3روزہ بسنت میلہ ختم،آج سے پتنگ بازی پر دوبارہ پابندی،شاباش لاہوریو،اعتماد کی لاج رکھی:مریم نواز
محفوظ بسنت کا تصوردوسرے شہروں میں بھی اپنایا جائیگا،وزیراعلیٰ کا بسنت کے موقع پر حفاظتی ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے پر اہل لاہور کو خراج تحسین لاہور میں 9لاکھ گاڑیو ں کی انٹری،اورنج ٹرین اورسرکاری بسوں پر 14لاکھ افراد کا فری سفر ،چھت سے گرنے اورکرنٹ لگنے سے صحافی سمیت 5جاں بحق،10زخمی
لاہور(سٹاف رپورٹر،نیوزایجنسیاں) 3روزہ بسنت بہار میلہ ختم،آج سے پتنگ بازی پر دوبارہ پابندی کردی گئی ،وزیراعلی ٰنے بسنت کے موقع پر حفاظتی ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے پر اہل لاہور کو خراج تحسین کیا کہا کہ شاباش لاہوریو آپ نے میرے اعتماد کی لاج رکھی ،آپ کی طرح میں بھی بہت خوش ہوں،محفوظ بسنت کا تصویر دوسرے شہروں میں بھی اپنا یا جاسکتاہے ۔بسنت بہار،لاہور میں 3روز کے دوران 9لاکھ گاڑیو ں کی انٹری ایک ریکارڈ ہے ،اورنج لائن،میٹروبس، فیڈربس، الیکٹروبس اور دیگر سرکاری بسوں پر 2روز میں تقریباً 14لاکھ مسافروں نے سفر کر کے نیا ریکارڈ بنا دیاہے -وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی زیرِ نگرانی خصوصی ویڈیو لنک اجلاس منعقدہوا،جس میں سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بسنت کی دو روزہ رپورٹ پیش کی- ہوم سیکرٹری احمد جاوید قاضی، کمشنر، ہیلتھ، پی ایچ اے ، پولیس اور سکیورٹی حکام نے تفصیلی بریفنگ دی ،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بسنت کے انتظامات اور سکیورٹی اقدامات پر اطمینان کااظہارکیااورکہاکہ اتوار بسنت میلے کا آخری روز تھا، رات کو پتنگ بازی بند کر دی گئی۔
تین روزہ بسنت فیسٹیول کے اختتام پر پتنگ بازی پر پابندی برقرار رہے گی۔بسنت فیسٹیول کے دوران لاہور کے شہریوں کا تعاون بھی قابل تحسین ہے ۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اورنج لائن میٹروٹرین پر جمعہ کو 2لاکھ99ہزار، ہفتے کو 3لاکھ 5ہزار، مجموعی طورپر 2رو ز میں 6لاکھ سے زائد مسافروں نے مفت سفر کیا، میٹر وبس پر جمعہ کو ایک لاکھ 43ہزار،ہفتے کو ایک لاکھ 35ہزار مجموعی طور پر 2لاکھ 78ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا -سپیڈو فیڈر بسوں پر جمعہ کو ایک لاکھ 74ہزار،ہفتے کو ایک لاکھ 82ہزار مجموعی طور پر 3لاکھ 56ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا -الیکٹروبس فیڈر روٹس پر جمعہ کو 15ہزار، ہفتے کو 15ہزار مجموعی طور پر 30ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا -ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے تحت مہیا کردہ بسوں پر جمعہ کو 30ہزار ہفتہ کو30ہزار مجموعی طورپر 60 ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا -گرین الیکٹرو بسوں پر جمعہ کو 25ہزار،ہفتے کو 27ہزارمجموعی طورپر 52ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا -بریفنگ کے دوران مزید بتایا گیاکہ لاہور میں عوام کے مفت سفر کے لئے 419 بسیں آخری دن بھی میسر رہیں۔
بسنت کے موقع پر عوام کو فری رائیڈز د ی گئیں -اورنج لائن میٹروٹرین گزشتہ رات تک مسافروں کو مفت سفر کی سہولت مہیا کرتی رہی۔ گزشتہ روز بھی میٹروبس، فیڈر بسیں، گرین بسیں فری ٹریول کی سہولت مہیا کر تی ر ہیں، 6ہزار Yango رکشوں پر حکومت کی طرف سے فری رائیڈ ز دی گئیں ،وزیراعلیٰ نے پتنگ بازی کے اوقات گزشتہ رات بارہ بجے سے صبح 5بجے تک کیلئے بڑھا یا ،آج صبح پانچ بجے کے بعد پتنگ بازی پر دوبارہ پابندی عائد کردی گئی۔قبل ازیں وزیراعلیٰ مریم نواز نے میڈیامیسیج میں لاہوریوں کو شاباش دی ہے ،وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے بسنت کے موقع پر حفاظتی ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے پر اہل لاہور کو خراج تحسین پیش کیاہے ، خوشی ہے کہ لاہور والو ں نے ہمارے اعتماد کی لاج رکھی ہے ۔
لاہور آج بہت خوش ہے ،میں بھی بہت خوش ہوں ،وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہاکہ الحمد للہ لاہور والوں نے قواعدو ضوابط پر عمل کر کے محفوظ بسنت منانے میں اہم کردار ادا کیاہے ،خوش و خرم مگر محفوظ بسنت کا تصور پوری طرح اپنایا گیا،کھابے کھائے گئے ،پیچوں پر پیچ لڑائے گئے ، ہوا کے جوش پر پتنگوں کی آنکھ مچولی ہوتی رہی، یہی خوشی ہے ،مقررہ سائزاور مقررہ پنے کے علاوہ ممنوعہ ڈور استعمال کرنے کی اطلاعات نہیں ملیں ،وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہاکہ چھتوں پر ایس او پیز کے مطابق محفوظ بسنت منائی گئی،لاہور بھر میں دھاتی تار استعمال نہ ہونے کی وجہ سے ٹرانسفارمر بھی محفوظ رہے ،چھتوں پر اللہ تعالی کے فضل وکرم سے پیشگی اقدامات موثرثابت ہوئے ،وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہاکہ سیف بسنت کا تصور لاہور کے بعد دوسرے شہروں میں بھی اپنایا جائے گا۔
لاہور(کرائم رپورٹر )لاہور کے مختلف علاقوں میں بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کے دوران پیش آنے والے حادثات میں کمسن بچوں اور ایک صحافی سمیت 5 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ مختلف علاقوں میں 10افراد زخمی ہو گئے ۔ بسنت کے تیسرے روز صحافی زین پتنگ بازی کرتے ہوئے پائوں پھسلنے سے چھت سے نیچے جاگرا۔ زین کو فوری طبی امداد کے لئے تشویشناک حالت میں منشی ہسپتال روانہ کیا گیا ۔ زین شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا ۔ زین کے سر اور ہڈیوں کو شدید چوٹیں آئیں جس کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکا ۔زین کی لاش کو ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔صبح دس بجے گلشن راوی قبرستان میں جاں بحق ہونے والے زین کو سپرد خاک کیا جائے گا۔اسکے علاوہ لوئر مال کے علاقے بلال گنج میں پتنگ اڑاتے ہوئے 16 سالہ نوجوان چھت سے گر کر شدید زخمی ہو گیا۔ زخمی کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ جاں بحق نوجوان کی شناخت عبداللہ کے نام سے ہوئی ہے جو سیالکوٹ سے بسنت منانے لاہور آیا تھا۔دوسرا افسوسناک واقعہ شاہدرہ کے علاقے بارہ دری روڈ پر پیش آیا جہاں 10 سالہ عمار پتنگ لوٹتے ہوئے گھر کی چھت سے گر کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ پولیس کے مطابق بچے کی لاش ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ ڈیفنس کے علاقے میں پتنگ کی ڈور پھرنے سے ایک بچہ زخمی ہو گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق زخمی بچے کی شناخت زین کے نام سے ہوئی ہے جو سائیکل چلا رہا تھا کہ اچانک ڈور اس کے گلے پر پھر گئی۔ بچے کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کے گلے پر ٹانکے لگائے گئے ، پولیس کے مطابق زخمی بچے کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔ باغبانپورہ کے علاقے اقبال کالونی میں پتنگ لوٹتے ہوئے دھاتی تار کے کرنٹ لگنے سے 32 سالہ سلیمان جاں بحق ہو گیا۔ ایدھی ترجمان کے مطابق سلیمان کرنٹ کی زد میں آ کر موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ گزشتہ 3 روزکے دوران پتنگ کی ڈور سے 40 افراد زخمی ہو چکے ہیں جن کو ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جبکہ 40 سے زائد ایسے ہیں جو پتنگ کی ڈور سے معمولی زخمی ہوئے ہیں۔