ کاری کی لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کیا یہ پیسہ جو رکھا گیا وہ صحیح وقت ہر صحیح جگہ پر خرچ ہو رہا ہے یا نہیں ۔ریاست ملازمین کا احساس کرے ،انہیں ملازمت اور ریٹائرمنٹ کے فوائد دے ،نئے آنے والوں کو ریٹائرمنٹ نہ دیں پرانے ملازمین سے تو ریاست کا معاہدہ ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں