تھانہ میں مجھے قاتل ثابت کرنے کیلئے تشدد کیا گیا :غلام مرتضیٰ

تھانہ میں مجھے قاتل ثابت کرنے کیلئے تشدد کیا گیا :غلام مرتضیٰ

بیوی اور بیٹی کے گرنے کی اطلاع دینے گیا تھا :متوفیہ کے شوہر کا الزام انکوائری میں 3 پولیس افسر غفلت کے مرتکب قرار ،رپورٹ آئی جی کو ارسال

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ،سٹاف رپورٹر سے ) بھاٹی گیٹ کے قریب مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونیوالی خاتون کے شوہر نے الزام عائد کیا ہے کہ تھانہ میں مجھے بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کا اعتراف کرانے کیلئے تشددکیا گیا۔دوسری طرف پولیس کی ہائی پاور کمیٹی نے اپنی انکوائری رپورٹ میں 3 افسروں ایس پی سٹی، ایس ڈی پی او اور متعلقہ ایس ایچ او کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایس پی کی موجودگی میں متوفیہ سعدیہ کے شوہر پر ایس ایچ او کے ریٹائرنگ روم میں تشدد کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق بھاٹی گیٹ کے قریب مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونیوالی سعدیہ کے شوہر اور کمسن ردا فاطمہ کے والد غلام مرتضیٰ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ جب میں اپنی بیوی سعدیہ اور کمسن بیٹی رِدا فاطمہ کے سیوریج لائن میں گرنے کی اطلاع دینے تھانے گیا تو پولیس نے مجھے ہی حراست میں لے لیا، اپنی بیوی اور بیٹی کو اپنی آنکھوں سے مین ہول میں گرتے دیکھا، ایس پی اور ایس ایچ او نے کہا تم جھوٹ بول رہے ہو، پولیس نے میرا موبائل فون بھی لے لیا ،پولیس افسر مجھے کہتے رہے اعتراف کرو تم نے اپنی بیوی اور بچی کو قتل کیا ، پولیس افسر دونوں کا قتل زبردستی منوانا چاہتے تھے ، پولیس نے میرے ساتھ میرے کزن تنویر کو بھی پکڑا تھا۔

دوسری طرف پولیس کی ہائی پاور کمیٹی نے اپنی انکوائری رپورٹ مکمل کر لی۔ پولیس ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب کی ہدایت پر ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں قائم ڈی آئی جی احمد ناصر عزیز ورک اور ڈی آئی جی عمران کشور پر مشتمل تین رکنی کمیٹی کے ارکان نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، شواہد اکٹھے کئے اور عینی شاہدین ،متوفیہ سعدیہ کے اہلخانہ کے بیانات بھی ریکارڈ کئے ۔کمیٹی نے 3 افسروں ایس پی سٹی، ایس ڈی پی او اور متعلقہ ایس ایچ او کو غفلت کا مرتکب قرار دے دیا ۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ایس پی کی موجودگی میں متوفیہ سعدیہ کے شوہر پر ایس ایچ او کے ریٹائرنگ روم میں تشدد کیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق ہائی پاور کمیٹی نے تینوں افسروں کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے اپنی سفارشات آئی جی پنجاب کو بھجوا دی ہیں ۔

دوسری طرف واقعہ سے متعلق ایک اورتحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ واقعے کی رات ہائی لیول کمیٹی کے دورے کے باوجود 5 میں سے 4 مین ہولز کھلے رہے ،حادثے کے بعد بھی مین ہول کور نہ کئے گئے ،تحقیقات میں بتایا گیا کہ کھلے مین ہولز کے کور بنائے ہی نہیں گئے تھے ۔ انکوائری کمیٹی نے اس معاملے پر چیف انجینئر ٹیپا اور ایم ڈی واسا سے سخت پوچھ گچھ کی ۔واسا انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ انہوں نے ٹیپا کو متعدد بار خطوط لکھے مگر عملی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ دوسری جانب ٹیپا کا کہنا ہے کہ مین ہول تعمیر ہی نہیں ہوئے تھے تو کور کیسے لگائے جاتے ۔اب ٹیپا انتظامیہ نے بھاٹی گیٹ اپگریڈیشن پروجیکٹ پر حفاظتی انتظامات سخت کرتے ہوئے پورے تعمیراتی ایریا کے گرد دھاتی حفاظتی شیٹیں نصب کر کے عوامی رسائی مکمل طور پر بند کر دی ،ٹیپا کی ٹیم نے پروجیکٹ اور جائے حادثہ کا تفصیلی دورہ بھی کیا۔ دوسری جانب علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ کے قریب غیر قانونی پارکنگ سٹینڈ قائم تھا جو حادثے کا سبب بنا۔ انکوائری کمیٹی نے ذمہ داری کے تعین اور مزید کارروائی کی سفارش کر دی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں