اسلام آباد دھما کے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی،ماسٹر مائنڈ زیر حراست،تعلق داعش سے ہے،فنڈنگ اور ٹارگٹ بھارت دے رہا:حالت جنگ میں ہیں:وزیر داخلہ
حملے کے ماسٹر مائنڈ سمیت 4سہولت کار خیبرپختونخوا سے گرفتار کرلئے ،چھاپوں کے دوران ایک اے ایس آئی شہید ،بھار ت نے دہشت گردوں کی معاونت کیلئے مختص بجٹ 3 گنا بڑھا دیا اگر ایک دھماکا ہوتا ہے تو 99 دوسرے روکے جارہے ، دہشت گردی علاقائی خطرہ ، دنیا آوازاٹھائے ، جب ان کے جنازے اٹھیں گے تو یہ کہیں گے یہ بھارت کرا رہا ہے :محسن نقوی
اسلام آباد(خصوصی رپورٹر ،خصوصی نیوز رپورٹر،نمائندگان دنیا)وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کاکہناہے کہ اسلام آباد خودکش دھماکے نے ہم سب کو ہلا کر رکھ دیا،حملے کی منصوبہ افغانستان میں ہوئی اور بھارت ان دہشت گردوں کے پیچھے ہے ، جو فنڈنگ کرتا اور ٹارگٹ دے رہاہے ۔ ایک دن ساری دنیا بولے گی کہ دہشتگردی کے پیچھے بھارت ہے ،حملے کے ماسٹر مائنڈ کا تعلق کالعدم داعش سے ہے اوروہ زیرحراست ہے ، واقعہ سے منسلک تمام لوگوں کو پکڑ لیا ،پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے مارے گئے ، خیبرپختونخوا ہو یا بلوچستان ،ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں۔قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے اسلام آباد خودکش دھماکے کے ماسٹر مائنڈ سمیت 4سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا، چھاپوں کے دوران ایک اے ایس آئی شہید ہوا، جبکہ ہسپتال میں داخل دھماکے کے زخمیوں میں سے ایک اور شہری شہید ہوگیا جس سے شہد اکی تعداد 33ہوگئی،شہید ہونیوالوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس اورسیف سٹی اجلاس میں گفتگوکرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہاکہ خودکش حملے میں معاونت کرنیوالے چار افراد کو خیبر پختونخوا سے گرفتار کیاگیا،جن میں سے ایک حملے کا مرکزی منصوبہ ساز ہے ۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں بشمول اسلامی اسٹیٹ (داعش)کو مالی معاونت میں کئی گنا اضافہ کیااوراس مقصد کیلئے مختص خفیہ بجٹ 3 گنا کر دیا ہے ، جو دہشت گرد 500 ڈالر وصول کر رہا تھا اب وہ 1500ڈالر لے رہا ہے ۔ پاکستان کے ہاتھوں مئی میں شکست کے بعد بھارت نے اس کیلئے اپنا دفاعی بجٹ بھی3 گنا کر دیا ہے ۔وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد خودکش دھماکا سمیت حالیہ دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اورتربیت داعش اٖفغانستان نے کی ،اس بات سے پاکستان کے دیرینہ موقف کو تقویت ملتی ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگردوں کی پناہ گاہیں براہ راست خطرہ ہیں۔
وزیرداخلہ نے تصدیق کی کہ سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں راتوں رات چھاپے مار کرترلائی کلاں خو د کش حملے کے ماسٹرمائنڈ افغان شہری کو گرفتار کیا اوراس کے سہولت کار تین ساتھی بھی زیرحراست ہیں ۔جمعہ کے روز دھماکے کے فوراً بعد کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)اور خیبر پختونخوا پولیس کے مشترکہ آپریشنز کا آغاز کیا گیا،اس آپریشن میں نوشہرہ کینٹ تھانہ کے اے ایس آئی اعجاز خٹک شہید ہوئے جبکہ تین اہلکارفائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہوگئے ،یہ واقعہ ایک ٹیسٹ کیس تھاجس کیلئے ایجنسیوں کا معترف ہوں ۔وزیر داخلہ نے کہا کہ حملے کی فنڈنگ اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی بھارت سے ہوئی ،کالعدم داعش اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)جیسی دہشت گرد تنظیمیں سرحد پار سے ملنے والی حمایت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں،بھارت انہیں فنڈز اور ہدف دے رہا ہے ۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ میں دوبارہ وضاحت سے کہتا ہوں کہ ان کی تمام فنڈنگ بھارت سے آ رہی ہے ۔ محسن نقوی نے عوامی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ کی حالت میں کمیونٹی کی انٹیلی جنس انتہائی اہم ہے ۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں مشکوک افراد کی رپورٹ کریں۔سکیورٹی ناکامیوں پر سوالات کے جواب میں محسن نقوی نے ایجنسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ متعدد ممکنہ حملوں کو ناکام بنا دیا جاتا ہے ،اگر ایک دھماکا ہوتا ہے ، تو 99 دوسرے ناکام ہو رہے ، ان کا کہناتھا کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے پناہ گزین براہ راست خطرہ ہیں ۔وزیرداخلہ نے کہا ایجنسیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ناکام بنائے گئے منصوبوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے پر غور کریں تاکہ ان کی کوششوں کا اندازہ ہو سکے ۔
اس وقت 21 دہشت گرد تنظیموں کے سیٹ اپ، کوئی بھی دہشت گرد تنظیم کا نام لیں، وہ افغانستان سے کام کر رہی ہے ۔محسن نقوی نے کہاکہ دہشت گردی علاقائی خطرہ ہے ، دنیا کو آوازاٹھانی چاہئے ، دنیا کو دیکھنا چا ہئے یہ جنگ کہیں اور چلی گئی تو کس کا نقصان ہو گا، جب ان کے جنازے اٹھیں گے تو یہ کہیں گے یہ بھارت کرا رہا ہے ، ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور اپنوں کے جنازے اٹھا رہے ہیں۔ دشمن دشمن ہے ، دشمن کی کیٹیگریز نہیں بنتیں، پاکستان کے خلاف جنگ کرنے والوں کو کیٹیگریز میں تقسیم نہ کریں، دنیا نے آواز نہیں اٹھائی تو دیکھ لے اس کا نقصان کتنا ہوگا، دہشت گرد تنظیمیں مل کر کارروائیاں کررہی ہیں،ہم قوم کے تعاون سے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بناتے رہیں گے ۔دوسری طرف ذرائع کا کہناہے کہ خودکش حملہ آور کا نام یاسرہے اوروہ پشاور کا رہائشی تھا، راولپنڈی کے علاقے میں سہولت کاری کرنے والے بھی گرفتار کرلئے گئے ۔
خودکش حملہ آور نے حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، حملہ آور ایک ہفتہ پہلے بھی مسجد سے ہوکر گیا، خودکش بمبار افغانستان چار مہینے رہ کر آیا، شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد بھی لی گئی۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق خود کش بمبار نے مسجد میں گھسنے سے پہلے فائرنگ کی ،اس نے راستے میں 2،اندر داخل ہوکر6گولیاں چلائیں جن کے خول جائے وقوعہ سے مل گئے ، فائرنگ کے بعد حملہ آور نے مسجد کے ہال میں جا کر خود کو اڑا لیا۔حملہ آور نے 4 سے 6 کلو بارودی مواد استعمال کیا، جب کہ بال بیرنگز کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ شہید اے ایس آئی اعجاز خٹک کا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال نوشہرہ میں پوسٹ مارٹم کیاگیا اورپولیس لائن میں نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں 11 شہدا جبکہ امام بارگاہ جامع صادق میں 3 شہداء کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی جبکہ کل 33 شہدا کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق پمز میں زیرعلاج دھماکے کا ایک اور زخمی دم توڑ گیا جس کے بعد شہادتوں کی تعداد 33 ہوگئی ہے ،جن کی میتیں لواحقین کے حوالے کردی گئی ہیں ۔