امام بارگاہ میں بم دھماکا دشمن کی بوکھلاہٹ کا شاخسانہ

امام بارگاہ میں بم دھماکا دشمن کی بوکھلاہٹ کا شاخسانہ

ایک سنجیدہ سوال ہے کہ خودکش بمبار یہاں تک کیسے پہنچا؟

(تجزیہ:سلمان غنی)

اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں ہونے والا بم دھماکا دشمن کی بوکھلاہٹ اور جھنجھلاہٹ کا شاخسانہ ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور یہاں تیز ہوتی سفارتی سرگرمیاں ہیں،  جنہیں دشمن ہضم نہیں کر پا رہا تھا۔ اسی پس منظر میں اس نے اپنے روایتی ہتھیار، یعنی دہشت گردی کا سہارا لیتے ہوئے ایک خودکش بمبار کو یہاں بھیجا اور یہ سانحہ برپا کیا۔یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ خودکش بمبار یہاں تک کیسے پہنچا؟۔ یہ معاملہ اب حکومت اور ریاست دونوں کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے ۔ مزید یہ کہ یہ بھی جانچنے کی ضرورت ہے کہ دھماکے کیلئے اسی وقت کا انتخاب کیوں کیا گیا۔ یہ واقعہ کسی طور اتفاقی نہیں بلکہ مکمل طور پر اسٹرٹیجک تھا۔تجربہ بتاتا ہے کہ جب ریاست دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرتی ہے اور ان کے گرد گھیرا تنگ ہوتا ہے تو وہ ردِعمل میں شہروں، اہم مراکز اور حساس مقامات کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ یہاں امن موجود نہیں۔دہشت گرد ریاست کو پالیسی بدلنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ ان کی خام خیالی ہے ۔ ریاست کا واضح اور حتمی فیصلہ ہے کہ دہشت گردی کیلئے زیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رہے گی۔ یہی عناصر دراصل نہیں چاہتے کہ پاکستان کی معاشی صورتحال بہتر ہو یا یہاں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں۔موجودہ حالات میں یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ دہشت گردی ریاستی پالیسی پر اثر انداز ہو سکے ۔

اس کے برعکس، ریاست سافٹ انگیجمنٹ سے ہارڈ سکیورٹی اپروچ کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے ۔ اسلام آباد کے سانحے کے بعد سکیورٹی پالیسی مزید سخت ہونے کا امکان ہے ، جس کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں میں انٹیلی جنس آپریشنز میں تیزی اور وفاقی دارالحکومت کے گرد حفاظتی اقدامات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔اس واقعے کے بعد سفارتی محاذ پر بھی غور و خوض جاری ہے ۔ افغان سرزمین کے استعمال سے متعلق شواہد کی روشنی میں سخت سفارتی پیغام دینا ناگزیر دکھائی دیتا ہے ، کیونکہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر گروپس افغان سرزمین کو مسلسل استعمال کر رہے ہیں۔ پختونخوا میں ہونے والی بیشتر دہشت گردی کے تانے بانے بھی وہیں سے ملتے ہیں، اور اب یہ سلسلہ وفاقی دارالحکومت تک آن پہنچا ہے ۔ماہرین کے مطابق اس حملے میں افغانستان فیکٹر، ٹی ٹی پی اور بھارت کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے وقت میں جب ازبکستان کے صدر اسلام آباد میں موجود تھے اور دوطرفہ معاہدے ہو رہے تھے ، اس ٹائمنگ کو خاص طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے ۔یہ حملہ دراصل بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں اور سینکڑوں دہشت گردوں کے انجام تک پہنچنے کا ردِعمل بھی ہو سکتا ہے ۔ حالیہ دنوں میں پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں درجنوں دہشت گرد مارے گئے ، جس سے یہ عناصر شدید دباؤ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں