پاسداران انقلاب:چھوٹے افسروں کو پڑوسی ممالک پر حملوں کا اختیار

پاسداران انقلاب:چھوٹے افسروں کو پڑوسی ممالک پر حملوں کا اختیار

اعلیٰ کمانڈرزکی ہلاکت کے بعد پاسداران انقلاب نے سخت گیر حکمت عملی اپنالی سختی احتجاج کو مشکل بنا ئے گی ،امریکااور اسرائیل کی بغاوت کی امید کمزورہوگی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ کے رہبر اعلیٰ بننے سے پاسداران کا کردار مضبو ط ہوگا

دبئی (رائٹرز)ذرائع کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب نے اعلیٰ کمانڈروں کی ہلاکت کے باوجود جنگی فیصلوں پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی ہے اور ایک سخت گیر  حکمتِ عملی اپنا ئی ہے جو تہران کی خطے بھر میں ڈرون اور میزائل مہم کو آگے بڑھا رہی ہے ۔قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے خدشے کے پیشِ نظر، پاسداران نے ہفتے کے روز ہونے والے امر یکی اسرائیلی حملے سے قبل ہی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کر دئیے تھے ، یہ ایک لچک پیدا کرنے والی حکمتِ عملی تھی تاہم اس سے غلط اندازے یا وسیع تر جنگ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے کیونکہ درمیانی درجے کے افسران کو پڑوسی ممالک پر حملوں کا اختیار دیا گیا ہے ۔ بدھ کے روز ایران نے ترکی پر حملہ کیا، جو نیٹو کا رکن ملک ہے ۔ایران کے اندر بھی پاسداران کا نظام کے ہر سطح پر مرکزی کردار اور سکیورٹی کے معاملے میں سخت گیر طرزِ عمل احتجاجوں کے اُبھار کو مزید مشکل بنا سکتا ہے ، یوں امریکہ یا اسرائیل کی یہ امید کمزور پڑ سکتی ہے کہ ان کے حملے سے کوئی بغاوت بھڑکے گی یا نظام میں تبدیلی آئے گی۔

امریکا میں موجو  نے کہا ہفتے کے روز آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد اگلے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب سے بھی پاسداران کے کردار کو مزید مضبوطی مل سکتی ہے ۔ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ، جنہیں ممکنہ امیدوار سمجھا جاتا ہے ، پاسداران کے ساتھ نہایت قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ وہ ان پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور انہیں وسیع حمایت حاصل ہے ، جس میں زیادہ سخت گیر جونیئر اہلکار بھی شامل ہیں۔ ایک سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ پاسداران کے نئے سربراہ احمد وحیدی ہر اعلیٰ سطح اجلاس میں موجود ہوتے ہیں اور ان کا اولین مقصد ہمیشہ ایران کے اسلامی انقلابی نظام اور اس کے اہداف کا تحفظ ہوتا ہے ۔سپاہ پاسداران اسلامی 1979 کے ایرانی انقلاب کے فوراً بعد قائم کی گئی تاکہ نئی جمہوریہ کو داخلی اور خارجی دشمنوں سے محفوظ رکھا جا سکے اور باقاعدہ مسلح افواج کے مقابل توازن قائم کیا جا سکے ۔رہبرِ اعلیٰ کو براہِ راست جواب دہ یہ فورس وقت کے ساتھ ایک ریاست کے اندر ریاست کی صورت اختیار کر چکی ہے ، جو فوجی طاقت، انٹیلی جنس نیٹ ورک اور معاشی قوت کو یکجا کرتے ہوئے ایران کے اسلامی نظامِ اقتدار کے تحفظ پر مرکوز ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں